سورہ ابراہیم (14): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ibrahim کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ ابراهيم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ ابراہیم کے بارے میں معلومات

Surah Ibrahim
سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ
صفحہ 259 (آیات 25 سے 33 تک)

تُؤْتِىٓ أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍۭ بِإِذْنِ رَبِّهَا ۗ وَيَضْرِبُ ٱللَّهُ ٱلْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ ٱجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ ٱلْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ يُثَبِّتُ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱلْقَوْلِ ٱلثَّابِتِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ ۖ وَيُضِلُّ ٱللَّهُ ٱلظَّٰلِمِينَ ۚ وَيَفْعَلُ ٱللَّهُ مَا يَشَآءُ ۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ بَدَّلُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا۟ قَوْمَهُمْ دَارَ ٱلْبَوَارِ جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا ۖ وَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ قُل لِّعِبَادِىَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُنفِقُوا۟ مِمَّا رَزَقْنَٰهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ يَوْمٌ لَّا بَيْعٌ فِيهِ وَلَا خِلَٰلٌ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجَ بِهِۦ مِنَ ٱلثَّمَرَٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْفُلْكَ لِتَجْرِىَ فِى ٱلْبَحْرِ بِأَمْرِهِۦ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلْأَنْهَٰرَ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلشَّمْسَ وَٱلْقَمَرَ دَآئِبَيْنِ ۖ وَسَخَّرَ لَكُمُ ٱلَّيْلَ وَٱلنَّهَارَ
259

سورہ ابراہیم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ ابراہیم کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

ہر آن وہ اپنے رب کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tutee okulaha kulla heenin biithni rabbiha wayadribu Allahu alamthala lilnnasi laAAallahum yatathakkaroona

اردو ترجمہ

اور کلمہ خبیثہ کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamathalu kalimatin khabeethatin kashajaratin khabeethatin ijtuththat min fawqi alardi ma laha min qararin

اردو ترجمہ

ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیا اور آخرت، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yuthabbitu Allahu allatheena amanoo bialqawli alththabiti fee alhayati alddunya wafee alakhirati wayudillu Allahu alththalimeena wayafAAalu Allahu ma yashao

اردو ترجمہ

تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفران نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam tara ila allatheena baddaloo niAAmata Allahi kufran waahalloo qawmahum dara albawari

درس نمبر 115 تشریح آیات

28 ۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 52

سورة ابراہیم کا یہ دوسرا دور ہے ۔ یہ بھی دور اول کے مضامین ہی کو لیے ہوئے ہے اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ پہلے حصے کا مضمون یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اسی لئے بھیجا گیا تھا کہ آپ اپنی قوم کو اندھیروں سے روشنیوں کی طرف نکال لائیں اور ان کو یہ نصیحت کریں کہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہوتا ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر بڑا فضل و کرم کیا ہے اور اعلان کردیا ہے کہ اگر تم نے شکر کیا تو میں تمہارے اوپر انعامات میں اضافہ کردوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو میرا عذاب سخت ہے۔ اس کے نبیوں کے حالات اور ان کی تکذیب کرنے والے سرکشوں کا انجام دیا گیا ہے۔ یہ قصہ شروع ہوا اور پھر سیاق سے غائب ہوگیا۔ اس کی مختلف کڑیاں آتی رہیں اور مختلف مناظر بھی آتے رہے۔ یہاں تک کہ کافر قیامت کے میدان تک پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے شیطان کا وعظ سنا لیکن یہ بعد از وقت تھا۔ قیامت میں وعظ چہ معنی وارد۔

رسولان کرام کی یہ طویل کہانی اسٹیج کرنے کے بعد اب بات حضرت محمد ﷺ اور آپ کی قوم تک آپہنچتی ہے کہ اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا کہ لوگوں کو ظلمات سے نکال کر روشنیوں میں داخل کرے اور یہ اللہ کا بہت بڑا انعام تھا اور رسول اللہ تمہیں بلاتے ہیں کہ اللہ تمہیں بخش دے گا مگر تمہارا رد عمل بھی یہی ہے کہ تم اس نعمت کی ناشکری کرتے ہو اس دعوت کا انکار کرتے ہو اور کفر کو اختیار کرتے ہو اور تم رسول اللہ ﷺ اور اس کی دعوت پر کفر اور نا شکری کو ترجیح دیتے ہو۔

اس کے بعد پوری انسانیت پر اللہ کے انعامات و اکرامات گنوائے جاتے ہیں۔ اور اس پر کھلے کائناتی مناظر سے مثالیں دی جاتی ہیں اور اللہ کی نعمت کے شکر کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جنہوں نے لوگوں کو یہ دعوت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ اللہ کے بندوں کے ساتھ نیکی کرو ، قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں نہ مالی فوائد ہوں گے اور نہ خریدو فروخت ہوگی اور وہ دوستی یاری ہوگی۔

سوال یہ تھا کہ اللہ ان کافروں کو پکڑتا کیوں نہیں ؟ اللہ نے ان کے معاملے کو نہ یونہی مہمل چھوڑ دیا ہے اور نہ اللہ غافل ہے بلکہ اللہ ان کے معاملے کو اس دن کے عذاب کے لئے مؤخر کر رہا ہے جس میں نظریں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی ۔ رہی یہ بات کہ اللہ نے رسولان کرام کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے وہ پورا ہو کر رہنے والا ہے اگرچہ کفار مکر کریں اور اگرچہ ان کا مکر اس قدر عظیم ہو کہ بڑے بڑے پہاڑوں کو بلا مارنے والا ہو۔ یوں یہ دوسرا حصہ بھی پہلے حصے سے مربوط اور مسلسل ہوجاتا ہے۔

آیت نمبر 28 تا 30

کیا ہی عجیب صورت حال ہے ، کہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی صورت میں کسی قوم کو ایک عظیم نعمت سے نوازا ہے۔ یہ رسول ایک عظیم دعوت کا حامل ہے۔ یہ ایمان اور عمل صالح کی طرف دعوت ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری قوم فلاح و مغفرت حاصل کرسکتی ہے اور جنت میں داخل ہو سکتی ہے ، لیکن قوم ہے کہ ان نعمت کو ہاتھوں ہاتھ لینے کے بجائے کفر کو لے رہی ہے ، اور اس قوم کے قائد جن کے ہاتھ میں جاہل عوام کی باگ ڈور ہے وہ قوم کی قیادت جنت کے بجائے ہلاکت کے گڑھے کی طرف کر رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر قوم کی حالت یہی ہوتی ہے ۔ اس کے اٹھانے والے اور اس کے گرانے والے قائدین ہی ہوتے ہیں۔ حضرت محمد ﷺ کی قوم کے قائدین بھی لوگوں کو جہنم کے دہانے تک پہنچانے کے بعد اس میں گرانے اور ٹھہرانے کا انتظام کر رہے ہیں جیسا کہ پہلے انبیاء کے مخالف جاہلیت زدہ قائدین نے اپنی قوم کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔ جس طرح ان لوگوں نے اپنی اقوام کا برا حشر کیا ، اسی طرح اہل مکہ بھی یہی کر رہے ہیں۔

کسی قوم کے قائدین کا یہ عجیب فعل ہوتا ہے ، حالانکہ انہوں نے زمانہ ما قبل کی اقوام کی تاریخ کو پڑھا اور دیکھا ہوتا ہے۔ اگر نہیں دیکھا تھا اور پڑھا تھا تو قرآن نے یہ انجام ان کے سامنے کس قدر موثر ، ڈرامائی انداز میں اسٹیج کیا ہے۔ ابھی ابھی اس کے مناظر نظروں سے گزرے ہیں ، اور یہ مناظر اس قدر دلچسپ تھے کہ گویا (Living) تھے اور عنقریب وہ ان کو عملاً اسی طرح دیکھیں گے ۔ کیونکہ نصوص قرآن وہی مناظر پیش کرتی ہیں جو ہونے والے ہیں۔ صرف یہ ہے کہ قرآن ان کو اس قدر موثر اور دلنشیں انداز میں پیش کرتا ہے کہ گویا واقع ہوگئے ہیں۔ غرض ان لوگوں کے طرز عمل میں تعجب انگیز پہلو یہ ہے کہ اس نعمت کے بدلے وہ کفر خرید رہے ہیں اور جس توحید کی دعوت ان کو دی جا رہی ہے اس کا انکار کر رہے ہیں۔

وجعلوا ۔۔۔۔۔۔ عن سبیلہ (14 : 30) “ اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کئے ہیں تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے بھٹکا دیں ”۔ یعنی یہ اللہ کے ساتھ دوسری شخصیات کو برابر کرتے ہیں اور ان کی عبادت اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان کی حاکمت کو اسی طرح تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا جاتا ہے۔ ان دوسری شخصیات میں اس طرح خصیوصیات تسلیم کرتے ہیں جس طرح اللہ کی خصوصیات ہیں حالانکہ اللہ کا کوئی شریک اور مثل نہیں ہے۔ انہوں نے اللہ کے ساتھ یہ شریک اس لیے ٹھہرائے ہیں تا کہ لوگوں کو اللہ وحدہ اور صراط مستقیم سے بد راہ کردیں ، کیونکہ اللہ کی راہ کے سوا وہ اور جن راہوں پر چلیں گے وہ شیطانی راہیں ہوں گی۔

اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ قوم کے کبراء اور لیڈروں نے عمداً اس قوم کو اللہ کی راہ سے بدراہ کیا اور اللہ کو الٰہ واحد قرار دینے کے بجائے لوگوں کو دوسرے الہٰوں کی قیادت میں دے دیا۔ یہ کیوں ؟ اس لیے کہ ان دوسرے الہٰوں کے روپ میں یہ لوگ اپنی قیادت اور سیادت بھی چمکاتے تھے جبکہ عقیدۂ توحید ہر سرکش ڈکٹیٹر کی قیادت کے لئے اور اس کے مفادات کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ ہر زمانے اور ہر سوسائٹی میں طاغوتی قوتوں کا یہی رویہ ہوتا ہے جس طرح زمانہ سابقہ کی جاہلیتوں میں یہی صورت رہی اسی طرح دور جدید کی جاہلیت میں بھی یہی صورت ہے کہ لوگ کسی نہ کسی صورت میں عقیدۂ توحید کو چھوڑ کر اپنی قیادت کسی طاغوتی قوت کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ دور جدید میں لوگ اپنی حریت اور آزادی ایسے ہی طاغوتی الہٰوں کے ہاتھ میں دے دیتے ہیں۔ ان کی خواہشات کے مطابق چلتے ہیں ، ان سے قانون اور شریعت اخذ کرتے ہیں ، اور اللہ کے قانون کے بجائے ان کبراء سے قوانین اور ہدایات اخذ کرتے ہیں۔ اللہ کی توحید کے نظریہ کو جب اس مفہوم تک وسعت دی جاتی ہے کہ حاکم بھی اللہ ہے ، اور قانون ساز بھی اللہ تو دور جدید کے لیڈر بھی جاہلیت اولیٰ کی طاغوتی قوتوں کی طرح تحریک اسلامی کے خلاف میدان میں آجاتے ہیں۔ یہ تحریک اسلامی کو اپنی خدائی کے خلاف خطرہ سمجھتے ہیں اور اسے پھر ہر طریقے سے بچانے کی سعی کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح لوگ آج پارلیمنٹ یا آرڈیننس کے ذریعہ غیر اللہ سے قانون اخذ کرتے ہیں ، جو اللہ کے احکام کے خلاف ہوتے ہیں ، بلکہ اللہ کے حرام کو حلال کرتے ہیں اور اللہ کے حلال کردہ کو حرام کرتے ہیں تو یہ لوگ بھی دراصل شرک کرتے ہیں اور ایسے لیڈر اور قانون ساز اللہ کے شریک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور یوں لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ آپ بھی اپنی قوم کو صاف صاف کہہ دیں کہ مزے کرلو ، تمہارے چند دن ہیں ، جب یہ مہلت ختم ہوگی تو تم اور تمہاری ایسی قیادت سب واصل جہنم ہوگی۔

اے پیغمبران کو اپنے اس حال پر چھوڑ دے اور اب میرے بندوں کو وعظ دیں جو ایمان لا چکے ہیں ، جو اللہ کی اس نعمت کی قدر کرتے ہیں اور انکار نہیں کرتے۔ اللہ کی نعمت کو کفر کے بدلے نہیں بیچتے ، کہ وہ میرا شکر ادا کریں ، میری عبادت کریں اور اطاعت کریں۔ ان کفار کو چھوڑ کر آپ اپنی پوری توجہ اہل اسلام کو دیں۔

اردو ترجمہ

یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بد ترین جائے قرار ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Jahannama yaslawnaha wabisa alqararu

اردو ترجمہ

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WajaAAaloo lillahi andadan liyudilloo AAan sabeelihi qul tamattaAAoo fainna maseerakum ila alnnari

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے کھلے اور چھپے (راہ خیر میں) خرچ کریں قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul liAAibadiya allatheena amanoo yuqeemoo alssalata wayunfiqoo mimma razaqnahum sirran waAAalaniyatan min qabli an yatiya yawmun la bayAAun feehi wala khilalun

آیت نمبر 31

میرے بندوں سے کہیں کہ میرا شکر اقامت صلوٰۃ کے ذریعہ ادا کریں۔ نماز شکر الٰہی ادا کرنے کا مخصوص ترین طریقہ ہے۔ پھر میرا شکر ادا کرنے کا اہم طریقہ انفاق فی سبیل اللہ ہے جو کچھ میں نے ان کو دیا ہے ، اس سے اعلانیہ اور خفیہ خرچ کریں۔ خفیہ اس وقت جب لینے والوں کی عزت نفس کی حفاظت بھی مقصود ہو اور دینے والوں کی مروت بھی محفوظ ہو ، کیونکہ جو لوگ تفاخر ، ظاہر داری اور مقابلے کے لئے خرچ کرتے ہیں وہ انفاق فی سبیل اللہ نہیں ہوتا ، اور اعلانیہ وہاں خرچہ کریں جہاں صدقات واجبہ کا ادا کرنا مقصود ہو ، اور جہاں انفاق کو مثالی بنانا مقصود ہو ، دونوں طریقوں میں سے کسی طریقے کا انتخاب کرنے والے کے ضمیر پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

اور ان کو یہ بھی کہہ دیں کہ انفاق کا بھی ایک وقت ہے ، ایک مہلت ہے ، جب مہلت ختم ہوگئی تو پھر نہ تجارت ہوگی ، نہ مال بڑھے گا اور نہ دوستیاں ہوں گی اور نہ انفاق کے لئے ہاتھ میں کچھ ہوگا۔ وہاں تو اچھے اعمال ہی کام آئیں گے۔

من قبل ان یاتی یوم لا بیع فیہ ولا خلل (14 : 31) ” قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خریدو فروخت ہوگی اور نہ دوست نواز ہو سکے گی “۔ اب اللہ تعالیٰ اس کائنات کی عظیم کتاب کو کھول کر اپنے انعامات گنواتے ہیں۔ یہ عظیم اور ناقابل شمار انعامات ہیں۔ اس کتاب کے بڑے بڑے صفحات ہیں اور ان کے اندر تاحد نظر اقسام والوان کے انعامات ہیں۔ دور تک پھیلے ہوئے آسمان ، یہ زمین ، شمس و قمر ، رات اور دن کی گردش ، آسمانوں سے نازل ہونے والا پانی ، زمین سے اگنے والے انواع و اقسام کے نباتات ، سمندر ، سمندری مخلوق اور جہاز رانی ، زمین کی ندیاں ، نالے اور دریا ، غرض وہ سب کچھ جو انسان رات اور دن دیکھ رہا ہے۔ لیکن لوگ اپنی جہالت اور جاہلیت کی وجہ سے ان صفحات کو نہیں پڑھتے۔ ان میں غوروفکر نہیں کرتے۔ بیشک انسان ظالم اور ناشکرا ہے۔ اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ کر کفر اپناتا ہے۔ اللہ کے ساتھ شریک بناتا ہے حالانکہ اللہ وحدہ خالق و رازق ہے اور اس پوری کائنات کو اسی نے انسان کے لئے مسخر رکھا ہے۔

اردو ترجمہ

اللہ وہی تو ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu allathee khalaqa alssamawati waalarda waanzala mina alssamai maan faakhraja bihi mina alththamarati rizqan lakum wasakhkhara lakumu alfulka litajriya fee albahri biamrihi wasakhkhara lakumu alanhara

آیت نمبر 32 تا 34

یہ ایک زبردست تنقیدی حملہ ہے ، انسانی شعور پر کوڑے برسائے جا رہے ہیں۔ زمین و آسمان کے بڑے بڑے اجرام و پہاڑ ، شمس و قمر ، گردش لیل ونہار ، بارشیں اور پھل ، یہ سب کوڑے اور سنگ باری کا کام کر رہے ہیں۔ ان میں اس ظالم انسان کے شعور کے لئے سخت کاٹ بھی ہے اور پر محبت اور پرسوز آواز بھی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اہل فکر کے لئے اس کتاب کے معجزات میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر اور نفس انسانی کی الجھنوں کو عقیدۂ توحید کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہ کتاب اس کائنات کے مناظر میں سے ہر منظر اور ہر چمک کو ایک اشاراتی رنگ دیتی ہے۔ اسی طرح انسانی نفس کے تصورات اور اشراقات میں سے ہر اشراق سے اشارات اخذ کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ یوں یہ کتاب اس پوری کائنات کو اللہ کے نشانات اور دلائل کی نمائش گاہ بنا دیتی ہے ، جس میں دست قدرت کے عجائبات جگہ جگہ سجے ہوئے ہیں۔ ہر منظر اور ہر سٹال پر قدرت الہٰیہ کے عجائبات کے طومار لگے ہوئے ہیں۔ ہر تصور اور ہر رنگ اور ہر سایہ میں قدرت ہی قدرت نظر آتی ہے۔ قرآن کریم وجود باری کے مسئلہ پر منطقی مناظرہ نہیں شروع کرتا جس میں ۔۔۔۔۔ کے لاہوتی اور ناسوتی مباحث ہوں۔ فلسفیانہ ، مجرد ، مردہ ، خشک مباحث ، جن میں قلب انسانی کے لئے کچھ تروتازگی نہیں ہوتی بلکہ نفس انسانی پر یہ مباحث بوجھ ہوتی ہے۔ قرآن کریم اس مسئلہ کو نہایت موثر ، اشاراتی انداز دیتا ہے اور کائنات کے مناظر ، عجائبات ، فطری دلچسپ اور بدیبیات کے ذریعہ نہایت ہی خوبصورت انداز میں اور نہایت منطقی ترتیب سے اسے پیش کرتا ہے۔

یہ عظیم اور بھر پور منظر ہے ، جس کے مناظر اس لائن پر چلتے ہیں جس میں ، اللہ کے بندوں پر اس کے انعامات و اکرامات دکھائے گئے ہیں۔ دست قدرت کی کاری گری کے عجیب نمونے ہیں۔ اس لائن پر پہلے زمین و آسمان کے وسیع فاصلے اور لاتعداد عجائبات آتے ہیں۔ پھر بارشوں کے مناظر اور ان کے نتائج نباتات اور پھول پھل آتے ہیں ، اور یہ سب کچھ زمین پر پانی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ، پھر اس راہ میں ہمارے سامنے سمندروں کے نظارے آتے ہیں جس میں کشتیاں اور جہاز چلتے ہیں جو لوگوں کی ضروریات اٹھائے ہوئے ہیں ، پھر ہمارے سامنے ایک نیا نظارہ آتا ہے جو شمس و قمر اور زمین سے متعلق ہے جس میں ان کی گردش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گردش لیل و نہار کے مناظر اور پھر ان تمام انعامات کی ایک مجموعی جھلک جس میں انسان کی ہر ضرورت اور خواہش اور ان کے پورے ہونے کی جھلک دکھالی گئی ہے۔

واتکم من کل ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحصوھا (14 : 34) ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “ ۔ اب سوال یہ کیا جاتا ہے کہ ان چیزوں کے بعد بھی تم اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے ہو۔ تمہارا اندازہ اور فیصلہ کس قدر ظالمانہ ہے کہ تم اللہ کی مخلوقات میں سے زمین و آسمان کی ایک ادنیٰ مخلوق کو پوجتے ہو۔

وانزل من السماء ۔۔۔۔۔ رزقا لکم (14 : 32) ” اور جس نے آسمانوں سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لئے طرح طرح کے پھل پیدا کئے “۔ زراعت تو انسانی رزق کا سب سے بڑا اور پہلا ذریعہ ہے ، اور تمام ظاہری انعامات کا تعلق زراعت سے ہے۔ بارش اور اس کے نتیجے میں نباتات کا پیدا ہونا اس قانون فطرت کے تابع ہے جو اللہ نے اس کرۂ ارض پر جاری کیا ہے۔ یہ قانون قدرت بارشیں برساتا ہے ، نباتات اگاتا ہے اور پھر اس سے مختلف قسم کے پھل تیار ہوتے ہیں اور یہ سب موافقات اور سہولیات انسان کے لئے ہیں۔ رزق کے ایک دانے کی تشکیل اور فراہمی کے اندر کسی قدر عوامل کام کرتے ہیں ، مثلاً زمین ، پانی ، سورج کی شعاعیں اور ہوا۔ لوگ لفظ رزق سن کر صرف مال و دولت کی آخری شکل کو ذہن میں لاتے ہیں حالانکہ انسانی رزق کے دائرے میں بہت سی چیزیں آتی ہیں اور رزق کا مکمل نظام بہت ہی گہرا ہے ۔ اس کرۂ ارض پر انسانی زندگی کے قیام کے لئے کم از کم جس چیز کی ضرورت ہے اس کی فراہمی کے لئے یہ کائنات بڑے بڑے اجرام فلکی کو حرکت دے رہی ہے۔ اس کے اندر ایک نہایت گہرا قانون قدرت کام کرتا ہے اور ہزارہا سہولیات اور موافقات فراہم ہوتے ہیں جو باہم ہمقدم ہو کر کام کرتے ہیں۔ تب جا کر انسان کی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے کم سے کم معیار پورا ہوتا ہے۔ اگر ان موافقات میں سے کوئی ایک بھی نہ ہو تو اس حضرت انسان کا زندہ رہنا ہی محال ہوجائے اور اس کا وجود ہی نہ ہو۔ اس آیت میں جن اجرام کی حرکت اور خدمت کا ذکر کیا گیا ہے کہ یہ انسان کے رزق کے اسباب فراہم کرتے ہیں ، یہ کافی و شافی ہے اور یہ تمام دست قدرت کے ہیں۔

وسخرلکم الفلک اتجری فی البحر بامرہ (14 : 32) ” اور جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے “۔ کیونکہ اللہ ہی ہے جس نے عناصر میں یہ خواص رکھے جن کی وجہ سے کشتی پانیوں پر چلتی ہے اور انسان کو ایسے عقلی خواص دئیے جس نے یہ باتیں معلوم کیں۔ یہ سب کام انسان اللہ کے امر سے کرسکتا ہے۔

وسخر لکم الانھر (14 : 32) ” اور دریاؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان دریاؤں کے بہایا ، ان کے نتیجے میں زندگی کے دریا بہنے لگے اور انسانوں کے لئے خیر کے سوتے پھوٹ پڑے۔ پھر ان دریاؤں میں مچھلیاں اور بھلائی کی دوسری اشیاء ، یہ سب چیزیں اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیں۔ پرندے ہیں یا چرندے ہیں ، انسان ان سے استفادہ کرتا ہے۔

وسخر لکم الشمس والقمر دائبین (14 : 33) ” اور سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں “ ۔ انسان براہ راست شمس و قمر سے استفادہ تو نہیں کرسکتا جس طرح پانی ، فصلوں اور پھلوں سے ، سمندروں اور کشتیوں اور نہروں اور دریاؤں سے براہ راست کرتا ہے لیکن شمس قمر کے آثار انسان کے لئے مفید ہیں۔ ان سے انسان زندگی کا مواد لیتا ہے اور قوت حاصل کرتا ہے کیونکہ ان کو اللہ نے ایسے قانون قدرت کا پابند کردیا ہے کہ یہ مسلسل انسان کے لئے اس کی ضرورت فراہم کرتے رہتے ہیں۔ انسانی زندگی کی ضروریات اور جسم انسانی کے خلیے سورج کی ان شعاعوں سے ترکیب ، تجدید اور تغیر پاتے ہیں۔

وسخرلکم الیل والنھار (14 : 33) ” اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا “۔ ان کو اللہ نے انسانی ضرورت کے مطابق بنایا ، گردش لیل و نہار کا موجودہ نظام اس کرۂ ارض پر حیات انسانی کے لئے اور اس کی سرگرمیوں کے لئے از بس ضروری ہے۔ اگر یہاں ہمیشہ دن ہوتا یا ہمیشہ رات ہوتی تو انسان سرے سے زندہ ہی نہ رہ سکتا۔ زمین کا یہ ماحول اس کے لئے ناسازگار ہوجاتا ، یہ زندگی ، یہ ترقیات اور یہ پیدا وار مشکل بن جاتی۔

اللہ تعالیٰ کے بیشمار انعامات کی تو یہ صرف آؤٹ لائن ہیں۔ ان خطوط کے اندر انعامات الٰہی کے جو نکات ہیں ، اگر ایک ایک نکتے پر بحث کی جائے تو مستقل کتاب بن جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کو اجمالاً سمیٹ لیتے ہیں۔ ایک اصولی بات۔

واتکم من کل ما سالتموہ ” جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا “۔ مال ، اولاد ، صحت ، سازو سامان وغیرہ وغیرہ۔

وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا (14 : 34) ” اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے “۔ یہ اس قدر زیادہ ہیں کہ انسانوں کی ایک عظیم جماعت بھی انہیں گن نہیں سکتی۔ بلکہ تمام انسان لگ جائیں تو بھی نہیں گن سکتے ۔ اس لیے کہ انسان زمان و مکان کے اندر محدد ہے ، اس کا علم محدود ہے ، اس کے علم کی ابتداء بھی ہے اور انتہا بھی ہے اور زمان و مکان کے درمیان محدودبھی ہے جبکہ اللہ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ انسان کے دائرہ علم و ادراک سے وراء ہیں۔ ان سب حقائق کے بعد بھی ، اے لوگو ، تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہو ، اور یہ سب کچھ جانتے ہوئے تم اللہ کے انعامات کا شکر ادا نہیں کرتے بلکہ شکر کے بجائے تم کفر کرتے ہو ، حق ہے :

ان الانسان لظلوم کفار (14 : 34) ” حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بےانصاف اور ناشکرا ہے “۔ جب انسانی ضمیر جاگ اٹھتا ہے اور اپنے اردگرد کائنات کو چشم بینا سے دیکھنے لگتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ یہ پوری کائنات اس کے لئے مسخر کردی گئی ہے ۔ یا تو براہ راست اس کے کنٹرول میں ہے یا اس طرح کہ اللہ کے جاری کردہ ناموس قدرت کی رو سے یہ انسان کے لئے کام کر رہی ہے اور انسان کی ضروریات فراہم کر رہی ہے۔ جب اس طرح انسان اپنے ماحول پر غور کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو پالیتا ہے کہ اللہ کے رحم و کرم کی وجہ سے یہ پورا ماحول انسان کا دوست ہے ، انسان کا مددگار ہے ، اور اللہ نے اس کو انسان کے لئے نہایت ہی نرم اور مطیع فرمان بنا دیا ہے۔ پھر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ وہ سر اٹھا کر ذرا اپنے ماحول پر غوروفکر کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو وہ کانپنے لگتا ہے۔ اللہ کا خوف کھاتا ہے۔ سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور پھر وہ خضوع و خشوع میں اس رب منعم کی طرف دیکھتا ہے۔ اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو فراخی کی دعا کرتا ہے اور اگر وہ اللہ کی نعمتوں میں ڈوبا ہوا ہو تو یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ ان نعمتوں کو محفوظ اور جاری رکھ۔

اور انسان ذاکر اور شاکر اور متدبر کا اعلیٰ نمونہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ، جن کے نام سے یہ سورة معنون ہے اور یہی مناسبت ہے کہ اس سورة کے مضامین اور فضا بھی شکر اور ناشکری اور کفران نعمت کے محور کے گرد گھومتی ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے اعلیٰ کردار میں پیش کیا جاتا ہے جس میں وہ مجسمہ شکر ہیں۔ نہایت خشوع و خضوع کی حالت میں ہیں اور نہایت ہی نرم اور دھیمے زمزمہ میں دست بدعا ہیں۔ آپ کی دعاؤں اور شکر کا یہ زمزہ آسمان کی طرف نہایت ہی نرم اور باادب موجوں کی شکل میں بلند ہوتا ہے اور دور تک اس کی گونج آسمانوں میں غائب ہوجاتی ہے۔

اردو ترجمہ

جس نے سورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخر کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wasakhkhara lakumu alshshamsa waalqamara daibayni wasakhkhara lakumu allayla waalnnahara
259