سورہ ابراہیم: آیت 30 - وجعلوا لله أندادا ليضلوا عن... - اردو

آیت 30 کی تفسیر, سورہ ابراہیم

وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلُّوا۟ عَن سَبِيلِهِۦ ۗ قُلْ تَمَتَّعُوا۟ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى ٱلنَّارِ

اردو ترجمہ

اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں اِن سے کہو، اچھا مزے کر لو، آخرکار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WajaAAaloo lillahi andadan liyudilloo AAan sabeelihi qul tamattaAAoo fainna maseerakum ila alnnari

آیت 30 کی تفسیر

آیت 30 وَجَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلُّوْا عَنْ سَبِيْلِهٖ یعنی انہوں نے جھوٹے معبودوں کا ڈھونگ اس لیے رچایا ہے تاکہ لوگوں کو اللہ کی بندگی سے ہٹا کر گمراہ کردیں۔ ”اَنداد“ جمع ہے ’ نِد ‘ کی اس کے معنی مدمقابل کے ہیں۔ سورة البقرۃ کی آیت 22 میں بھی ہم پڑھ آئے ہیں : فَلاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا ”تو اللہ کے مدمقابل نہ ٹھہرایا کرو“۔ اس معاملے کی نزاکت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک صحابی نے حضور سے محاورۃً عرض کیا : مَاشَاء اللّٰہُ وَمَا شِءْتَ ”جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں“ تو آپ نے انہیں فوراً ٹوک دیا اور فرمایا : أَجَعَلْتَنِیْ لِلّٰہِ نِدًّا ؟ مَا شَاء اللّٰہُ وَحْدَہٗ 1 ”کیا تو نے مجھے اللہ کا مد مقابل بنا دیا ؟ بلکہ وہی ہوگا جو تنہا اللہ چاہے !“ یعنی مشیت تو اللہ ہی کی ہے ‘ جو ہوگا اسی کی مشیت اور مرضی سے ہوگا۔ اختیار صرف اسی کا ہے اور کسی کا کوئی اختیار نہیں۔

آیت 30 - سورہ ابراہیم: (وجعلوا لله أندادا ليضلوا عن سبيله ۗ قل تمتعوا فإن مصيركم إلى النار...) - اردو