سورہ ابراہیم (14): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Ibrahim کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ ابراهيم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ ابراہیم کے بارے میں معلومات

Surah Ibrahim
سُورَةُ إِبۡرَاهِيمَ
صفحہ 261 (آیات 43 سے 52 تک)

مُهْطِعِينَ مُقْنِعِى رُءُوسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ إِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ ۖ وَأَفْـِٔدَتُهُمْ هَوَآءٌ وَأَنذِرِ ٱلنَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمُ ٱلْعَذَابُ فَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ رَبَّنَآ أَخِّرْنَآ إِلَىٰٓ أَجَلٍ قَرِيبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَنَتَّبِعِ ٱلرُّسُلَ ۗ أَوَلَمْ تَكُونُوٓا۟ أَقْسَمْتُم مِّن قَبْلُ مَا لَكُم مِّن زَوَالٍ وَسَكَنتُمْ فِى مَسَٰكِنِ ٱلَّذِينَ ظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَضَرَبْنَا لَكُمُ ٱلْأَمْثَالَ وَقَدْ مَكَرُوا۟ مَكْرَهُمْ وَعِندَ ٱللَّهِ مَكْرُهُمْ وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ ٱلْجِبَالُ فَلَا تَحْسَبَنَّ ٱللَّهَ مُخْلِفَ وَعْدِهِۦ رُسُلَهُۥٓ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ ذُو ٱنتِقَامٍ يَوْمَ تُبَدَّلُ ٱلْأَرْضُ غَيْرَ ٱلْأَرْضِ وَٱلسَّمَٰوَٰتُ ۖ وَبَرَزُوا۟ لِلَّهِ ٱلْوَٰحِدِ ٱلْقَهَّارِ وَتَرَى ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ مُّقَرَّنِينَ فِى ٱلْأَصْفَادِ سَرَابِيلُهُم مِّن قَطِرَانٍ وَتَغْشَىٰ وُجُوهَهُمُ ٱلنَّارُ لِيَجْزِىَ ٱللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ هَٰذَا بَلَٰغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا۟ بِهِۦ وَلِيَعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَٰحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُو۟لُوا۟ ٱلْأَلْبَٰبِ
261

سورہ ابراہیم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ ابراہیم کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

سر اٹھائے بھاگے چلے جا رہے ہیں، نظریں اوپر جمی ہیں اور دل اڑے جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

MuhtiAAeena muqniAAee ruoosihim la yartaddu ilayhim tarfuhum waafidatuhum hawaon

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، اُس دن سے تم اِنہیں ڈراؤ جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ "اے ہمارے رب، ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے" (مگر انہیں صاف جواب دے دیا جائے گا کہ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waanthiri alnnasa yawma yateehimu alAAathabu fayaqoolu allatheena thalamoo rabbana akhkhirna ila ajalin qareebin nujib daAAwataka wanattabiAAi alrrusula awalam takoonoo aqsamtum min qablu ma lakum min zawalin

آیت نمبر 44 تا 45

اے پیغمبر ان لوگوں کو اس عذاب سے ڈرائیں جس کا نقشہ ابھی کھینچا گیا ، اس دن یہ ظالم بڑے پر امید ہو کر اور برخوردار بن کر یہ سوال کریں گے ۔ “ ربنا ” (اے ہمارے رب) آج تو وہ بہت احترام سے ربنا کہتے ہیں جبکہ دنیا میں تو وہ اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے۔

اخرنا الی۔۔۔۔۔۔۔ ونتبع الرسل (14 : 44) “ ہمیں تھوڑی سی مہلت اور دے دے ، ہم تیری دعوت پر لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ”۔

اب یہاں حکایتی انداز کلام براہ راست خطاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے ، گویا وہ ہمارے سامنے کھڑے ہیں ، دیکھ رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں ، دعا کر رہے ہیں اور ہم اب میدان محشر میں ہیں ، حیات دنیا کا دفتر لپیٹ دیا گیا ہے اور وہ دیکھو عالم بالا سے ان کو براہ راست مخاطب کر کے سخت سرزنش اور سخت شرمندہ کیا جا رہا ہے اور ان کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ذرا پیچھے مڑکر دیکھو تم کیا کرتے رہے ہو۔

اولم تکونوا اقستم من قبل مالکم من زوال (14 : 44) “ کیا تم لوگ وہی نہیں ہو جو اس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ”۔ اب تمہاری کیا رائے ہے ؟ تم زوال پذیر ہوگئے یا نہیں ؟ تم تو ایسی باتیں کیا کرتے تھے جبکہ امم سابقہ کے آثار اور تاریخ تمہارے سامنے تھی۔ ظالموں اور سرکشوں کا انجام تو سامنے تھا۔

وسکنتم فی مسکن ۔۔۔۔۔ لکم الامثال (14 : 45) “ حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور ان کی مثالیں دے کر تمہیں سمجھا چکے تھے ”۔ لیکن تمہارا رویہ بھی عجیب تھا کہ ان ظالموں کے کھنڈرات اور ان کے احوال کو دیکھ کر کہ وہ ان سے خالی پڑے ہیں اور ان کے شہروں میں اب تم بس رہے ہو اور پھر بھی تم قسمیں کھا رہے تھے۔ “ تمہارے لیے کوئی زوال نہیں ہے ”۔۔۔ یہاں اب یہ منظر ختم ہوجاتا ہے اور ہم جان لیتے ہیں کہ ان کی دعا اور اسے مسترد کرنے کے بعد اب ان کا انجام کیا ہوا۔

حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی میں ایسی صورت حال رات اور دن پیش آتی رہتی ہے۔ کئی سرکش اور ڈکٹیٹر ان لوگوں کی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں جو ان سے پہلے گزرے اور بعض اوقات تو یوں ہوتا ہے کہ ان برسر اقتدار سرکشوں کے ہاتھوں ہی وہ مغلوب ہو کر نکالے گئے ہوتے ہیں۔ لیکن باوجود اس کے یہ جانشینان پھر سرکشی اور جباری و قہاری شروع کردیتے ہیں اور عین ان کے نقش قدم پر چلتے ہیں اور ہلاکت کی راہ اختیار کرتے ہیں۔ ان کے شعور و وجدان کے اندر اس سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کے عبرتناک واقعات کوئی ارتعاش پیدا نہیں کرتے حالانکہ ان کی تاریخ پکار رہی ہوتی ہے۔ یہی تمہاری تاریخ ہے۔ پھر جب اللہ کی پکڑ آتی ہے تو یہ بھی اپنے پیش روؤں کی طرح پکڑے جاتے ہیں اور یہ بھی ان کے ساتھ ، اسی انجام سے دوچار ہوتے ہوئے جا ملتے ہیں اور اللہ کی زمین ان ناپاک لوگوں سے خالی کردی جاتی ہے۔

اب پردہ گرتا ہے ، قیامت کا منظر لپیٹ دیا جاتا ہے اور ان لوگوں کے موجودہ حالات پر بات شروع ہوتی ہے جو اس دنیا میں موجود تھے۔ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ اور مومنین کے خلاف رات اور دن سازشیں کر رہے تھے اور زندگی کے میدانوں کے ہر پہلو کے اعتبار سے اسلام کے خلاف فتنے برپا کرتے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمہارا مکرو فریب اور پروپیگنڈا جس قدر بھی عظیم ہو تمہیں اللہ اقوام ما قبل ہی کی طرح پکڑے گا۔

اردو ترجمہ

حالانکہ تم ان قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wasakantum fee masakini allatheena thalamoo anfusahum watabayyana lakum kayfa faAAalna bihim wadarabna lakumu alamthala

اردو ترجمہ

انہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqad makaroo makrahum waAAinda Allahi makruhum wain kana makruhum litazoola minhu aljibalu

آیت نمبر 46

اللہ ان کو بھی گھیرے ہوئے ہے اور ان کی مکاری بھی اللہ کے دائرہ قدرت میں ہے اگرچہ ان کی تدابیر اس قدر سخت اور شدید ہوں کہ ان کے ذریعہ پہاڑوں کو بھی اپنی جگہ سے ہٹایا جاسکتا ہو۔ ظاہر ہے کہ کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانے کے لئے بہت بڑی قوت کی ضرورت ہے اور اس کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اگرچہ یہ بہت بڑے بڑے مکر اور فریب کرتے ہیں لیکن ان کا کوئی فریب اللہ کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں ہے بلکہ اللہ جس طرح چاہے وہ ان کی مکاریوں کو ختم کرسکتا ہے۔

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کیے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے گا اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fala tahsabanna Allaha mukhlifa waAAdihi rusulahu inna Allaha AAazeezun thoo intiqamin

آیت نمبر 47

یہ لوگ جو تدابیر کرتے ہیں یہ اللہ کے مقابلے میں موثر نہیں ہیں اور اللہ اپنے رسولوں اور اپنی تحریکات کی جب مدد کرنا چاہے تو اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ “ وہ تو زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے ”۔

اس سے کوئی ظالم بچ کر نہیں نکل سکتا اور کوئی مکار اس کے عذاب سے نجات نہیں پا سکتا۔ یہاں ظلم اور سرکشی اور عظیم مکاری کے بالمقابل لفظ انتقام لایا گیا ہے جو نہایت موزوں ہے کیونکہ ظالم اور مکار سے انتقام لینا مناسب ہوتا ہے۔ اللہ کی طرف جب انتقام کی نسبت ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں ظلم و سرکشی کی مناسب جزاء و سزا اور اس میں بھی عادلانہ طریق کار۔ اور یہ عادلانہ جزاء و سزا تب واقعہ ہوگی۔

اردو ترجمہ

ڈراؤ اِنہیں اُس دن سے جبکہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Yawma tubaddalu alardu ghayra alardi waalssamawatu wabarazoo lillahi alwahidi alqahhari

یہ کیونکر ہوگا ، اس کی تفصیلات کا ہمیں علم نہیں ہے ، نہ ہمیں معلوم ہے کہ اس دوسری زمین کی طبیعات کیسی ہوں گی اور یہ ہوگی کہاں ، البتہ قرآن کی یہ آیات ہمارے شعور کے اندر یہ تاثر بٹھاتی ہے کہ یہ لوگ کیا ہیں اور ان کی مکاریاں کیا ہیں ، اللہ کی قدرت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ زمین و آسمان کو بدل کر رکھ دے گا۔ ان کی کامیابیاں اللہ کے مقابلے میں حقیر اور معمولی ہیں۔ وہ دیکھو دوسرے منظر میں یہ زمین و آسمان تو قدرت نے بدل کر رکھ دئیے ! !

آیت نمبر 48

ترجمہ : ان کو یہ احساس ہوجائے گا کہ وہ تو اللہ کے سامنے کھلے اور ننگے کھڑے ہیں۔ کوئی انہیں بچانے والا نہیں ہے وہ اپنے گھروں میں نہیں ہیں ! وہ تو قبروں میں بھی نہیں ! وہ تو ایک کھلے میدان میں اللہ واحد وقہار کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہاں “ قہار ” کا لفظ عمداً استعمال ہوا تا کہ سرکشوں اور ڈکٹیٹروں کو ذرا متنبہ کردیا جائے کہ ان کی سرکشی اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ سرکشی اور مکاری اس قدر سخت ہو کہ اس سے پہاڑوں کو بنایا جاسکتا ہو۔

اب ہمارے سامنے مناظر عذاب قیامت میں سے ایک شدید اور سخت منظر پیش کیا جاتا ہے جو نہایت ذلیل کرنے والا ہے اور سرکشوں اور جابر مکاروں کے لئے موزوں ہے۔

اردو ترجمہ

اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاؤں جکڑے ہونگے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Watara almujrimeena yawmaithin muqarraneena fee alasfadi

آیت نمبر 49 تا 50

ان مجرموں کا منظر یوں ہے کہ دو دو زنجیروں میں بندھے ہوں گے۔ صف در صف جا رہے ہوں گے۔ اللہ قہار کی طرف سے یہ ان کی تذلیل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان کا لباس ایک ایسے مواد سے بنا ہوگا جو سخت آتش گیر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ سیاہ تارکول سے ہوگا۔ یہ ان کی مزید تذلیل ہوگی۔ مقصد یہ ہے کہ آگ کے قریب آتے ہی یہ لوگ شعلوں کے نذر ہوں گے۔

وتغشی وجوھم النار (14 : 50) “ ان کے چہروں کو آگ ڈھانپ لے گی ”۔ یہ ایک ذلیل عذاب ہوگا ، اور ان کے مکر اور سرکشی اور استکبار کے لئے مناسب علاج۔

اردو ترجمہ

تارکول کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Sarabeeluhum min qatranin wataghsha wujoohahumu alnnaru

اردو ترجمہ

یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کیے کا بدلہ دے گا اللہ کوحساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyajziya Allahu kulla nafsin ma kasabat inna Allaha sareeAAu alhisabi

آیت نمبر 51

انہوں نے اپنی زندگی میں ظلم اور مکاری کو اپنا کسب بنا لیا تھا ، تو اللہ کی طرف سے ان پر قہر نازل ہوگا اور وہ ذلیل ہوں گے۔ اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ، ان کی مکاری اور گہری تدابیر کے لئے مناسب ہے کہ جلدی ان کا حساب لیا جائے کیونکہ یہ سمجھتے تھے کہ اللہ ان کی اس مکاری کو ظاہر نہ کرے گا اور کوئی قوت بھی ان پر غالب نہ آسکے گی چناچہ اللہ بڑی سرعت سے اب ان سے حساب بھی لے گا اور نہایت ذلت کے ساتھ انہیں عذاب بھی دے گا۔

آخر میں سورت کا خاتمہ اسی مضمون پر ہوتا ہے جس سے اس کو شروع کیا گیا تھا لیکن یہ خاتمہ ایک اعلان عام کی شکل میں ہے جو ببانگ دہل کیا جاتا ہے تا کہ تمام لوگوں تک ہر جگہ یہ اعلان عام پہنچ جائے۔

اردو ترجمہ

یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعہ سے خبردار کر دیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آ جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Hatha balaghun lilnnasi waliyuntharoo bihi waliyaAAlamoo annama huwa ilahun wahidun waliyaththakkara oloo alalbabi

آیت نمبر 52

اس اعلان عام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ لوگ جان لیں کہ اللہ ایک ہی الٰہ اور حاکم ہے۔ یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کے اوپر اسلامی نظام قائم ہے۔

لیکن اس اعلان عام سے اصل غرض وغایت مجرد نہیں ہے بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ لوگ اپنی زندگی کا پورا نظام اس اصول پر قائم کریں اور اپنی پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت اختیار کریں۔ اگر وہ اللہ کو واحد الٰہ اور حاکم سمجھتے ہیں۔ کیونکہ اگر کسی کو الٰہ اور خالق ومالک سمجھا جاتا ہے تو وہی حاکم اور رب بھی ہوگا۔ وہی سربراہ ، متصرف فی الامور ، ڈائریکٹر اور قانون ساز ہوگا۔ اس ایمان و اعلان پر اگر انسانی زندگی کو عملاً قائم کیا جائے تو وہ عملی نظام اس نظام کے سراسر متضاد ہوگا جو اس اصول اور اعلان پر قائم کیا جائے کہ کچھ لوگ اپنے جیسے کچھ لوگوں کے غلام ہوں گے۔ اور انسانوں میں سے کچھ حاکم ، قانون ساز اور ظالم ہوں گے۔ یہ ایک بنیادی اختلاف ہے ، جس کی وجہ سے عقائد و تصورات مختلف ہوجاتے ہیں۔ شعائر اور مراہم عبادت مکتلف ہوجاتے ہیں۔ اخلاق اور طرز عمل مختلف ہوجاتے ہیں۔ حسن و قبح کی قدریں بدل جاتی ہیں ، اور سیاسی اور اقتصادی نظام بدل جاتے ہیں۔ غرض کسی سوسائٹی کو ان میں سے کسی قاعدے پر منظم کیا جائے تو اس کے انفرادی اور اجتماعی خدو خال ہی بدل جائیں گے۔

یہ نظریہ کہ اللہ ایک ہے اور وہی حاکم ہے اس کی بنیاد پر ایک مکمل نظام حیارت تعمیر ہوتا ہے۔ یہ نظریہ صرف ذہنوں میں بیٹھے رہنے والا نظریہ نہیں ہے۔ اسلامی نظریہ حیات محض عقائد تک محدود نہیں ہے ، اس کی حدود بہت آگے چلی جاتی ہیں۔ یہ نظریہ انسان کی پوری عملی زندگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اللہ کی حاکمیت کا نظریہ اسلامی عقائد کا ایک حصہ ہے۔ اسلامی اخلاق کا قیام بھی ہمارے عقائد کا حصہ ہے۔ اور یہ ایک ایسا عقیدہ اور نظریہ حیات ہے جس سے ایک مکمل نظام پھوٹ کر نکلتا ہے۔ نئی قدریں وجود میں آتی ہیں اور یہ دنیا میں نئے حالات اور نیا دستوری اور قانونی نظام پیش کرتا ہے۔

ہم اس وقت تک قرآنی ، مقاصد و اہداف کو ادراک نہیں کرسکتے ، جب تک ہم قرآنی عقائد و نظریات کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں اور جب تک ہم کلمہ شہادت کے مفہوم کو اچھی طرح نہ سمجھ لیں کہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اصلی مفہوم کیا ہے اور جب تک ہم اس کے مفہوم کو اس کی وسعتوں کے ساتھ نہ سمجھ لیں ۔ جب تک ہم یہ نہ سمجھ لیں کہ اسلام میں ” عبادت “ کا مفہوم کیا ہے۔ اور جب تک ہم عبادت کی تعریف میں یہ نہ شامل کرلیں کہ اس سے مراد پوری زندگی میں اللہ کی اطاعت و غلامی ہے۔ صرف نماز کے اوقات میں نہیں ، بلکہ زندگی کے تمام امور میں۔

عرب بت پرستی جس کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے اور اپنی اولاد کے بارے میں دعا کی کہ اللہ ہمیں اس سے بچائیو ، یہ اس قدر سادہ نہ تھی جس طرح عرب حضور اکرم ﷺ کے دور میں اس پر عامل تھے یا جس طرح دوسری جاہلیتوں میں مختلف انداز میں اس پر عمل ہوتا تھا ، کہ درختوں اور پتھروں کی پوجا ہو رہی ہے ، حیوانوں اور پرندوں کو پوجا جا رہا ہے ، ستاروں اور سیاروں کو پوجا جا رہا ہے ، ارواح اور اوہام کو پوجا جا رہا ہے۔ یہ سادہ شکلیں ہی شرک نہ تھا ، اور نہ بتوں کی عبادت کی فقط یہ سادہ شکلیں تھیں ، نہ شرک ان سادہ شکلوں میں محدود تھا۔ نہ اس بت پرستی کا یہی مفہوم تھا اور اس سے آگے ہم شرک کی دوسری شکلیں دریافت نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے یا ہیں ہی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ شرک کی لاتعداد صورتیں ہیں ، ہم اپنی فکر کو ان صورتوں تک محدود نہیں کرسکتے ، بلکہ جاہلیت جدیدہ میں شرک کی بیشمار جدید صورتیں بھی پیدا ہوگئی ہیں۔

لہٰذا اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم شرک کو سمجھیں اور شرک کے ساتھ بت پرستی کے تعلق کو بھی سمجھیں ، نیز بتوں کی حقیقت پر بھی غور کرنا ضروری ہے ، اور دور جدید میں ، جاہلیت جدیدہ نے جو نئے اصنام گھڑ لیے ہیں ان کا بت پرستی کے ساتھ تعلق دریافت کرنا بھی ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ لا الٰہ الا اللہ کے مخالف شرک کا دائرہ ہر اس صورت حال تک وسیع ہوتا ہے جس میں زندگی کے محاملات میں سے کسی ایک حال میں اللہ وحدہ کی اطاعت نہ ہو ، یہ حال بھی شرک کی تعریف میں آتا ہے کہ ایک انسان زندگی کے بعض معاملات میں مطیع فرمان ہوتے ہوئے بھی دوسرے معاملات میں غیر اللہ کا مطیع ہو ، شرک صرف مراسم عبودیت کے اندر محدود نہیں ہے ، یہ تو شرک کی ایک مخصوص صورت ہوتی ہے۔ جدید دور میں ہماری زندگیوں میں بعض ایسی واضح مثالیں موجود ہیں جو ہمیں بتاتی ہیں کہ یہ شرک صریح کی واضح مثالیں ہیں۔ ایک شخص جو اللہ کو وحدہ لا شریک تسلیم کرتا ہے۔ پھر وضو ، طہارت ، نماز ، روزے ، حج اور تمام دوسری عبادات میں اللہ کی طرف رخ رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اقتصادی معاملات اور اجتماعی قوانین میں ، غیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور وہ اپنی اجتماعی قدروں میں ایسے تصورات ایسی صطلاحات کا تابع ہے جو غیر اللہ کی جاری کردہ ہیں اور اپنے اخلاق ، اپنی عادات اور رسم و رواج میں ، اپنے لباس میں ، ایسے لوگوں کی اطاعت کرتا ہے ، جو اللہ کے احکام کے بالمقابل اس پر یہ تصورات ، اخلاق ، عادات اور لباس مسلط کرتے ہیں اور یہ ایسے ہیں جو صراحتہ شریعت کے مخالف ہیں ، اللہ کے احکام کے خلاف ہیں ، اور حقیقتاً اسلام کے خلاف ہیں تو یہ عمل اس کلمہ شہادت کے خلاف ہے جو وہ شخص پڑھتا ہے ، لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔ یہ ہے وہ اصل بات جس سے ہمارے دور کے مسلمان غافل ہیں۔ حالانکہ یہ شرک ہے ، آج کے مسلمان نہایت بھونڈے انداز میں غیر اللہ یہ اطاعت کرتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں کرتے کہ یہ شرک ہے اور ہر دور کے مشرک یہی کام کرتے رہے ہیں۔

بت کیا ہیں ، یہ ضروری نہیں ہے کہ بت ہی مجسمے ہوں جو پتھروں سے بنے ہوں۔ یہ بت تو دراصل رمز ہیں طاغوت کے لئے ، ان بتوں کے پیچھے اصل طاغوت ہوتا ہے جو ان بتوں کے نام اور عنوان سے لوگوں سے اپنی بندگی کراتا ہے۔ اور ان بتوں کے نام سے اپنا اور اپنی بندگی کا نظام جاری کرتا ہے۔

بت تو نہ بات کرتے تھے ، نہ سنتے تھے اور نہ دیکھتے تھے ، دراصل مجاور ، ۔۔۔۔۔۔ اور حاکم وقت ان کی پشت پر ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگ ان کے نام سے تعویذ اور گنڈے کرتے تھے ، دم درود کرتے تھے اور اس طرح وہ جمہور عوام کو اپنا غلام بنائے رکھتے تھے۔ اب اگر کسی جگہ ایسے ہی شعار اٹھ کھڑے ہوں۔ کچھ ادارے ہوں اور ان اداروں کے نام سے کچھ کاہن اور کچھ مہنت اور کچھ احکام اپنے تصورات ، اپنے قوانین اور اپنے اعمال و تصرفات عوام پر مسلط کرتے ہوں تو اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ بھی شرک باللہ ہوگا۔

اگر قومیت کو ایک بت بنا لیا جائے۔ اگر کسی وطن کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی مملکت کو بت بنا لیا جائے ، یا کسی طبقے کو بت بنا لیا جائے اور لوگوں سے یہ مطالبہ کیا جائے کہ وہ اس بت کو پوجیں ، اور اللہ کے علی الرغم پوجیں اور ان کی راہ میں جان ، مال ، اخلاق اور اپنی عزت سب کچھ قربان کریں ، یوں کہ جب ان بتوں کے مطالبات اور شریعت کے مطالبات کے درمیان تعارض آجائے تو اللہ کی شریعت اس کے قوانین اور اس کے مطالبات کو پس پشت ڈال دیا جائے اور ان نئے بتوں کے مطالبات ، تقاضوں ، قوانین اور اخلاق کو نافذ کردیا جائے یا صحیح الفاظ میں ان مفادات اور جدید بتوں کی پشت پر موجود طاغوتی قوتوں کی اطاعت کی جائے تو یہ صریح شرک ہوگا ۔ اور ایسے لوگ بت پرست ہوں گے ، مشرک ہوں کیونکہ بت کے لئے ضروری نہیں ہے کہ وہ پتھر اور لکڑی کا بت ہو ، ہر مذہب اور ہر شعار بت ہوتا ہے۔

اسلام صرف اس لیے نہیں آیا تھا کہ وہ لکڑیوں اور پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کو توڑ دے اور یہ مسلسل مشقتیں جو رسولان کرام کے طویل سلسلہ نے برداشت کیں ، اور اس کے سلسلے میں ناقابل برداشت اور ناقابل تصور تکالیف برداشت کیں ، یہ محض پتھر اور لکڑی کے بتوں کے ختم کرنے کے لئے نہ تھیں بلکہ مقصد ہر قسم کی بت پرستی کو ختم کرنا تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام آیا ہی اس لیے ہے کہ وہ زندگی کے تمام معاملات میں اللہ کی اطاعت کا نظام قائم کر دے۔ ہر شکل اور ہر صورت میں اور زندگی کے تمام معاملات میں سے ، چاہے اس کی شکل و صورت جو بھی ہو ، غیر اللہ کی اطاعت کو ختم کر دے لہٰذا زندگی کے ہر طور طریقے اور نظام میں ہمیں معلوم کرنا چاہیے کہ اس کی کون سی صورت توحید ہے اور کون سی صورت شرک ہے ، اس میں اطاعت اور بندگی اللہ وحدہ کی ہے یا کسی اور طاغوتی قوت کی ہے ، کسی اور رب یا بت کی ہے۔

وہ لوگ جو محض اس لیے اپنے آپ کو اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی زبان سے کلمہ طیبہ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ ادا کرتے ہیں اور وہ بھی محض اس لیے کہ وہ طہارت ، مراسم عبودیت ، نماز ، روزہ ، حج اور نکاح و طلاق میں یا مسئلہ میراث میں اللہ کے قانون کو مانتے ہیں۔ جب کہ اس سے آگے ان کی پوری زندگی ان قوانین کے مطابق ہے جو اللہ کے قوانین کے خلاف ہیں اور ان قوانین کی اکثریت ایسی ہے جو قرآن و سنت کے صریح خلاف ہیں ، اور وہ ان قوانین اور اس نظام کے لئے اپنے نفس ، اپنے مال اور اپنے اخلاق اور کلچر کو قربان کرتے ہیں ، خواہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ، اور یہ کام وہ اس لیے کرتے ہیں کہ یہ جدید بت ان سے راضی ہوں ، اور صورت حالات یہ ہو کہ کسی مرحلے میں اللہ کے احکام اور قوانین کا ان بتوں کے احکام کو نافذ کریں تو یہ صریح بت پرستی ہے۔

جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں اور اللہ کے دین میں سمجھتے ہیں اور ان کا حال وہ ہے جو ابھی بتا یا گیا ، ان کو چاہئے کہ وہ اس شرک سے باز آجائیں جس میں وہ ہیں۔ دین اسلام ایسا مزاح نہیں ہے جو یہ لوگ سمجھتے ہیں جو مشرق و مغرب میں اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں۔ دین اسلام روزمرہ کی جزئیات حیات کو بھی اپنے دائرہ میں لیتا ہے اور یہ مطالبہ کرتا ہے کہ زندگی کی تمام جزئیات میں اللہ وحدہ کی اطاعت کی جائے ، اصول اور کلیات اور دستور و قانون تو بڑی بات ہے۔ یہ ہے وہ اسلام جس کے سوا خدا کسی ” دین “ کو قبول نہیں کرتا۔

شرک اس کے اندر محدود نہیں ہے کہ کوئی اللہ کو ایک نہ سمجھے بلکہ شرک کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ کوئی کسی غیر اللہ کو حاکم سمجھے۔ پتھروں اور لکڑیوں کے بنے ہوئے بتوں کو پوجنا بت پرستی کا بہت سادہ تصور ہے ، اصل بت پرستی خلاف اسلام اداروں کی پرستش ہے۔

سادہ ترین الفاظ میں ، میں یوں کہتا ہوں کہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ ان کی زندگی میں اہم کون ہے ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی مکمل اطاعت کرتے ہیں ؟ وہ کس کی پیروی ، اتباع کرتے ہیں ؟ کس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں ؟ اگر وہ یہ سب کام اللہ کے لئے کرتے ہیں تو وہ مسلم ہیں ، اگر وہ یہ کام کسی اور کے لئے کرتے ہیں تو یہ ان کے دین پر ہیں۔ بت ہیں تو بتوں کے دین پر۔ طاغوت میں تو طاغوت کے دین ہو۔

یہ ہے پیغام ! سب انسانوں کو اس سے ڈرایا جائے ! ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ ان معنوں میں وحدہ لا شریک ہے ! اگر عقل ہے تو ان باتوں کو سمجھو !

ھذا بلاغ ھذا بلاغ صدق اللہ العظیم

261