قالت انی اعوذ بالرحمٰن منک ان کنت تقیاً (91 : 81) ” مریم کی ایک بول اٹھی کہ اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں۔ “ کسی بھی مت قی آدمی کے سامنے اگر خدا کا ذکر کیا جائے تو اس کا شعور تقویٰ بیدار ہوتا ہے اور وہ شیطانی وسوسہ اور شہوت کی اکساہٹ سے باز آجاتا ہے۔
یہ پاک فطرت دوشیزہ ، نہایت ہی اچھی تربیت یافتہ ، نہایت ہی پاک ماحول میں رہنے والی ، جس کی کفالت کی ذمہ داری زکریا جیسے پاکباز شخص کے ذمہ ہے۔ جب وہ جنین کی حالت میں تھی تو اسے اس معبد کے لئے نذر کردیا گیا تھا۔ اس کے لئے یہ پہلا جھٹکا تھا ۔ ذرا سوچئے کہ یہ فرشتہ یا یہ نوجوان اسے یوں جواب دیتا ہے :
آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّااچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔