اس صفحہ میں سورہ Maryam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ مريم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَٰيَحْيَىٰ خُذِ ٱلْكِتَٰبَ بِقُوَّةٍ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْحُكْمَ صَبِيًّا
وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا
وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا
وَسَلَٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا
وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَرْيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا
فَٱتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا
قَالَتْ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحْمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا
قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمًا زَكِيًّا
قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَٰمٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا
قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَهُۥٓ ءَايَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا
۞ فَحَمَلَتْهُ فَٱنتَبَذَتْ بِهِۦ مَكَانًا قَصِيًّا
فَأَجَآءَهَا ٱلْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ ٱلنَّخْلَةِ قَالَتْ يَٰلَيْتَنِى مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا
فَنَادَىٰهَا مِن تَحْتِهَآ أَلَّا تَحْزَنِى قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا
وَهُزِّىٓ إِلَيْكِ بِجِذْعِ ٱلنَّخْلَةِ تُسَٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا
آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّااب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔
آیت 14 وَّبَرًّام بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّایہ اوصاف اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطا کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی گھٹیّ میں ڈال دیے گئے۔
آیت 15 وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّایہاں پر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ اختتام کو پہنچا اور اب آگے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔
آیت 16 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مَرْیَمَ 7 اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّاحضرت مریم سلامٌ علیہا نے اپنے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ہیکل سلیمانی کے مشرقی گوشے میں خود کو مقیدّ کرلیا۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے لیے اعتکاف کی کیفیت تھی۔
آیت 17 فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًاانہوں نے گوشے میں پردہ تان کر خلوت کا ماحول بنا لیا تاکہ یکسوئی سے اللہ کی عبادت کرسکیں۔ فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا یہاں پر روح بمعنی فرشتہ ہے۔ قبل ازیں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے کہ فرشتہ بھی روح ہے ‘ وحی بھی روح ہے ‘ قرآن بھی روح ہے اور روح انسانی بھی روح ہے۔ فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًاسَوِیًّایعنی فرشتہ ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔
آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّااچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔
آیت 21 قَالَ کَذٰلِکِ یعنی کسی مرد کے تعلق کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا۔قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌج وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّاج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّایعنی اس بچے کو ہم لوگوں کے لیے معجزہ اور اپنی رحمت کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی معجزہ تھی ‘ آپ علیہ السلام کا رفع سماوی بھی معجزہ تھا اور اس کے علاوہ بھی آپ علیہ السلام کو بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔ غرض آپ علیہ السلام کی شخصیت ہر لحاظ سے غیر معمولی ‘ ممیز اور ممتاز تھی۔
آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّااس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“
آیت 23 فَاَجَآءَ ہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ولادت کے وقت جب درد زہ کی شدت بڑھی تو حضرت مریم نے سہارے کے لیے ایک کھجور کے تنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ درد کی شدت کو برداشت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر عورت وضع حمل کے وقت کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لے تو اس میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّااللہ کی وہ بندی ممکنہ اندیشوں سے کانپ رہی تھی کہ اب میں اس بچے کا کیا کروں گی ؟ لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ دنیا کیا کہے گی ؟ کاش یہ وقت آنے سے پہلے ہی مجھے موت آگئی ہوتی اور میری یاد تک لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوچکی ہوتی۔
آیت 24 فَنَادٰٹہَا مِنْ تَحْتِہَآ یہاں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ جس فرشتے نے پہلے بشارت دی تھی اسی نے اب بھی انہیں آواز دی۔ مِنْ تَحْتِہَآ کا مفہوم یہی لیا گیا ہے کہ اس وقت حضرت مریم نسبتاً بلند جگہ پر ہوں گی اور وہ فرشتہ ذرا نشیب میں ہوگا۔ ویسے بھی وضع حمل کے موقع پر فرشتے کا آپ کے بالکل قریب رہنامناسب نہیں تھا۔ لیکن مِنْ تَحْتِہَا کی ایک قراءت مَنْ تَحْتَہَآ بھی ہے ‘ یعنی اسے پکارا اس نے جو اس کے نیچے تھا۔ اس ترجمے کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ ولادت کے فوراً بعد بچہ بول پڑا اور میں یہاں اسی مفہوم کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت بچے نے کلام نہ کیا ہوتا تو حضرت مریم کو کیسے یقین آتا کہ یہ بچہ لوگوں کے سوالات کا خود ہی جواب دے گا اور وہ بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے آنے پر کیونکر تیار ہوجاتیں۔ بہر حال وہ جو نیچے تھا اس نے آپ کو پکار کر کہا :اَ لَّا تَحْزَنِیْ اگر یہ حضرت مسیح علیہ السلام یعنی نومولود ہی کا کلام ہے تو گویا آپ علیہ السلام اپنی والدہ کو تسلی دے رہے ہیں کہّ امی جان ! آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔