سورہ مریم (19): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Maryam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ مريم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ مریم کے بارے میں معلومات

Surah Maryam
سُورَةُ مَرۡيَمَ
صفحہ 306 (آیات 12 سے 25 تک)

يَٰيَحْيَىٰ خُذِ ٱلْكِتَٰبَ بِقُوَّةٍ ۖ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْحُكْمَ صَبِيًّا وَحَنَانًا مِّن لَّدُنَّا وَزَكَوٰةً ۖ وَكَانَ تَقِيًّا وَبَرًّۢا بِوَٰلِدَيْهِ وَلَمْ يَكُن جَبَّارًا عَصِيًّا وَسَلَٰمٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ مَرْيَمَ إِذِ ٱنتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا فَٱتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَآ إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا قَالَتْ إِنِّىٓ أَعُوذُ بِٱلرَّحْمَٰنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّا قَالَ إِنَّمَآ أَنَا۠ رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَٰمًا زَكِيًّا قَالَتْ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى غُلَٰمٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَىَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَهُۥٓ ءَايَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا ۞ فَحَمَلَتْهُ فَٱنتَبَذَتْ بِهِۦ مَكَانًا قَصِيًّا فَأَجَآءَهَا ٱلْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ ٱلنَّخْلَةِ قَالَتْ يَٰلَيْتَنِى مِتُّ قَبْلَ هَٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا فَنَادَىٰهَا مِن تَحْتِهَآ أَلَّا تَحْزَنِى قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا وَهُزِّىٓ إِلَيْكِ بِجِذْعِ ٱلنَّخْلَةِ تُسَٰقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا
306

سورہ مریم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ مریم کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

"اے یحییٰؑ! کتاب الٰہی کو مضبوط تھام لے" ہم نے اُسے بچپن ہی میں "حکم" سے نوازا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya yahya khuthi alkitaba biquwwatin waataynahu alhukma sabiyyan

آیت 12 یٰیَحْیٰی خُذِ الْکِتٰبَ بِقُوَّۃٍ کتاب سے مراد یہاں زبور ‘ تورات اور دیگر صحائف ہیں جو اس وقت بنی اسرائیل کے درمیان موجود تھے۔وَاٰتَیْنٰہُ الْحُکْمَ صَبِیًّااب حضرت یحییٰ علیہ السلام کے خصوصی اوصاف بیان کیے جا رہے ہیں۔ یوں سمجھئے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام John The Baptist and Jesus of Nazarat دونوں ایسی غیر معمولی شخصیات ہیں کہ ان جیسے اوصاف دوسرے انبیاء و رسل علیہ السلام میں بھی نہیں پائے گئے۔ چناچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کو بچپن ہی میں حکمت عطا کردی گئی۔

اردو ترجمہ

اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی اور پاکیزگی عطا کی اور وہ بڑا پرہیزگار

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahananan min ladunna wazakatan wakana taqiyyan

اردو ترجمہ

اور اپنے والدین کا حق شناس تھا وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wabarran biwalidayhi walam yakun jabbaran AAasiyyan

آیت 14 وَّبَرًّام بِوَالِدَیْہِ وَلَمْ یَکُنْ جَبَّارًا عَصِیًّایہ اوصاف اللہ تعالیٰ کی خصوصی عطا کے طور پر حضرت یحییٰ علیہ السلام کی گھٹیّ میں ڈال دیے گئے۔

اردو ترجمہ

سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اٹھایا جائے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wasalamun AAalayhi yawma wulida wayawma yamootu wayawma yubAAathu hayyan

آیت 15 وَسَلٰمٌ عَلَیْہِ یَوْمَ وُلِدَ وَیَوْمَ یَمُوْتُ وَیَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّایہاں پر حضرت زکریا اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قصہ اختتام کو پہنچا اور اب آگے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قصہ بیان کیا جا رہا ہے۔

اردو ترجمہ

اور اے محمدؐ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur fee alkitabi maryama ithi intabathat min ahliha makanan sharqiyyan

آیت 16 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ مَرْیَمَ 7 اِذِ انْتَبَذَتْ مِنْ اَہْلِہَا مَکَانًا شَرْقِیًّاحضرت مریم سلامٌ علیہا نے اپنے لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر ہیکل سلیمانی کے مشرقی گوشے میں خود کو مقیدّ کرلیا۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ کے لیے اعتکاف کی کیفیت تھی۔

اردو ترجمہ

اور پردہ ڈال کر اُن سے چھپ بیٹھی تھی اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو (یعنی فرشتے کو) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faittakhathat min doonihim hijaban faarsalna ilayha roohana fatamaththala laha basharan sawiyyan

آیت 17 فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُوْنِہِمْ حِجَابًاانہوں نے گوشے میں پردہ تان کر خلوت کا ماحول بنا لیا تاکہ یکسوئی سے اللہ کی عبادت کرسکیں۔ فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْہَا رُوْحَنَا یہاں پر روح بمعنی فرشتہ ہے۔ قبل ازیں تفصیلاً بیان ہوچکا ہے کہ فرشتہ بھی روح ہے ‘ وحی بھی روح ہے ‘ قرآن بھی روح ہے اور روح انسانی بھی روح ہے۔ فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًاسَوِیًّایعنی فرشتہ ان کے سامنے ایک مکمل انسان کی صورت میں نمودار ہوا۔

اردو ترجمہ

مریم یکایک بول اٹھی کہ"اگر تو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتی ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qalat innee aAAoothu bialrrahmani minka in kunta taqiyyan

آیت 18 قَالَتْ اِنِّیْٓ اَعُوْذُ بالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّااچانک ایک مرد کو اپنی خلوت گاہ میں دیکھ کر حضرت مریم سلامٌ علیہا گھبرا گئیں کہ وہ کسی بری نیت سے نہ آیا ہو۔ چناچہ انہوں نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ چاہتی ہوں ‘ اور اگر تم اللہ سے ڈرنے والے ہو ‘ تمہارے دل میں اللہ کا کچھ بھی خوف ہے تو کسی برے ارادے سے باز رہنا۔

اردو ترجمہ

اُس نے کہا "میں تو تیرے رب کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala innama ana rasoolu rabbiki liahaba laki ghulaman zakiyyan

اردو ترجمہ

مریم نے کہا "میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qalat anna yakoonu lee ghulamun walam yamsasnee basharun walam aku baghiyyan

اردو ترجمہ

فرشتے نے کہا "ایسا ہی ہوگا، تیرا رب فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala kathaliki qala rabbuki huwa AAalayya hayyinun walinajAAalahu ayatan lilnnasi warahmatan minna wakana amran maqdiyyan

آیت 21 قَالَ کَذٰلِکِ یعنی کسی مرد کے تعلق کے بغیر ہی اللہ تعالیٰ آپ کو بیٹا عطا فرمائے گا۔قَالَ رَبُّکِ ہُوَ عَلَیَّ ہَیِّنٌج وَلِنَجْعَلَہٗٓ اٰیَۃً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَۃً مِّنَّاج وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّایعنی اس بچے کو ہم لوگوں کے لیے معجزہ اور اپنی رحمت کا ذریعہ بنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی معجزہ تھی ‘ آپ علیہ السلام کا رفع سماوی بھی معجزہ تھا اور اس کے علاوہ بھی آپ علیہ السلام کو بہت سے معجزات عطا ہوئے تھے۔ غرض آپ علیہ السلام کی شخصیت ہر لحاظ سے غیر معمولی ‘ ممیز اور ممتاز تھی۔

اردو ترجمہ

مریم کو اس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fahamalathu faintabathat bihi makanan qasiyyan

آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّااس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“

اردو ترجمہ

پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھُجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا وہ کہنے لگی " کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faajaaha almakhadu ila jithAAi alnnakhlati qalat ya laytanee mittu qabla hatha wakuntu nasyan mansiyyan

آیت 23 فَاَجَآءَ ہَا الْمَخَاضُ اِلٰی جِذْعِ النَّخْلَۃِ ولادت کے وقت جب درد زہ کی شدت بڑھی تو حضرت مریم نے سہارے کے لیے ایک کھجور کے تنے کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ یہ درد کی شدت کو برداشت کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر عورت وضع حمل کے وقت کسی چیز کو مضبوطی سے تھام لے تو اس میں درد کو برداشت کرنے کی ہمت پیدا ہوجاتی ہے۔قَالَتْ یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ہٰذَا وَکُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّااللہ کی وہ بندی ممکنہ اندیشوں سے کانپ رہی تھی کہ اب میں اس بچے کا کیا کروں گی ؟ لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ دنیا کیا کہے گی ؟ کاش یہ وقت آنے سے پہلے ہی مجھے موت آگئی ہوتی اور میری یاد تک لوگوں کے ذہنوں سے محو ہوچکی ہوتی۔

اردو ترجمہ

فرشتے نے پائنتی سے اس کو پکار کر کہا "غم نے کر تیرے رب نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fanadaha min tahtiha alla tahzanee qad jaAAala rabbuki tahtaki sariyyan

آیت 24 فَنَادٰٹہَا مِنْ تَحْتِہَآ یہاں عام مفسرین کا خیال یہ ہے کہ جس فرشتے نے پہلے بشارت دی تھی اسی نے اب بھی انہیں آواز دی۔ مِنْ تَحْتِہَآ کا مفہوم یہی لیا گیا ہے کہ اس وقت حضرت مریم نسبتاً بلند جگہ پر ہوں گی اور وہ فرشتہ ذرا نشیب میں ہوگا۔ ویسے بھی وضع حمل کے موقع پر فرشتے کا آپ کے بالکل قریب رہنامناسب نہیں تھا۔ لیکن مِنْ تَحْتِہَا کی ایک قراءت مَنْ تَحْتَہَآ بھی ہے ‘ یعنی اسے پکارا اس نے جو اس کے نیچے تھا۔ اس ترجمے کے مطابق مفہوم یہ ہوگا کہ ولادت کے فوراً بعد بچہ بول پڑا اور میں یہاں اسی مفہوم کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس لیے کہ اگر اس وقت بچے نے کلام نہ کیا ہوتا تو حضرت مریم کو کیسے یقین آتا کہ یہ بچہ لوگوں کے سوالات کا خود ہی جواب دے گا اور وہ بچے کو لے کر لوگوں کے سامنے آنے پر کیونکر تیار ہوجاتیں۔ بہر حال وہ جو نیچے تھا اس نے آپ کو پکار کر کہا :اَ لَّا تَحْزَنِیْ اگر یہ حضرت مسیح علیہ السلام یعنی نومولود ہی کا کلام ہے تو گویا آپ علیہ السلام اپنی والدہ کو تسلی دے رہے ہیں کہّ امی جان ! آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔

اردو ترجمہ

اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تر و تازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wahuzzee ilayki bijithAAi alnnakhlati tusaqit AAalayki rutaban janiyyan
306