یہ اس پاک دامن دوشیزہ کے لئے تیسرا دھچکا ہے۔ سیاق کلام میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ یہ حمل کیسے ٹھہرا ، کتنا عرصہ رہا یا کوئی عادی حمل تھا جس طرح عورتوں کو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کی جانب سے ایک پھونک تھی اور عورت کے رحم میں بیضے کے اندر حرکت پیدا ہوگئی۔ یہ خون کالوتھڑا بن گیا ، اس کے اندر ہڈیاں بن گئیں ، ہڈیوں پر گوشت بننا شروع ہوگیا اور جنین نے حمل کا مقررہ وقت پورا کیا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ عورت کے بیضے میں حرکت پیدا کی اور اس نے اپنا طبیعی عمل شروع کردیا۔ یہ بیھ ممکن ہے کہ اس غیر معمولی واقعہ میں بیضے نے اپنا عادی کورس پورا نہ کیا ہو ، یہ تمام مراحل اعجوبے کی طرح جلدی جلدی طے ہوگئے ہوں اور رحم مادر میں بچہ جلدی جلدی تکمیل کے مراحل طے کر گیا ہو۔ یہاں ایٓت میں تو کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ دونوں طریقفوں اور امکانیات میں سے کون سا عمل ہوا۔ لہٰذا ہم بھی اس بحث میں نہیں پڑتے جس کے بارے میں تحقیق کے لئے مہارے پاس کوئی مسند مواد نہیں ہے۔ ہمیں جو بات یہاں بتائی اور دکھائی جاتی ہے وہ صرف یہ ہے کہ حمل ٹھہرا اور مریم اپنی فیملی سے دور ایک تنہا مقام میں چلی گئی ہیں۔ یہ صورت حالات ان کے لئے سابقہ حالات سے زیادہ خوفناک ہے پہلے موقف میں تو ان کو صرف اپنے کنوارے پن ، تربیت اور اخلاق کی فکر تھی ، یہ صرف ان کا خفیہ مسئلہ تھا۔ خفیہ رہ سکتا تھا ، لیکن یہاں یہ مسئلہ اب سوسائٹی کے سامنے آنے الا ہے۔ نفسیاتی تکالیف کے ساتھ اب وہ جسمانی تکالیف سے بھی دوچار ہیں۔ دردزہ کی تکلیف انہیں کھجور کے ایک تنے کے پاس لاتی ہے۔ وہ مجبوراً اس درخت کا سہارا لیتی ہے۔ یہاں یہ یکہ و تنہا ہے۔ کنوارے پن کی پہلی ولادت میں زچگی کی تکالیف بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ وہ کچھ تجربہ نہیں رکھتیں ، کوئی معاون و مددگار بھی نہیں ہے ، اچانک اس کے منہ سے یہ کلمات نکلتے ہیں۔
آیت 22 فَحَمَلَتْہُ فَانْتَبَذَتْ بِہٖ مَکَانًا قَصِیًّااس پریشانی میں کہ حمل بڑھے گا تو لوگ کیا کہیں گے ‘ حضرت مریم تنہائی کی غرض سے بیت اللحم چلی گئیں ‘ جو ہیکل سلیمانی سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھا۔“
مریم (علیہا السلام) اور حضرت جبرائیل ؑ۔مروی ہے کہ جب آپ فرمان الہٰی تسلیم کر چکیں اور اس کے آگے گردن جھکا دی تو حضرت جبرائیل ؑ نے ان کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری۔ جس سے انہیں بحکم رب حمل ٹھہر گیا اب تو سخت گبھرائیں اور یہ خیال کلیجہ مسوسنے لگا کہ میں لوگوں کو کیا منہ دکھاؤں گی ؟ لاکھ اپنی برات پیش کروں لیکن اس انوکھی بات کو کون مانے گا ؟ اسی گھبراہٹ میں آپ تھیں کسی سے یہ واقعہ بیان نہیں کیا تھا ہاں جب آپ اپنی خالہ حضرت زکریا (علیہا السلام) کی بیوی کے پاس گئیں تو وہ آپ سے معانقہ کرکے کہنے لگیں بچی اللہ کی قدرت سے اور تمہارے خالو کی دعا سے میں اس عمر میں حاملہ ہوگئی ہوں۔ آپ نے فرمایا خالہ جان میرے ساتھ یہ واقعہ گزرا اور میں بھی اپنے آپ کو اسی حالت میں پاتی ہوں چونکہ یہ گھرانہ نبی کا گھرانہ تھا۔ وہ قدرت الہٰی پر اور صداقت مریم پر ایمان لائیں۔ اب یہ حالت تھی کہ جب کبھی یہ دونوں پاک عورتیں ملاقات کرتیں تو خالہ صاحبہ یہ محسوس فرماتیں کہ گویا ان کا بچہ بھانجی کے بچے کے سامنے جھکتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے۔ ان کے مذہب میں یہ جائز بھی تھا اسی وجہ سے حضرت یوسف ؑ کے بھائیوں نے اور آپ کے والد نے آپ کو سجدہ کیا تھا۔ اور اللہ نے فرشتوں کو حضرت آدم ؑ کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن ہماری شریعت میں یہ تعظیم اللہ کے لیے مخصوص ہوگئی اور کسی دوسرے کو سجدہ کرنا حرام ہوگیا کیونکہ یہ تعظیم الہٰی کے خلاف ہے۔ اس کی جلالت کے شایان شان نہیں۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ خالہ زاد بھائی تھے۔ دونوں ایک ہی وقت حمل میں تھے۔ حضرت یحییٰ ؑ کی والدہ اکثر حضرت مریم سے فرماتی تھیں کہ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میرا بچہ تیرے بچے کے سامنے سجدہ کرتا ہے۔ امام مالک ؒ فرماتے ہیں اس سے حضرت عیسیٰ ؑ کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ اللہ نے آپ کے ہاتھوں اپنے حکم سے مردوں کو زندہ کردیا اور مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو بھلا چنگا کردیا۔ جمہور کا قول تو یہ ہے کہ آپ نو مہینے تک حمل میں رہے۔ عکرمہ ؒ فرماتے ہیں آٹھ ماہ تک۔ اسی لئے آٹھ ماہ کے حمل کا بچہ عموما زندہ نہیں رہتا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں حمل کے ساتھ ہی بچہ ہوگیا۔ یہ قول غریب ہے۔ ممکن ہے آپ نے آیت کے ظاہری الفاظ سے یہ سمجھا ہو کیونکہ حمل کا الگ ہونے کا اور دردزہ کا ذکر ان آیتوں میں "" کے ساتھ ہے اور "" تعقیب کے لئے آتی ہے۔ لیکن تعقیب ہر چیز کی اس کے اعتبار سے ہوتی ہے جیسے عام انسانوں کی پیدائش کا حال آیت قرآن (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ 12 ۚ) 23۔ المؤمنون :12) میں ہوا ہے کہ ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر اسے بصورت نطفہ رحم میں ٹھہرایا پھر نطفے کو پھٹکی بنایا پھر اس پھٹکی کو لو تھڑا بنایا، پھر اس لوتھڑے میں ہڈیاں پیدا کیں۔ یہاں بھی دو جگہ "" ہے اور ہے بھی تعقیب کے لیے۔ لیکن حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دو حالتوں میں چالیس دن کا فاصلہ ہوتا ہے۔ قرآن کریم کی آیت میں ہے (اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً ۡ فَتُصْبِحُ الْاَرْضُ مُخْضَرَّةً ۭ اِنَّ اللّٰهَ لَطِيْفٌ خَبِيْرٌ 63ۚ) 22۔ الحج :63) کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے۔ پس زمین سرسبز ہوجاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ پانی برسنے کے بعد سبزہ اگتا ہے۔ حالانکہ "" یہاں بھی ہے پس تعقیب ہر چیز کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ سیدھی سی بات تو یہ ہے کہ مثل عادت عورتوں کے آپ نے حمل کا زمانہ پورا گزارا مسجد میں ہی۔ مسجد کے خادم ایک صاحب اور تھے جن کا نام یوسف نجار تھا۔ انہوں نے جب مریم (علیہا السلام) کا یہ حال دیکھا تو دل میں کچھ شک سا پیدا ہوا لیکن حضرت مریم کے زہد وتقوی، عبادت وریاضت، خشیت الہٰی اور حق بینی کو خیال کرتے ہوئے انہوں نے یہ برائی دل سے دور کرنی چاہی، لیکن جوں جوں دن گزرتے گئے حمل کا اظہار ہوتا گیا اب تو خاموش نہ رہ سکے ایک دن با ادب کہنے لگے کہ مریم میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں ناراض نہ ہونا بھلا بغیر بیج کے کسی درخت کا ہونا، بغیر دانے کے کھیت کا ہونا، بغیر باپ کے بچے کا ہونا ممکن بھی ہے ؟ آپ ان کے مطلب کو سمجھ گئیں اور جواب دیا کہ یہ سب ممکن ہے سب سے پہلے جو درخت اللہ تعالیٰ نے اگایاوہ بغیر بیج کے تھا۔ سب سے پہلے جو کھیتی اللہ نے اگائی وہ بغیر دانے کی تھی، سب سے پہلے اللہ نے آدم ؑ کو پیدا کیا وہ بےباپ کے تھے بلکہ بےماں کے بھی ان کی تو سمجھ میں آگیا اور حضرت مریم (علیہا السلام) اور اللہ کی قدرت کو نہ جھٹلا سکے۔ اب حضرت صدیقہ نے جب دیکھا کہ قوم کے لوگ ان پر تہمت لگا رہے ہیں تو آپ ان سب کو چھوڑ چھاڑ کر دور دراز چلی گئیں۔ امام محمد بن اسحاق ؒ فرماتے ہیں جب حمل کے حالات ظاہر ہوگئے قوم نے پھبتیاں پھینکی، آوازے کسنے اور باتیں بنانی شروع کردیں اور حضرت یوسف نجار جیسے صالح شخص پر یہ تہمت اٹھائی تو آپ ان سب سے کنارہ کش ہوگئیں نہ کوئی انہیں دیکھے نہ آپ کسی کو دیکھیں۔ جب دردزہ اٹھا تو آپ کجھور کے ایک درخت کی جڑ میں آبیٹھیں کہتے ہیں کہ یہ خلوت خانہ بیت المقدس کی مشرقی جانب کا حجرہ تھا۔ یہ بھی قول ہے کہ شام اور مصر کے درمیان آپ پہنچ چکی تھیں اس وقت بچہ ہونے کا درد شروع ہوا۔ اور قول ہے کہ بیت المقدس سے آپ آٹھ میل چلی گئی تھیں اس بستی کا نام بیت لحم تھا۔ معراج کے واقعہ کے بیان میں پہلے ایک حدیث گزری ہے جس میں ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی پیدائش کی جگہ بھی بیت لحم تھا۔ واللہ اعلم۔ مشہور بات بھی یہی ہے اور نصرانیوں کا تو اس پر اتفاق ہے اور اس حدیث میں بھی ہے اگر یہ صحیح ہو۔ اس وقت آپ موت کی تمنا کرنے لگیں کیونکہ دین کے فتنے کے وقت یہ تمنا بھی جائز ہے۔ جانتی تھیں کہ کوئی انہیں سچا نہ کہے گا انکے بیان کردہ واقعہ کو ہر شخص گھڑنت سمجھے گا۔ دنیا آپ کو پریشان کر دے گی اور عبادت واطمینان میں خلل پڑے گا۔ ہر شخص برائی سے یاد کرے گا اور لوگوں پر برا اثر پڑے گا۔ تو فرمانے لگیں کاش کہ میں اس حالت سے پہلے ہی اٹھالی جاتی بلکہ میں پیدا ہی نہ کی جاتی اس قدر شرم وحیا دامن گیر ہوئی کہ آپ نے اس تکلیف پر موت کو ترجیح دی اور تمنا کی کہ کاش میں کھوئی ہوئی اور یاد سے اتری ہوئی چیز ہوجاتی کہ نہ کوئی یاد کرے۔ نہ ڈھونڈے، نہ ذکر کرے، احادیث میں موت مانگنے کی ممانعت وارد ہے۔ ہم نے ان روایتوں کو آیت (تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّاَلْحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ01001) 12۔ یوسف :101) ، کی تفسیر بیان کردیا ہے۔