حضرت ادریس کے زمانے کے بارے میں صحیح معلومات نہیں ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہیں اور انبیائے بنی اسرائیل میں سے نہیں ہیں۔ اس لئے بنی اسرائیل کی کتابوں میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ قرآن کریم ان کو صدیق اور نبی کہتا ہے اور یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک عالی مقام شخص تھے ان کا ذکر دور دور تک پھیلا ہوا تھا۔
بعض لوگوں کی رائے صہم نہ اس کی تصدیق کرسکتے ہیں اور نہ انکار) یہ ہے کہ مصر کیماہرین آثار قدیمہ نے یہ لکھا ہے کہ ادریس دراصل ” اوزریس “ کے لفظ کا عربی تلفظ ہے اور یہ قدیم مصری زبان کا لفظ ہے جس طرح یحیٰ یوحنا کا عربی سلفظ ہے اور السیع الشیع کا عربی تلفظ ہے۔ ان کے بارے میں بہت سے قصے ‘ مشہور ہیں۔ یہ کہ وہ آسمانوں پر چلے گئے اور وہاں ان کے لئے ایک بڑا تخت بنایا گای۔ یہ کہ جس شخص کی نیکیاں گناہوں پر بھاری ہوگئیں تو وہ دیوتا ” اوزریس “ کے پاس چلا جائے گا۔ یہ کہ ” اوزریس “ نے آسمانوں پر چڑھنے سے قبل لوگوں کو بہت سے علوم و معارف سکھائے۔ یہ بات دل کو لگتی ہے۔
بہر حال وہ جو بھی ہیں ہمارے لئے ان کے بارے میں قرآن مجید کی دی ہوئی معلومات کا فی ہیں اور یہ بنی اسرائیل کے انبیاء سے پہلے گزرے ہیں۔
یہاں سیاق کلام میں ان انبیاء کا تذکرہ اس لئے کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ صحیح مومن ‘ اتقیاء اور انبیاء کیسے تھے اور وہ لوگ کیسے ہیں جو ان کی اولاد اور جانشیں ہونیکا دعویٰ کرتے ہیں ‘ مثلا عرب اور مشرکین بنی اسرائیل۔ دونوں کے درمیان اب کوئی بھی چیز مابہ الاشتراک نہیں ہے۔
آیت 56 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِدْرِیْسَز ”حضرت ادریس علیہ السلام ‘ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے قبل زمانے میں مبعوث ہوئے۔ ان سے پہلے ذریت آدم علیہ السلام میں حضرت شیث علیہ السلام گزر چکے تھے۔ تورات میں ان کا نام ”حنوک“ مذکور ہے۔ ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ حضرت ادریس اور حضرت شیث علیہ السلام دونوں نبی تھے ‘ جبکہ ان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول کے طور پر مبعوث ہوئے۔اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ”اس سے پہلے آیت 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ”صِدِّیْقًا نَّبِیًّا“ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی مزاج کے اعتبار سے حضرت ادریس علیہ السلام کی مناسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ دونوں شخصیات صدیقیت کے مزاج کی حامل تھیں۔
حضرت ادریس ؑ کا تعارف۔حضرت ادریس ؑ کا بیان ہو رہا ہے کہ آپ سچے نبی تھے اللہ کے خاص بندے تھے۔ آپ کو ہم نے بلند مکان پر اٹھالیا۔ صحیح حدیث کے حوالے سے پہلے گزر چکا ہے کہ چوتھے آسمان پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ادریس ؑ سے ملاقات کی۔ اس آیت کی تفسیر میں حضرت امام ابن جریر ؒ نے ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے حضرت کعب ؓ سے سوال کیا کہ اس آیت کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ حضرت ادریس ؑ کے پاس وحی آئی کہ کل اولاد آدم کے نیک اعمال کے برابر صرف تیرے نیک اعمال میں اپنی طرف ہر روز چڑھاتا ہوں۔ اس پر آپ نے ذکر کیا میرے پاس یوں وحی آئی ہے اب تم ملک الموت سے کہو کہ وہ میری موت میں تاخیر کریں تو میں نیک اعمال میں اور اور بڑھ جاؤں۔ اس فرشتے نے آپ کو اپنے پروں میں بٹھا کر آسمان پر چڑھا دیا جب چوتھے آسمان پر آپ پہنچے تو ملک الموت کو دیکھا، فرشتے نے آپ سے حضرت ادریس ؑ کی بابت سفارش کی تو ملک الموت نے فرمایا وہ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا یہ ہیں میرے بازو پر بیٹھے ہوئے آپ نے فرمایا سبحان اللہ مجھے یہاں اس آسمان پر اس کی روح کے قبض کرنے کا حکم ہو رہا ہے چناچہ اسی وقت ان کی روح قبض کرلی گئی۔ یہ ہیں اس آیت کے معنی۔ لیکن یہ یاد رہے کہ کعب ؒ کا یہ بیان اسرائیلیات میں سے ہے اور اس کے بعض میں نکارت ہے واللہ اعلم۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں یہ بھی ہے کہ آپ نے بذریعہ اس فرشتے کو پچھوایا تھا کہ میری عمر کتنی باقی ہے ؟ اور روایت میں ہے کہ فرشتے کے اس سوال پر ملک الموت نے جواب دیا کہ میں دیکھ لوں دیکھ کر فرمایا صرف ایک آنکھ کی پلک کے برابر اب جو فرشتہ اپنے پر تلے دیکھتا ہے تو حضرت ادریس ؑ کی روح پرواز ہوچکی تھی۔ ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ درزی تھے سوئی کے ایک ایک ٹانکے پر سبحان اللہ کہتے۔ شام کو ان سے زیادہ نیک عمل آسمان پر کسی کے نہ چڑھتے مجاہد ؒ تو کہتے ہیں حضرت ادریس ؑ آسمانوں پر چڑھالئے گئے۔ آپ مرے نہیں بلکہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح بےموت اٹھا لئے گئے اور وہیں انتقال فرماگئے۔ حسن ؒ کہتے بلند مکان سے مراد جنت ہے۔