سورہ مریم (19): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Maryam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ مريم کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ مریم کے بارے میں معلومات

Surah Maryam
سُورَةُ مَرۡيَمَ
صفحہ 309 (آیات 52 سے 64 تک)

وَنَٰدَيْنَٰهُ مِن جَانِبِ ٱلطُّورِ ٱلْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَٰهُ نَجِيًّا وَوَهَبْنَا لَهُۥ مِن رَّحْمَتِنَآ أَخَاهُ هَٰرُونَ نَبِيًّا وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ إِسْمَٰعِيلَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ صَادِقَ ٱلْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُۥ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱلزَّكَوٰةِ وَكَانَ عِندَ رَبِّهِۦ مَرْضِيًّا وَٱذْكُرْ فِى ٱلْكِتَٰبِ إِدْرِيسَ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا وَرَفَعْنَٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ أَنْعَمَ ٱللَّهُ عَلَيْهِم مِّنَ ٱلنَّبِيِّۦنَ مِن ذُرِّيَّةِ ءَادَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْرَٰٓءِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَٱجْتَبَيْنَآ ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُ ٱلرَّحْمَٰنِ خَرُّوا۟ سُجَّدًا وَبُكِيًّا ۩ ۞ فَخَلَفَ مِنۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَٱتَّبَعُوا۟ ٱلشَّهَوَٰتِ ۖ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَأُو۟لَٰٓئِكَ يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ شَيْـًٔا جَنَّٰتِ عَدْنٍ ٱلَّتِى وَعَدَ ٱلرَّحْمَٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ وَعْدُهُۥ مَأْتِيًّا لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًا إِلَّا سَلَٰمًا ۖ وَلَهُمْ رِزْقُهُمْ فِيهَا بُكْرَةً وَعَشِيًّا تِلْكَ ٱلْجَنَّةُ ٱلَّتِى نُورِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَن كَانَ تَقِيًّا وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ ۖ لَهُۥ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَيْنَ ذَٰلِكَ ۚ وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا
309

سورہ مریم کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ مریم کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wanadaynahu min janibi alttoori alaymani waqarrabnahu najiyyan

اردو ترجمہ

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مدد گار کے طور پر) دیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wawahabna lahu min rahmatina akhahu haroona nabiyyan

آیت 53 وَوَہَبْنَا لَہٗٓ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاہُ ہٰرُوْنَ نَبِیًّا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لیے درخواست کی تھی کہ انہیں بھی میرے ساتھ بھیجا جائے۔ اللہ نے اپنی رحمت سے آپ علیہ السلام کی یہ درخواست قبول فرماتے ہوئے حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی مقام نبوت سے سرفراز فرمایا۔ اس کی تفصیل بھی سورة طٰہٰ میں آئے گی۔

اردو ترجمہ

اور اس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur fee alkitabi ismaAAeela innahu kana sadiqa alwaAAdi wakana rasoolan nabiyyan

آیت 54 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَز اِنَّہٗ کَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ”یہ خصوصی طور پر اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو آپ علیہ السلام نے اپنے والد ماجد حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ان الفاظ میں کیا تھا : یٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُز سَتَجِدُنِیْٓ اِنْ شَآء اللّٰہُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ الصّٰفٰت ”ابا جان آپ کر گزرئیے جو آپ علیہ السلام کو حکم ہوا ہے ‘ مجھے آپ ان شاء اللہ صابرین میں سے پائیں گے“۔ یوں آپ علیہ السلام نے ذبح ہونے کے لیے اپنی گردن پیش کردی اور اس سلسلے میں صبر کرنے کا جو وعدہ کیا تھا آخر وقت تک اسے نبھایا۔وَکَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا ”جیسا کہ ”رسول نبی“ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے قبل ازیں وضاحت کی جا چکی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام مزاج کے اعتبار سے بہت متحرک اور فعال تھے اس لیے آپ علیہ السلام کو رَسُولاً نَبِیًّا کا لقب عطا ہوا ہے۔ اس ضمن میں اس سے قبل حضرت حمزہ رض کے مزاج کی بھی مثال دی گئی ہے۔ حضرت حمزہ رض حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں سے بھی تھے اور آپ رض کی شخصیت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی شخصیت سے بہت مشابہت بھی رکھتی تھی۔

اردو ترجمہ

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakana yamuru ahlahu bialssalati waalzzakati wakana AAinda rabbihi mardiyyan

آیت 55 وَکَانَ یَاْمُرُ اَہْلَہٗ بالصَّلٰوۃِ وَالزَّکٰوۃِص وَکَانَ عِنْدَ رَبِّہٖ مَرْضِیًّا ”آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بہت منظور نظر تھے۔

اردو ترجمہ

اور اس کتاب میں ادریسؑ کا ذکر کرو وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur fee alkitabi idreesa innahu kana siddeeqan nabiyyan

آیت 56 وَاذْکُرْ فِی الْْکِتٰبِ اِدْرِیْسَز ”حضرت ادریس علیہ السلام ‘ حضرت آدم علیہ السلام کے بعد اور حضرت نوح علیہ السلام سے قبل زمانے میں مبعوث ہوئے۔ ان سے پہلے ذریت آدم علیہ السلام میں حضرت شیث علیہ السلام گزر چکے تھے۔ تورات میں ان کا نام ”حنوک“ مذکور ہے۔ ان کا ذکر قرآن میں نہیں ہے۔ حضرت ادریس اور حضرت شیث علیہ السلام دونوں نبی تھے ‘ جبکہ ان کے بعد حضرت نوح علیہ السلام پہلے رسول کے طور پر مبعوث ہوئے۔اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا ”اس سے پہلے آیت 41 میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی ”صِدِّیْقًا نَّبِیًّا“ کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ یعنی مزاج کے اعتبار سے حضرت ادریس علیہ السلام کی مناسبت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ تھی۔ دونوں شخصیات صدیقیت کے مزاج کی حامل تھیں۔

اردو ترجمہ

اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WarafaAAnahu makanan AAaliyyan

آیت 57 وَّرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا ”اسرائیلی روایات کے زیر اثربعض لوگوں نے اس سے رفع سماوی مراد لیا ہے کہ حضرت ادریس علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح زندہ اٹھا لیا تھا۔ معراج کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کی چوتھے آسمان پر حضرت ادریس علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں الفاظ قرآنی بہت واضح ہیں : رَافِعُکَ اِلَیَّ آل عمران : 55 کہ میں آپ علیہ السلام کو اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ ان الفاظ سے رفع سماوی کا مفہوم متعین ہوجاتا ہے ‘ جبکہ حضرت ادریس علیہ السلام کے بارے میں آیت زیر نظر میں لفظ ”رفع“ کے ساتھ ”اِلٰی“ کی عدم موجودگی میں یہ مفہومّ متعین نہیں ہوتا۔ چناچہ یہاں پر اس لفظ کا یہی مفہوم مراد لیا جاسکتا ہے کہ ہم نے انہیں بلند مقام عطا کیا۔

اردو ترجمہ

یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، ا ور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika allatheena anAAama Allahu AAalayhim mina alnnabiyyeena min thurriyyati adama wamimman hamalna maAAa noohin wamin thurriyyati ibraheema waisraeela wamimman hadayna waijtabayna itha tutla AAalayhim ayatu alrrahmani kharroo sujjadan wabukiyyan

آیت 58 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ ”سورۃ النساء کی آیت 69 میں مُنْعَمْ عَلَیھِم لوگوں کے جن چار طبقات کا بیان ہے ‘ ان میں سے اعلیٰ ترین طبقہ کے افراد یعنی انبیاء کرام علیہ السلام کا یہاں اللہ کے انعامات کے حوالے سے تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔

اردو ترجمہ

پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fakhalafa min baAAdihim khalfun adaAAoo alssalata waittabaAAoo alshshahawati fasawfa yalqawna ghayyan

آیت 59 فَخَلَفَ مِنْم بَعْدِہِمْ خَلْفٌ ””خَلْف“ کا لفظ جب ”ل“ ساکن کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ”نا خلف“ کے لیے جاتے ہیں۔ یعنی اپنے اسلاف کے کردار کے خلاف عمل کرنے والے اور ان کی نیک نامی اور بزرگی کوّ بٹہ لگانے والے لوگ۔اَضَاعُوا الصَّلٰوۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّا ”یعنی عنقریب وہ گمراہی کے انجام سے دو چار ہوں گے۔

اردو ترجمہ

البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہو گی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Illa man taba waamana waAAamila salihan faolaika yadkhuloona aljannata wala yuthlamoona shayan

آیت 60 اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ وَلَا یُظْلَمُوْنَ شَیْءًا ” ان کے اعمال کا انہیں پورا بدلہ دیا جائے گا اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہیں کی جائے گی۔

اردو ترجمہ

ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے در پردہ وعدہ کر رکھا ہے اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Jannati AAadnin allatee waAAada alrrahmanu AAibadahu bialghaybi innahu kana waAAduhu matiyyan

آیت 61 جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَہٗ بالْغَیْبِ ط ”اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن میں ایسے وعدے جگہ جگہ کیے گئے ہیں۔ دنیوی زندگی میں نہ تو کسی نے جنت کو دیکھا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کو۔ یہ سارا معاملہ غیب ہی کا ہے۔ چناچہ جو شخص اللہ کو اور اس کے ایسے تمام وعدوں کو مانتا ہے وہ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیب کے مصداق غیب پر ایمان لاتا ہے۔اِنَّہٗ کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا ”وہ اپنے وقت پر پورا ہو کر رہے گا۔

اردو ترجمہ

وہاں وہ کوئی بے ہودہ بات نہ سُنیں گے، جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سنیں گے اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La yasmaAAoona feeha laghwan illa salaman walahum rizquhum feeha bukratan waAAashiyyan

آیت 62 لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ط ”جنت میں ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آرہی ہوں گی۔ ہر طرف سے فرشتوں کا ورود ہوگا اور وہ اہل جنت کو سلام کہہ رہے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں اس مضمون کو ایسے بیان فرمایا گیا ہے : لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ”وہ اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے ‘ مگر ایک ہی بات : سلام ! سلام !“

اردو ترجمہ

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیزگار رہا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Tilka aljannatu allatee noorithu min AAibadina man kana taqiyyan

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، ہم تمہارے رب کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رب بھولنے والا نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama natanazzalu illa biamri rabbika lahu ma bayna aydeena wama khalfana wama bayna thalika wama kana rabbuka nasiyyan

آیت 64 وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ ج ”یہاں سے ایک بہت اہم مضمون کا آغاز ہو رہا ہے اور یہ بات اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو قرآن کے ساتھ جو والہانہ محبت تھی ‘ جو عشق تھا ‘ اس کا جو شغف اور شوق تھا ‘ اس کی بنا پر وحی میں وقفہ آپ ﷺ پر بہت شاق گزرتا تھا۔ آپ ﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ وحی جلد از جلد آتی رہے تاکہ اس سے آپ ﷺ اپنے وجودُِ پر نور کو مزید منور کرتے رہیں۔ اس حوالے سے آپ ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے شکوہ کیا کہ آپ کی آمد وقفے وقفے سے ہوتی ہے ‘ ہم انتظار کرتے رہتے ہیں۔ آپ ﷺ کے اس شکوہ کا یہاں جبرائیل کی طرف سے جواب دیا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ہم اپنی مرضی سے نازل نہیں ہوتے ‘ ہم تو آپ کے رب کے حکم کے پابند ہیں۔ اس کا اذن ہوتا ہے تو ہم نازل ہوتے ہیں۔لَہٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَمَا خَلْفَنَا وَمَا بَیْنَ ذٰلِکَ ج ”ان الفاظ میں بہت گہرائی ہے۔ آگے اور پیچھے کے درمیان میں کون ہے ؟ وہی جو یہاں متکلم ہیں ‘ یعنی خود جبرائیل ! مراد یہ کہ میں بالکلیہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہوں اور فرشتے کی یہی شان ہے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کے احکام سے ِ سرمو سرتابی نہیں کرتے ‘ جیسا کہ سورة التحریم میں فرمایا گیا ہے : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا وہ انہیں حکم دے ‘ اور وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔“وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا ”اے نبی ﷺ ! ہم آپ کے رب کی اجازت اور مشیت سے وحی لے کر نازل ہوتے ہیں۔ اس میں جو تاخیر ہوتی ہے وہ کسی نسیان کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ اس کی مرضی اور حکمت سے ہوتی ہے۔ سورة الفرقان میں اس حکمت کی وضاحت ان الفاظ میں بیان فرمائی گئی ہے : کَذٰلِکَج لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰہُ تَرْتِیْلًا ”اسی طرح ہم نے اسے نازل کیا تاکہ مضبوط کردیں اس کے ساتھ آپ ﷺ کا دل اور اسی لیے ہم نے اسے پڑھ کر سنایا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے“۔ اور سورة بنی اسرائیل میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے : وَقُرْاٰناً فَرَقْنٰہُ لِتَقْرَاَہٗ عَلَی النَّاسِ عَلٰی مُکْثٍ وَّنَزَّلْنٰہُ تَنْزِیْلاً ”اور قرآن کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا ہے ‘ تاکہ آپ ﷺ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنائیں ٹھہر ٹھہر کر ‘ اور ہم نے اس کو اتارا ہے تھوڑا تھوڑا کر کے۔“

309