انسانی تاریخ کے باب نبوت میں ‘ قرآن کریم نے یہاں ممتاز ترین لوگوں پر اکتفاء کیا ہے۔ یہ من ذریۃ ادم (91 : 85) ” اولاد آدم سے “ ہیں۔ وممن حملنا مع نوح (91 : 85) ” اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا “۔ اور ومن ذریۃ ابرھیم واسرائیل (91 : 85) ” اور ابراہیم اور یعقوب کی اولاد میں سے “۔ آدم تو سب کے جد امجد ہیں ‘ نوح بھی آدم ثانی ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) نبوت کی دو مشہور شاخوں کے باپ ہیں اور یعقوب بنی اسرائیل کے جد امجد ہیں جن میں بیشمار رسول اور نبی آئے اور اسماعیل کی طرف عربوں کی نسبت ہے جن کی اولاد میں نبی آخرالزمان مبعوث ہیں۔ یہ نبی اور انکا اتباع کرنے والے صالح اور برگزیدہ لوگ اور ان کی اولاد ‘ یہ کون لوگ ہیں ؟ ان کی ممتاز صفت یہ ہے۔
اذا تتلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وب کیا (91 : 85 السجدۃ) ” جب رحمن کی آیات ان کو سنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گرجاتے تھے “۔ یہ ایسے پرہیز گار لوگ تھے جو ذات باری کے بارے میں بہت ہی حساس تھے۔ جب اللہ کی آیات ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے وجدان میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔ ان پر اس قدر اثر ہوتا ہے کہ اس کے اظہار کے لئے ان کو موزوں کلمات نہیں ملتے جن کے ذریعے وہ اپنے احساسات کا اظہار کرسکیں۔ ان احساسات کا اظہار وہ آنسوئوں سے کرتے ہیں اور معاً سجدے میں گر کر اور رو کر وہ اپنے جذبات اندرونی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان حساس ‘ متقی آیات الہی سن کر رونے والوں کے بعد پھر کون آیا ؟ ان کے بعد ایسے اخلاف آئے جو اللہ سے دور ہوگئے۔
آیت 58 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ ”سورۃ النساء کی آیت 69 میں مُنْعَمْ عَلَیھِم لوگوں کے جن چار طبقات کا بیان ہے ‘ ان میں سے اعلیٰ ترین طبقہ کے افراد یعنی انبیاء کرام علیہ السلام کا یہاں اللہ کے انعامات کے حوالے سے تذکرہ فرمایا جا رہا ہے۔
انبیاء کی جماعت کا ذکر۔فرمان الہٰی ہے کہ یہ ہے جماعت انبیاء یعنی جن کا ذکر اس سورت میں ہے یا پہلے گزرا ہے یا بعد میں آئے گا یہ لوگ اللہ کے انعام یافتہ ہیں۔ پس یہاں شخصیت سے جنس کی طرف استطراد ہے۔ یہ ہیں اولاد آدم سے یعنی حضرت ادریس صلوات اللہ وسلامہ علیہ اور اولاد سے ان کی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں سوار کرا دئے گئے تھے اس سے مراد حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ ہیں۔ اور ذریت ابراہیم ؑ سے مراد حضرت اسحاق، حضرت یعقوب حضرت اسماعیل ہیں اور ذریت اسرائیل سے مراد حضرت موسیٰ ، حضرت ہارون، حضرت زکریا، حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ ہیں علیہم السلام۔ یہی قول ہے حضرت سدی ؒ اور ابن جریر ؒ کا۔ اسی لئے ان کے نسب جداگانہ بیان فرمائے گئے کہ گو اولاد آدم میں سب ہیں مگر ان میں بعض وہ بھی ہیں جو ان بزرگوں کی نسل سے نہیں جو حضرت نوح ؑ کے ساتھی تھے کیونکہ حضرت ادریس تو حضرت نوح ؑ کے دادا تھے۔ میں کہتا ہوں بظاہر یہی ٹھیک ہے کہ حضرت نوح ؑ کے اوپر کے نسب میں اللہ کے پیغمبر حضرت ادریس ؑ ہیں۔ ہاں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ حضرت ادریس بنی اسرائیلی نبی ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ معراج والی حدیث میں حضرت ادریس کا بھی حضور ﷺ سے یہ کہنا مروی ہے کہ مرحبا ہو بنی صالح اور بھائی صالح کو مرحبا ہو۔ تو بھائی صالح کہا نہ کہ صالح ولد جیسے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت آدم (علیہما السلام) نے کہا تھا۔ مروی ہے کہ حضرت ادریس ؑ حضرت نوح ؑ سے پہلے کے ہیں۔ آپ نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ لا الہ الا اللہ کے قائل اور معتقدین بن جاؤ پھر جو چاہو کرو لیکن انہوں نے اس کا انکار کیا اللہ عزوجل نے ان سب کو ہلاک کردیا۔ ہم نے اس آیت کو جنس انبیاء کے لئے قرار دیا ہے اس کی دلیل سورة انعام کی وہ آیتیں ہیں جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت یعقوب ؑ ، حضرت نوح ؑ ، حضرت داؤد ؑ ، حضرت سیلمان ؑ ، حضرت ایوب ؑ ، حضرت یوسف ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت ہارون ؑ ، حضرت زکریا ؑ ، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ ؑ ، حضرت الیاس ؑ ، حضرت اسماعیل ؑ ، حضرت یونس ؑ ، وغیرہ کا ذکر ہے اور تعریف کرنے کے بعد فرمایا (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ ۭ قُلْ لَّآ اَسْــــَٔـلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا ۭاِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰي لِلْعٰلَمِيْنَ 90) 6۔ الانعام :90) یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تو ابھی ان کی ہدایت کی اقتدا کر اور یہ بھی فرمایا ہے کہ نبیوں میں سے بعض کے واقعات ہم نے بیان کردیے ہیں اور بعض کے واقعات تم تک پہنچے ہی نہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضرت مجاہد ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے سوال کیا کہ کیا سورة ص میں سجدہ ہے آپ نے فرمایا ہاں پھر اسی آیت کی تلاوت کر کے فرمایا تمہارے نبی ﷺ کو ان کی اقتدا کا حکم کیا گیا ہے اور حضرت داؤد ؑ بھی مقتدا نبیوں میں سے ہیں۔ فرمان ہے کہ ان پیغمبروں کے سامنے جب کلام اللہ شریف کی آیتیں تلاوت کی جاتی تھیں تو اس کے دلائل وبراہین پر خشوع وخضوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر واحسان مانتے ہوئے روتے گڑگڑاتے سجدے میں گرپڑتے تھے اسی لئے اس آیت پر سجدہ کرنے کا حکم علماء کا متفق علیہ مسئلہ ہے تاکہ ان پیغمبروں کی اتباع اوراقتدا ہوجائے۔ امیر المومنین عمر بن خطاب ؓ نے سورة مریم کی تلاوت کی اور جب اس آیت پر پہنچے تو سجدہ کیا پھر فرمایا سجدہ تو کیا لیکن وہ رونا کہاں سے لائیں ؟ (ابن ابی حاتم اور ابن جریر)