لایسمعون۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الاسلما (91 : 26) ” وہاں وہ کوئی بیہودہ بات نہ سنیں گے ‘ جو بات بھی سنیں گے صحیح سنیں گے “۔ کوئی فضول بات وہاں نہ ہوگی ‘ نہ شور و شغب ہوگا۔ وہاں ہر طرف سے سلامتی ہی سلامتی ہوگی۔ اس جنت میں ضروریات اور رزق ہر وقت مطابق خواہش دستیاب ہوگا۔ کسی نفس کو کوئی قلق نہ ہوگا ‘ کوئی خوف نہ ہوگا۔ کسی چیز کی کمی کا خطرہ نہ ہوگا۔
ولھم۔۔۔۔۔ وعشیا (91 : 26) ” اور ان کا رزق انہیں صبح و شام پہیم ملتارہ گا “۔ مطابق خواہش۔۔۔۔ غرض نہایت ہی خوشگوار ماحول ہوگا اور اللہ کی نعمتوں کا ہر سوا علان ہوگا۔
آیت 62 لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا ط ”جنت میں ہر طرف سے سلام سلام کی آوازیں آرہی ہوں گی۔ ہر طرف سے فرشتوں کا ورود ہوگا اور وہ اہل جنت کو سلام کہہ رہے ہوں گے۔ سورة الواقعہ میں اس مضمون کو ایسے بیان فرمایا گیا ہے : لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْہَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِیْمًا۔ اِلَّا قِیْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ”وہ اس میں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے ‘ مگر ایک ہی بات : سلام ! سلام !“