ویکونون علیھ ضدا (91 : 28) ” اور یہ الٹے ان کے مخالف بن جائیں گے “۔ یعنی ان سے بری الذمہ ہوجائیں گے اور ان کے خلاف شہادت دیں گے “۔ جو شیاطین ان کو اس کام پر اکسا رہے ہیں ‘ یہ ہم نے ان پر مسلط کیے ہیں۔ ان کو اللہ نے اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ان لوگوں کو ورغلا سکتے ہیں اور یہ اس وقت سے ماذون ہیں جب سے ابلیس نے اللہ سے اجازت چاہی کہ مجھے مہلت دیں۔
آیت 82 کَلَّاط سَیَکْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِہِمْ ”یہ مضمون قرآن میں بار بار آیا ہے کہ وہ ہستیاں جنہیں یہ لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے رہے ہوں گے ‘ وہ فرشتے ہوں ‘ اولیاء اللہ ہوں یا انبیاء ہوں ‘ قیامت کے دن وہ سب ایسے مشرکین سے اظہار برا ءت کردیں گے اور کہیں گے کہ ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ تم لوگ دنیا میں ہماری پرستش کرتے رہے ہو ‘ ہم سے دعائیں مانگتے رہے ہو اور سمجھتے رہے ہو کہ ہم تم لوگوں کو اللہ کے عذاب سے چھڑا لیں گے !