ذلک بان اللہ ۔۔۔۔۔ مولیٰ لھم (47 : 11) “ یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی و ناصر کوئی نہیں ”۔
جس کا آقا اللہ ہو اور وہ اس کا مددگار ہو تو وہ اس کے لئے کافی ہے۔ یہ شخص کسی کا محتاج نہ ہوگا ، ہر کسی سے بےنیاز ہوجائے گا۔ ایسے شخص پر اگر مشکل حالات بھی آتے ہیں تو اسے سمجھنا چاہئے کہ اس کی آزمائش ہو رہی ہے ۔ اور اس آزمائش کے بعد خیر ہی خیر ہے۔ یہ آزمائش اور یہ مشکلات اس لئے نہیں کہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے بھی نہیں کہ اللہ نے اپنے بندوں کی مدد کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے ۔ بلکہ یہ ایک بندۂ مومن کی آزمائش ہوتی ہے۔ اور جس کا آقا اللہ نہ ہو تو اس کا کوئی آقا مراد ہوتا ہے اگرچہ وہ تمام جنوں اور تمام انسانوں کو آقا بنالے۔ آخر کار انسانوں پر بھروسہ کرنے والا نامراد ہوتا ہے اگرچہ دنیا کی تمام قوتیں اس کی حمایت پر مرکوز ہوں۔
اب ان لوگوں کے سازوسامان جنہوں نے ایمان قبول کیا اور ان لوگوں کے سازوسامان کے درمیان موازنہ کیا جاتا ہے جنہوں نے کفر کیا۔ یہ دونوں گروہ جو اس وقت باہم برسر پیکار ہیں ان کے درمیان فرق کیا ہے ؟ اور ان کے سازو سامان کے درمیان فرق کیا ہے ؟
آیت 11 { ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْکٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰی لَہُمْ } ”یہ اس لیے کہ اللہ مولیٰ پشت پناہ ہے اہل ایمان کا اور یہ کہ کافروں کا کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔“ اسی آیت کے الفاظ سے رسول اللہ ﷺ نے وہ نعرہ اخذ فرمایا تھا جس سے میدانِ اُحد میں کفار کے نعرے کا جواب دیا گیا تھا۔ میدانِ اُحد میں وقتی طور پر مسلمانوں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو اس دوران رسول اللہ ﷺ کچھ صحابہ رض کے ساتھ جبل احد پر تشریف لے گئے تھے۔ اس وقت ابو سفیان اور خالد بن ولید بعد میں دونوں حضرات ایمان لا کر صحابہ رض میں شامل ہوئے سمیت بہت سے سردارانِ قریش پہاڑ کے دامن میں موجود تھے۔ ان میں سے ابوسفیان نے حضور ﷺ اور مسلمانوں کو مخاطب کر کے ُ پر جوش انداز میں نعرہ بلند کیا تھا : اُعْلُ ھُبَل ، اُعْلُ ھُبَل ! ہبل کی جے ! یعنی آج ہمارے بت ُ ہبل کا بول بالا ہوا۔ -۔ - رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اس نعرے کا جواب ان الفاظ سے دیں : اَللّٰہُ اَعْلٰی وَاَجَل ! یعنی اللہ ہی سب سے بلند مرتبہ اور بزرگ و برتر ہے ‘ اسی کا بول بالا ہے ! اس کے جواب میں ابوسفیان نے ایک اور نعرہ لگایا : لَنَا الْعُزّٰی وَلا عُزّٰی لَکُمْ کہ ہمارے لیے توعزیٰ ّجیسی دیوی مدد کے لیے موجود ہے لیکن تمہاری تو کوئی عزیٰ ہی نہیں ہے۔ حضور ﷺ نے مسلمانوں کو اس کا جواب اس نعرے سے دینے کا حکم دیا : اَللّٰہُ مَوْلَانَا وَلَا مَوْلٰی لَکُمْکہ ہمارا مولیٰ مدد گار ‘ پشت پناہ اور کارساز تو اللہ ہے ‘ جبکہ تمہارا تو کوئی مولیٰ ہے ہی نہیں۔ 1