اب روئے سخن حضور اکرم ﷺ اور آپ کے ہدایت یافتہ ، متقی اور متلاشیان ہدایت ساتھیوں کی طرف پھرجاتا ہے کہ وہ ہدایت کے لئے ایک دوسری راہ بھی اپنائیں۔ علم ومعرفت ، توبہ و استغفار ، اللہ کا خوف اور خشیت اختیار کریں اور آخری وقت کا انتظار کریں۔ اللہ تمہاری دنیا و آخرت کے انجام اچھی طرح واقف ہے۔
فاعلم انہ لا الہ ۔۔۔۔۔ ومثوکم (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لئے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بھی۔ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سبے بھی واقف ہے ”۔
یہاں آپ کو اور مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ تمہاری ملت جس نظریہ پر قائم ہے اس کو سمجھو وہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ، معبود اور حاکم نہیں ہے۔
فاعلم انہ لا الہ الا اللہ (47 : 19) “ پس اے نبی ﷺ خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی اور عبادت کے مستحق نہیں ”۔ اس حقیقت کو ذہن میں تازہ کرتے ہوئے پھر دوسری ہدایات یہ ہیں۔
واستغفر لذنبک (47 : 19) “ اپنے قصور کے لئے معافی مانگو ”۔ حالانکہ حضور ﷺ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف تھے ؟ لیکن ایک باشعور ، متقی اور حساس بندے کی یہ صفت ہوتی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی مساعی کو کمزور سمجھتا ہے۔ اگرچہ وہ اطاعت الٰہی میں بہت جدو جہد کرتا ہو۔ حضور ﷺ جانتے تھے کہ استغفار اور ذکر ، شکر ہے اور اللہ کی مغفرت کا مزید شکر ہے۔ اور پھر آپ کے منصب و مقام پر بعد میں جو لوگ آنے والے تھے ، ان کے لئے یہ ہدایت ہے اور عام مسلمانوں کے لئے یہ رہنمائی ہے کہ جب حبیب خدا کو یہ ہدایت ہے کہ مغفرت طلب کرو ، جبکہ وہ بخش دئیے گئے ہیں تو دوسروں کو تو ہر وقت استغفار کرنا چاہئے۔ نیز حضور ﷺ اپنے لیے اور مومنین و مومنات کے لئے استغفار کرتے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کا شعور تازہ رہنا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی وجہ سے ان پر اللہ کی رحمت ہو رہی ہے۔
اور حضور اکرم ﷺ مومنین اور مومنات کے لئے مغفرت طلب کر رہے ہیں۔ پھر ان ہدایات کے سلسلے کی آخری بات۔
واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم (47 : 19) “ اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے ”۔ اس سے دل مومن کو اطمینان بھی نصیب ہوتا ہے اور اس کے دل میں یہ تصور بھی پیدا ہوتا ہے کہ اللہ ہماری چلت پھرت سے بھی واقف ہے اور انجام سے بھی واقف۔ اطمینان یہ کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور خوف یہ کہ اللہ ہر حالت میں ہم کو جانتا ہے ، اس سے چھپ کر ہم کوئی نافرمانی نہیں کرسکتے۔ یہ ہے اسلامی تربیت کہ اللہ کے بارے میں تیز احساس رکھو ، ہر وقت اس سے ڈرتے رہو اور ہر وقت انتظار میں رہو کہ وہ کیا فیصلہ کرتا ہے۔
آیت 19 { فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ } ”بس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنی خطائوں کے لیے اللہ سے استغفار کرو“ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ کی ایک تاویل تو یہ ہے کہ یہ خطاب اگرچہ صیغہ واحد میں نبی اکرم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں آپ ﷺ کی وساطت سے یہ ہدایت آپ ﷺ کی امت کے لیے ہے۔ البتہ بعض علماء نے اس اسلوب کی وضاحت حضور ﷺ کے ”تعلق مع اللہ“ کے حوالے سے بھی کی ہے۔ اگر کسی عام بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی عنایت سے چند لمحات کے لیے تعلق مع اللہ میں انشراح کی کیفیت نصیب ہوجائے تو اس کے لیے یہ کیفیت اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن حضور ﷺ کے لیے تو ظاہر ہے ہر وقت ہی انشراح کی کیفیت رہتی تھی اور اس کیفیت کی شدت intensity میں کسی ایک لمحے کے لیے ذرا سی بھی کمی کو آپ ﷺ بہت بڑی کوتاہی سمجھتے تھے۔ چناچہ یہاں لفظ ”ذنب“ کے حوالے سے آپ ﷺ کے اسی احساس کی طرف اشارہ ہے۔ گویا یہ ”حَسَنَاتُ الاَبْرَار سَیِّئاتُ المُقَرّبِین“ والا معاملہ ہے۔ یعنی بعض اوقات ایک عام مسلمان کے معیار کی نیکی کسی مقرب بارگاہ کے معیارِ عمل کے سامنے کوتاہی یا گناہ کے درجے میں شمار ہوتی ہے۔ بہر حال نہ تو مقربین بارگاہ کے تعلق مع اللہ کا معاملہ عام مسلمانوں کا سا ہے اور نہ ہی ان کے معاملے میں لفظ ”ذنب“ کی تعریف definition کا وہ مفہوم درست ہے جس سے عام طور پر ہم لوگ واقف ہیں۔ اس معاملے میں میری ایک ذاتی رائے بھی ہے جس کا ذکراگلی سورت یعنی سورة الفتح کی آیت 2 کے ضمن میں بھی آئے گا۔ میری رائے میں یہاں پر لفظ ”ذنب“ کا تعلق اس ”اجتماعیت“ سے ہے جس کے سربراہ حضور ﷺ تھے۔ پچھلے کئی برسوں سے حضور ﷺ اپنے اہل ایمان ساتھیوں کے ساتھ غلبہ دین کے لیے جدوجہد میں مصروف تھے۔ ظاہر ہے اس اجتماعی جدوجہد میں شریک افراد سے کہیں کوئی غلطی بھی سرزد ہوجاتی ہوگی اور کسی معاملے میں کبھی کوئی کوتاہی بھی رہ جاتی ہوگی۔ اگرچہ ایسی غلطیاں اور کوتاہیاں دوسروں سے ہوتی ہوں گی مگر تحریک اور جدوجہد کے قائد چونکہ حضور ﷺ تھے اس لیے ان کا ذکر یہاں آپ ﷺ کے حوالے سے کیا گیا ہے۔ جیسے جنگ میں پوری فوج حصہ لیتی ہے ‘ ایک ایک سپاہی لڑتا ہے لیکن فتح کا سہرا سپہ سالار کے سر بندھتا ہے ‘ اسی طرح اگر کسی فوج کو شکست سے دوچار ہونا پڑے تو بھی اس فوج کے کمانڈر ہی کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ { وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ } ”اور اہل ِایمان مردوں اور عورتوں کے لیے بھی استغفار کریں۔“ { وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰکُمْ } ”اور اللہ خوب جانتا ہے تمہارے لوٹنے کی جگہ کو اور تمہارے مستقل ٹھکانے کو۔“