سورہ محمد (47): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Muhammad کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ محمد کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ محمد کے بارے میں معلومات

Surah Muhammad
سُورَةُ مُحَمَّدٍ
صفحہ 508 (آیات 12 سے 19 تک)

إِنَّ ٱللَّهَ يُدْخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٍ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ ٱلْأَنْعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثْوًى لَّهُمْ وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِىَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ ٱلَّتِىٓ أَخْرَجَتْكَ أَهْلَكْنَٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ أَفَمَن كَانَ عَلَىٰ بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِۦ كَمَن زُيِّنَ لَهُۥ سُوٓءُ عَمَلِهِۦ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُم مَّثَلُ ٱلْجَنَّةِ ٱلَّتِى وُعِدَ ٱلْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَآ أَنْهَٰرٌ مِّن مَّآءٍ غَيْرِ ءَاسِنٍ وَأَنْهَٰرٌ مِّن لَّبَنٍ لَّمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُۥ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشَّٰرِبِينَ وَأَنْهَٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِن كُلِّ ٱلثَّمَرَٰتِ وَمَغْفِرَةٌ مِّن رَّبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَٰلِدٌ فِى ٱلنَّارِ وَسُقُوا۟ مَآءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَآءَهُمْ وَمِنْهُم مَّن يَسْتَمِعُ إِلَيْكَ حَتَّىٰٓ إِذَا خَرَجُوا۟ مِنْ عِندِكَ قَالُوا۟ لِلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْعِلْمَ مَاذَا قَالَ ءَانِفًا ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُمْ وَٱلَّذِينَ ٱهْتَدَوْا۟ زَادَهُمْ هُدًى وَءَاتَىٰهُمْ تَقْوَىٰهُمْ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا ٱلسَّاعَةَ أَن تَأْتِيَهُم بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَآءَ أَشْرَاطُهَا ۚ فَأَنَّىٰ لَهُمْ إِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرَىٰهُمْ فَٱعْلَمْ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا ٱللَّهُ وَٱسْتَغْفِرْ لِذَنۢبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ ۗ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَىٰكُمْ
508

سورہ محمد کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ محمد کی تفسیر (تفسیر ابن کثیر: حافظ ابن کثیر)

اردو ترجمہ

ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں، اور اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha yudkhilu allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati jannatin tajree min tahtiha alanharu waallatheena kafaroo yatamattaAAoona wayakuloona kama takulu alanAAamu waalnnaru mathwan lahum

اردو ترجمہ

اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakaayyin min qaryatin hiya ashaddu quwwatan min qaryatika allatee akhrajatka ahlaknahum fala nasira lahum

اردو ترجمہ

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ اُن لوگوں کی طرح ہو جائے جن کے لیے اُن کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaman kana AAala bayyinatin min rabbihi kaman zuyyina lahu sooo AAamalihi waittabaAAoo ahwaahum

دودھ پانی اور شہد کے سمندر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص دین اللہ میں یقین کے درجے تک پہنچ چکا ہو، جسے بصیرت حاصل ہوچکی ہو فطرت صحیحہ کے ساتھ ساتھ ہدایت و علم بھی ہو وہ اور وہ شخص جو بد اعمالیوں کو نیک کاریاں سمجھ رہا ہو جو اپنی خواہش نفس کے پیچھے پڑا ہوا ہو، یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَمَنْ يَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ اَعْمٰى ۭ اِنَّمَا يَتَذَكَّرُ اُولُوا الْاَلْبَابِ 19 ۙ) 13۔ الرعد :19) یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اللہ کی وحی کو حق ماننے والا اور ایک اندھا برابر ہوجائے اور ارشاد ہے آیت (لَا يَسْتَوِيْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۭ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ هُمُ الْفَاۗىِٕزُوْنَ 20؀) 59۔ الحشر :20) یعنی جہنمی اور جنتی برابر نہیں ہوسکتے جنتی کامیاب اور مراد کو پہنچے ہوئے ہیں۔ پھر جنت کے اور اوصاف بیان فرماتا ہے کہ اس میں پانی کے چشمے ہیں جو کبھی بگڑتا نہیں، متغیر نہیں ہوتا، سڑتا نہیں، نہ بدبو پیدا ہوتی ہے بہت صاف موتی جیسا ہے کوئی گدلا پن نہیں کوڑا کرکٹ نہیں۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں جنتی نہریں مشک کے پہاڑوں سے نکلتی ہیں اس میں پانی کے علاوہ دودھ کی نہریں بھی ہیں جن کا مزہ کبھی نہیں بدلتا بہت سفید بہت میٹھا اور نہایت صاف شفاف اور بامزہ پر ذائقہ۔ ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ یہ دودھ جانوروں کے تھن سے نہیں نکلا ہوا بلکہ قدرتی ہے اور نہریں ہوں گی شراب صاف کی جو پینے والے کا دل خوش کردیں دماغ کشادہ کردیں۔ جو شراب نہ تو بدبودار ہے نہ تلخی والی ہے نہ بد منظر ہے۔ بلکہ دیکھنے میں بہت اچھی پینے میں بہت لذیذ نہایت خوشبودار جس سے نہ عقل میں فتور آئے نہ دماغ چکرائیں نہ منہ سے بدبو آئے نہ بک جھک لگے نہ سر میں درد ہو نہ چکر آئیں نہ بہکیں نہ بھٹکیں نہ نشہ چڑھے نہ عقل جائے حدیث میں ہے کہ یہ شراب بھی کسی کے ہاتھوں کی کشیدگی ہوئی نہیں بلکہ اللہ کے حکم سے تیار ہوئی ہے۔ خوش ذائقہ اور خوش رنگ ہے جنت میں شہد کی نہریں بھی ہیں جو بہت صاف ہے اور خوشبودار اور ذائقہ کا تو کہنا ہی کیا ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ یہ شہد بھی مکھیوں کے پیٹ سے نہیں مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ جنت میں دودھ پانی شہد اور شراب کے سمند رہیں جن میں سے ان کی نہریں اور چشمے جاری ہوتے ہیں یہ حدیث ترمذی شریف میں بھی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح فرماتے ہیں۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے یہ نہریں جنت عدن سے نکلتی ہیں پھر ایک حوض میں آتی ہیں وہاں سے بذریعہ اور نہروں کے تمام جنتوں میں جاتی ہیں ایک اور صحیح حدیث میں ہے جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس طلب کرو وہ سب سے بہتر اور سب سے اعلیٰ جنت ہے اسی سے جنت کی نہریں جاری ہوتی ہیں اور اس کے اوپر رحمٰن کا عرش ہے۔ طبرانی میں ہے حضرت لقیط بن عامر جب وفد میں آئے تھے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ جنت میں کیا کچھ ہے ؟ آپ نے فرمایا صاف شہد کی نہریں اور بغیر نشے کے سر درد نہ کرنے والی شراب کی نہریں اور نہ بگڑنے والے دودھ کی نہریں اور خراب نہ ہونے والے شفاف پانی کی نہریں اور طرح طرح کے میوہ جات عجیب و غریب بےمثل و بالکل تازہ اور پاک صاف بیویاں جو صالحین کو ملیں گی اور خود بھی صالحات ہوں گی دنیا کی لذتوں کی طرح ان سے لذتیں اٹھائیں گے ہاں وہاں بال بچے نہ ہوں گے۔ حضرت انس فرماتے ہیں یہ نہ خیال کرنا کہ جنت کی نہریں بھی دنیا کی نہروں کی طرح کھدی ہوئی زمین میں اور گڑھوں میں بہتی ہیں نہیں نہیں قسم اللہ کی وہ صاف زمین پر یکساں جاری ہیں ان کے کنارے کنارے لؤلؤ اور موتیوں کے خیمے ہیں ان کی مٹی مشک خالص ہے پھر فرماتا ہے وہاں ان کے لئے ہر طرح کے میوے اور پھل پھول ہیں۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (يَدْعُوْنَ فِيْهَا بِكُلِّ فَاكِهَةٍ اٰمِنِيْنَ 55؀ۙ) 44۔ الدخان :55) ، یعنی وہاں نہایت امن وامان کے ساتھ وہ ہر قسم کے میوے منگوائیں گے اور کھائیں گے ایک اور آیت میں ہے (فِيْهِمَا مِنْ كُلِّ فَاكِهَةٍ زَوْجٰنِ 52ۚ) 55۔ الرحمن :52) ، دونوں جنتوں میں ہر اک قسم کے میوؤں کے جوڑے ہیں ان تمام نعمتوں کے ساتھ یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ رب خوش ہے وہ اپنی مغفرت ان کے لئے حلال کرچکا ہے۔ انہیں نواز چکا ہے اور ان سے راضی ہوچکا ہے اب کوئی کٹھکا ہی نہیں۔ جنتوں کی یہ دھوم دھام اور نعمتوں کے بیان کے بعد فرماتا ہے کہ دوسری جانب جہنمیوں کی یہ حالت ہے کہ وہ جہنم کے درکات میں جل بھلس رہے ہیں اور وہاں سے چھٹکارے کی کوئی سبیل نہیں اور سخت پیاس کے موقعہ پر وہ کھولتا ہوا گرم پانی جو دراصل آگ ہی ہے لیکن بہ شکل پانی انہیں پینے کے لئے ملتا ہے کہ ایک گھونٹ اندر جاتے ہی آنتیں کٹ جاتی ہیں اللہ ہمیں پناہ میں رکھے۔ پھر بھلا اس کا اس کا کیا میل ؟ کہاں جنتی کہاں جہنمی کہاں نعمت کہاں زحمت یہ دونوں کیسے برابر ہوسکتے ہیں

اردو ترجمہ

پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہو گا، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی، نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رب کی طرف سے بخشش (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Mathalu aljannati allatee wuAAida almuttaqoona feeha anharun min main ghayri asinin waanharun min labanin lam yataghayyar taAAmuhu waanharun min khamrin laththatin lilshsharibeena waanharun min AAasalin musaffan walahum feeha min kulli alththamarati wamaghfiratun min rabbihim kaman huwa khalidun fee alnnari wasuqoo maan hameeman faqattaAAa amAAaahum

اردو ترجمہ

اِن میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی اِنہوں نے کیا کہا تھا؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waminhum man yastamiAAu ilayka hatta itha kharajoo min AAindika qaloo lillatheena ootoo alAAilma matha qala anifan olaika allatheena tabaAAa Allahu AAala quloobihim waittabaAAoo ahwaahum

بےوقوف، کند ذہن اور جاہل منافقوں کی کند ذہنی اور بےعلمی ناسمجھی اور بےوقوفی کا بیان ہو رہا ہے کہ باوجود مجلس میں شریک ہونے کے کلام الرسول سن لینے کے پاس بیٹھے ہونے کے ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا۔ مجلس کے خاتمے کے بعد اہل علم صحابہ سے پوچھتے ہیں کہ اس وقت کیا کیا کہا ؟ یہ ہیں جن کے دلوں پر مہر اللہ لگ چکی ہے اور اپنے نفس کی خواہش کے پیچھے پڑگئے ہیں فہم صریح اور قصد صحیح ہے ہی نہیں، پھر اللہ عزوجل فرماتا ہے جو لوگ ہدایت کا قصد کرتے ہیں انہیں خود اللہ بھی توفیق دیتا ہے اور ہدایت نصیب فرماتا ہے پھر اس پر جم جانے کی ہمت بھی عطا فرماتا ہے اور انکی ہدایت بڑھاتا رہتا ہے اور انہیں رشد و ہدایت الہام فرماتا رہتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ تو اسی انتظار میں ہیں کہ اچانک قیامت قائم ہوجائے۔ تو یہ معلوم کرلیں کہ اس کے قریب کے نشانات تو ظاہر ہوچکے ہیں، جیسے اور موقعہ پر ارشاد ہوا ہے آیت (ھٰذَا نَذِيْرٌ مِّنَ النُّذُرِ الْاُوْلٰى 56؀) 53۔ النجم :56) یہ ڈرانے والا ہے اگلے ڈرانے والوں سے قریب آنے والی قریب آچکی ہے۔ اور بھی ارشاد ہوتا ہے آیت (اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ) 54۔ القمر :1) ، قیامت قریب ہوگئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمایا آیت (اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ ۚ) 21۔ الأنبیاء :1) لوگوں کا حساب قریب آگیا پھر بھی وہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں پس حضور ﷺ کا نبی ہو کر دنیا میں آنا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اس لئے کہ رسولوں کے ختم کرنے والے ہیں آپ ﷺ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کیا اور اپنی حجت اپنی مخلوق پر پوری کی اور حضور ﷺ نے قیامت کی شرطیں اور اسکی علامتیں اس طرح بیان فرما دیں کہ آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی نے اس قدر وضاحت نہیں کی تھی جیسے کہ اپنی جگہ وہ سب بیان ہوئی ہیں۔ حسن بصری فرماتے ہیں حضور ﷺ کا آنا قیامت کی شرطوں میں سے ہے چناچہ خود آپ کے نام حدیث میں یہ آئے ہیں۔ نبی التوبہ، نبی الملحمہ، حاشر جس کے قدموں پر لوگ جمع کئے جائیں عاقب جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی بیچ کی انگلی اور اس کے پاس والی انگلی کو اٹھا کر فرمایا میں اور قیامت مثل ان دونوں کے بھیجے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کو قیامت قائم ہوجانے کے بعد نصیحت و عبرت کیا سود مند ہوگی ؟ جیسے ارشاد ہے آیت (يَوْمَىِٕذٍ يَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَاَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰى 23ۭ) 89۔ الفجر :23) اس دن انسان نصیحت حاصل کرلے گا لیکن اس کے لئے نصیحت کہاں ؟ یعنی قیامت کے دن کی عبرت بےسود ہے۔ اور آیت میں ہے آیت (وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِهٖ ۚ وَاَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ 52؀ښ) 34۔ سبأ :52) یعنی اس وقت کہیں گے کہ ہم قرآن پر ایمان لائے حالانکہ اب انہیں ایسے دور از امکان پر دسترس کہاں ہوسکتی ہے ؟ یعنی ان کا ایمان اس وقت بےسود ہے پھر فرماتا ہے اے نبی جان لو کہ اللہ ہی معبود برحق ہے کوئی اور نہیں، یہ دراصل خبر دینا ہے اپنی وحدانیت کا یہ تو ہو نہیں سکتا کہ اللہ اس کے علم کا حکم دیتا ہو۔ اسی لئے اس پر عطف ڈال کر فرمایا اپنے گناہوں کا اور مومن مرد و عورت کے گناہوں کا استغفار کرو صحیح حدیث میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں (اللھم اغفرلی خطیتی وجھلی واسرافی فی امری وما انت اعلم بہ منی اللھم اغفرلی وجدی وخطی وعمدی وکل ذالک عندی) یعنی اے اللہ میری خطاؤں کو اور میری جہالت کو اور میرے کاموں میں مجھ سے جو زیادتی ہوگئی ہو اس کو اور ہر چیز کو جسے تو مجھ سے بہت زیادہ جاننے والا ہے بخش۔ اے اللہ میرے بےقصد گناہوں کو اور میرے عزم سے کئے ہوئے گناہوں کو اور میری خطاؤں اور میرے قصد کو بخش اور یہ تمام میرے پاس ہے۔ اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ اپنی نماز کے آخر میں کہتے (اللھم اغفرلی ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم بہ منی انت الھی لا الہ الا انت) یعنی اے اللہ میں نے جو کچھ گناہ پہلے کئے ہیں اور جو کچھ پیچھے کئے ہیں اور جو چھپا کر کئے ہیں اور جو ظاہر کئے ہیں اور جو زیادتی کی ہے اور جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے بخش دے تو ہی میرا اللہ ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور صحیح حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو اپنے رب کی طرف توبہ کرو پس تحقیق میں اپنے رب کی طرف استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں ہر ایک دن ستر بار سے بھی زیادہ۔ مسند احمد میں ہے حضرت عبداللہ بن سرخس ؓ فرماتے ہیں میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے آپ ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے کھانے میں سے کھانا کھایا پھر میں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ اللہ آپ کو بخشے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اور تجھے بھی تو میں نے کہا کیا میں آپ کے لئے استغفار کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور اپنے لئے بھی پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی اپنے گناہوں اور مومن مردوں اور باایمان عورتوں کے گناہوں کی بخشش طلب کر۔ پھر میں نے آپ ﷺ کے داہنے کھوے یا بائیں ہتھیلی کو دیکھا وہاں کچھ جگہ ابھری ہوئی تھی جس پر گویا تل تھے۔ اسے مسلم، ترمذی، نسائی وغیرہ نے بھی روایت کیا ہے ابو یعلی میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا تم لا الہ الا للہ کا اور استغفر اللہ کا کہنا لازم پکڑو اور انہیں بکثرت کہا کرو اس لئے کہ ابلیس کہتا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے ان دونوں کلموں سے ہلاک کیا۔ میں نے جب یہ دیکھا تو انہیں خواہشوں کے پیچھے لگا دیا پس وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔ ایک اور اثر میں ہے کہ ابلیس نے کہا اللہ مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم جب تک کسی شخص کی روح اس کے جسم میں ہے میں اسے بہکاتا رہوں گا پس اللہ عزوجل نے فرمایا مجھے بھی قسم ہے اپنی بزرگی اور بڑائی کی کہ میں بھی انہیں بخشتا ہی رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں۔ استغفار کی فضیلت میں اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں۔ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا دن میں ہیر پھیر اور تصرف کرنا اور تمہارا رات کو جگہ پکڑنا اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت (وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 60ۧ) 6۔ الانعام :60) یعنی اللہ وہ ہے جو تمہیں رات کو فوت کردیتا ہے اور دن میں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتا ہے۔ ایک اور آیت میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے آیت (وَمَا مِنْ دَاۗبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَي اللّٰهِ رِزْقُهَا وَيَعْلَمُ مُسْتَــقَرَّهَا وَمُسْـتَوْدَعَهَا ۭ كُلٌّ فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ) 11۔ ھود :6) ، یعنی زمین پر جتنے بھی چلنے والے ہیں ان سب کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے اور وہ ان کے رہنے کی جگہ اور دفن ہونے کا مقام جانتا ہے یہ سب باتیں واضح کتاب میں لکھی ہوئی ہیں۔ ابن جریج کا یہی قول ہے اور امام جریر بھی اسی کو پسند کرتے ہیں۔ ابن عباس کا قول ہے کہ مراد آخرت کا ٹھکانا ہے۔ سدی فرماتے ہیں تمہارا چلنا پھرنا دنیا میں اور تمہاری قبروں کی جگہ اسے معلوم ہے لیکن اول قول ہی اولیٰ اور زیادہ ظاہر ہے واللہ اعلم۔

اردو ترجمہ

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ اُن کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے اور انہیں اُن کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena ihtadaw zadahum hudan waatahum taqwahum

اردو ترجمہ

اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک اِن پر آ جائے؟ اُس کی علامات تو آ چکی ہیں جب وہ خود آ جائے گی تو اِن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fahal yanthuroona illa alssaAAata an tatiyahum baghtatan faqad jaa ashratuha faanna lahum itha jaathum thikrahum

اردو ترجمہ

پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

FaiAAlam annahu la ilaha illa Allahu waistaghfir lithanbika walilmumineena waalmuminati waAllahu yaAAlamu mutaqallabakum wamathwakum
508