سورہ محمد: آیت 31 - ولنبلونكم حتى نعلم المجاهدين منكم... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورہ محمد

وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّىٰ نَعْلَمَ ٱلْمُجَٰهِدِينَ مِنكُمْ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَنَبْلُوَا۟ أَخْبَارَكُمْ

اردو ترجمہ

ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walanabluwannakum hatta naAAlama almujahideena minkum waalssabireena wanabluwa akhbarakum

آیت 31 کی تفسیر

ولنبلوا نکم حتی ۔۔۔۔۔۔۔ اخبارکم (47 : 31) “ ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں اور تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہے ”۔ اللہ تو تمام نفوس کے خفیہ خزانوں سے بھی واقف ہے۔ اور زیر زمین مع دنیا سے بھی واقف ہے۔ اور انسانوں کی خفیہ اور چھپائی ہوئی باتوں کو بھی جاننے والا ہے۔ اور جو معاملات ہونے والے ہیں ، ان کو اس طرح جانتا ہے جس طرح وہ عملاً ہوچکے ہوں۔ اب اللہ مزید مجاہدین اور صابرین کو کس طرح جاننا چاہتا ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسانوں کے ساتھ اتنا ہی معاملہ کرتا ہے جس قدر ان کی قوت ، ان کی طبیعت اور ان کی استعداد کے مطابق کیا جاسکتا ہے۔ انسان اس طرح نہیں جانتے جس طرح اللہ جانتا ہے۔ لہٰذا یہ علم اور ظہور انسانوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ جانیں کہ مجاہدین اور صابرین کون ہیں ؟ اور پھر ان کو اس علم و ظہور سے نفع ہو۔

آزمائش خواہ مشکلات میں ہو یا خوشحالی میں ، نعمتوں میں ہو یا مشقتوں میں ہو ، ہاتھ کھلے کرنے میں ہو یا معیشت کی تنگی میں ہو ، خوشی میں ہو یا غم میں ہو ، اس آزمائش کی وجہ سے نفوس کے اندر کی خفیہ صلاحیتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ آزمائش کی وجہ سے لوگوں پر صلاحیتوں کا اظہار ہوجاتا ہے۔ یہاں اللہ کے علم سے مراد وہ ظہور ہے جو لوگوں کو ابتلا میں ڈالنے سے ہوجاتا ہے۔ اور لوگوں کی صلاحتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہے۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آجاتی ہیں ۔ (اللہ کے لئے یہ کوئی نیا علم نہیں ہوتا ، لوگوں کے لئے نیا ہوتا ہے ) اور اسے لوگ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ ابتلا کے بعد لوگوں کی قابلیت کا معلوم ہوجانا ، جسے لوگ سمجھ سکیں ، لوگوں کے شعور اور ان کی شخصیت پر اس کا اثر ہوتا ہے اور یوں اللہ کی حکمت اپنا کام کرتی ہے۔

لیکن اللہ کا حکم یہی ہے کہ انسان آزمائش طلب نہ کرے اور یہ دعا کرے کہ اللہ اپنی آزمائشوں سے بچائے اور عافیت اور رحمت میں رکھے۔ لیکن اگر آزمائش آجائے تو صبر کرے اور اس کو معلوم ہو کہ اس میں اللہ کی حکمت کام کر رہی ہے اور انسان اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی مشیت کے حوالے کر دے اور اللہ پر بھروسہ کرے کہ آزمائش کے بعد اللہ کی رحمت اور عافیت نصیب ہوگی۔

ایک بڑے عابد اور صوفی حضرت فضیل (رح) سے روایت ہے کہ جب ان پر یہ آیت پڑھی جاتی تھی تو وہ روتے تھے اور یہ دعا کرتے تھے۔ الھم لا تبلنا فانک ان بلوتنا فضحتنا وھنکت استارنا وعذبتنا “ اے اللہ ، ہمیں آزمائش میں نہ ڈال ، اگر تو نے ہمیں آزمائش میں ڈالا تو ہمیں شرمندہ کر دے گا ، ہماری پردہ دری کر دے گا اور ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے گا ”۔

آیت 31 { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَلا وَنَبْلُوَا اَخْبَارَکُمْ } ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں انہیں جو تم میں سے جہاد کرنے والے اور صبر کرنے والے ہیں اور ہم پوری تحقیق کرلیں تمہارے حالات کی۔“ حَتّٰی نَعْلَمَ کا لفظی ترجمہ تو یوں ہوگا کہ ہم معلوم کرلیں ‘ لیکن اہل سنت کے عقیدے کے مطابق اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے اور کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے سے اس کے علم میں نہ ہو۔ اس لیے ان الفاظ کی ترجمانی یونہی ہوگی کہ ہم تمہیں آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم ظاہر کردیں اور سب کو دکھا دیں کہ تم میں سے مجاہدین کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ؟ یہ آیت پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ } آیت 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے“۔ سورة البقرۃ کی اس آیت کے نزول کے وقت چونکہ قتال کا حکم نہیں آیا تھا اس لیے اس میں آزمائشوں اور سختیوں کا ذکر تو ہے لیکن قتال کا ذکر نہیں ہے۔ اس لیے یوں سمجھئے کہ آیت زیر مطالعہ گویا سورة البقرۃ کی مذکورہ آیت کی توسیع extension ہے ‘ جس میں قتال کے حوالے سے خصوصی طور پر فرمایا گیا ہے کہ اب ہم تم میں سے واقعتاجہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو چھان پھٹک کر الگ کرنا چاہتے ہیں۔

آیت 31 - سورہ محمد: (ولنبلونكم حتى نعلم المجاهدين منكم والصابرين ونبلو أخباركم...) - اردو