سورہ نوح: آیت 27 - إنك إن تذرهم يضلوا عبادك... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ نوح

إِنَّكَ إِن تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا۟ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓا۟ إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

اردو ترجمہ

اگر تو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور اِن کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innaka in tatharhum yudilloo AAibadaka wala yalidoo illa fajiran kaffaran

آیت 27 کی تفسیر

انک ................ عبادک (17 : 72) ” اگر تونے ان کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے “۔ عبادک سے مراد یہاں اہل ایمان ہیں یعنی لوگ تو ایمان لائیں گے لیکن یہ بااثر اور سرکش مقتدر لوگ اپنے اقتدار اور قوت کے بل بوتے پر ان کو گمراہ کردیں گے۔ اور اس سے مراد عام انسان بھی ہوسکتے ہیں۔ پھر معنی یہ ہوگا کہ یہ عوام الناس کو اپنے مرتبے اور بلند مقام کی وجہ سے متاثر کریں گے اور اللہ سے دور کردیں گے۔

پھر ان لوگوں نے ایک ایسی فضا پیدا کردی ہے ، جس میں سے صرف کفار ہی پیدا ہوتے ہیں۔ جو بچے بھی پیدا ہوتے ہیں ، ان کی پیدائش کے نتیجے میں کفار نسل تیار ہوتی ہے۔ کیونکہ ظالموں نے جو فضا تیار کررکھی ہے اس میں ظالم اور گمراہ نسل ہی تیار ہوتی ہے۔ جو نور ایمان سے محروم ہوتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی طرف حضرت نوح (علیہ السلام) نے اشارہ فرمایا اور قرآن کریم نے آپ کی زبانی نقل کیا۔

ولایلدوا .................... کفارا (17 : 72) ” اور ان کی نسل سے جو بھی پیدا ہوگا ، بدکار اور سخت کافر ہی ہوگا “۔ کیونکہ وہ اپنی سوسائٹی میں ئرے اور گمراہ کن حالات ، طریقے اور افکار شائع کرتے ہیں۔ اور انہوں نے اپنی سوسائٹی اور نظام کو ایسا بنا دیا ہے کہ اس کے اندر فاسق وفاجر ہی پیدا ہوسکتے ہیں۔

چناچہ آپ نے دوبارہ ان بیخ کنی کے لئے دعا کی۔ اللہ نے ان کی دعا قبول کرلیا اور رﺅے زمین کو ان کی گندگی سے صاف کردیا۔ ان پر ایسا سیلاب آیا جو سب کچھ بہا لے گیا۔ اور اس قسم کا تباہ کن سیلاب اللہ جبار وقہار ہی لاسکتا ہے۔

آیت 27{ اِنَّکَ اِنْ تَذَرْہُمْ یُضِلُّوْا عِبَادَکَ وَلَا یَلِدُوْٓا اِلَّا فَاجِرًا کَفَّارًا۔ } ”اگر تو نے ان کو چھوڑ دیاتو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسلوں میں بھی اب فاجر اور کافر لوگوں کے سوا اور کوئی پیدا نہیں ہوگا۔“ ان لوگوں کی فطرتیں مسخ ہوچکی ہیں جس کی وجہ سے ان کی آئندہ نسلوں سے بھی کسی خیر کی توقع نہیں ہے۔ اس لیے ان کا نیست و نابود ہوجانا ہی بہتر ہے۔ انسانی تاریخ میں اللہ کے کسی بندے نے شاید ہی ایسی سخت دعا مانگی ہو۔ لیکن حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو برس تک جس طرح صبر و استقامت کے ساتھ اپنی قوم کی زیادتیوں کو برداشت کیا ‘ اس پس منظر میں آپ علیہ السلام کا یہ غصہ حق بجانب تھا۔

آیت 27 - سورہ نوح: (إنك إن تذرهم يضلوا عبادك ولا يلدوا إلا فاجرا كفارا...) - اردو