ولقد خلقنا السموت ۔۔۔۔۔ من لغوب (50 : 38) ” ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہو “۔
تو پہلی بات پر یہاں ایک مزید حقیقت کا اضافہ کردیا گیا۔
وما مسنا من لغوب (50 : 38) ” اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی “۔ بتانا یہ مقصود ہے کہ اللہ نے اس عظیم کائنات کو نہایت آسانی کے ساتھ پیدا کردیا۔ مردوں کا زندہ کرنا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ان ہولناک آسمانوں کے مقابلے میں تو یہ ایک بہت چھوٹا کام ہے۔ ایک مزید ہدایت بطور سبق آموزی۔
آیت 38{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔“ { وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ۔ } ”اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔“ یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ”ویک اینڈ“ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘ لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں دراصل تورات کے اس تصور کی نفی کی گئی ہے۔ چناچہ اسلام میں ”ویک اینڈ“ کا کوئی تصور نہیں۔ اس حوالے سے یہ تاریخی حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اصل تورات بخت نصر کے حملے میں گم ہوگئی تھی اور دوبارہ اس کو یادداشت کی مدد سے مرتب کیا گیا تھا۔ مرتبین چونکہ عام انسان تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ اس لیے ان کی یادداشتوں نے ٹھوکریں کھائیں اور بہت سی غلط باتیں بھی اس میں شامل کردی گئیں۔