اس صفحہ میں سورہ Qaaf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ ق کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَكَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّن قَرْنٍ هُمْ أَشَدُّ مِنْهُم بَطْشًا فَنَقَّبُوا۟ فِى ٱلْبِلَٰدِ هَلْ مِن مَّحِيصٍ
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَذِكْرَىٰ لِمَن كَانَ لَهُۥ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَى ٱلسَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ
وَلَقَدْ خَلَقْنَا ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍ وَمَا مَسَّنَا مِن لُّغُوبٍ
فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ ٱلْغُرُوبِ
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَأَدْبَٰرَ ٱلسُّجُودِ
وَٱسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ ٱلْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ
يَوْمَ يَسْمَعُونَ ٱلصَّيْحَةَ بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ ٱلْخُرُوجِ
إِنَّا نَحْنُ نُحْىِۦ وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا ٱلْمَصِيرُ
يَوْمَ تَشَقَّقُ ٱلْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَآ أَنتَ عَلَيْهِم بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِٱلْقُرْءَانِ مَن يَخَافُ وَعِيدِ
آیت 36 { وَکَمْ اَہْلَکْنَا قَـبْلَہُمْ مِّنْ قَرْنٍ ہُمْ اَشَدُّ مِنْہُمْ بَطْشًا فَنَقَّــبُوْا فِی الْبِلَادِ ط ہَلْ مِنْ مَّحِیْصٍ۔ } ”اور کتنی ہی قوموں کو ہم نے ان سے پہلے ہلاک کیا ہے جو قوت میں ان سے بڑھ کر تھیں ‘ سو انہوں نے ملکوں کے ملک فتح کیے ! پھر کیا وہ کوئی جائے فرار پا سکے ؟“ نَقَبَ کا معنی ہے نقب لگانا ‘ یعنی دیوار میں سوراخ کرنا ‘ جبکہ نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ باب تفعیل کا مفہوم ہے : بھاگ دوڑ کرتے ہوئے کسی ملک میں جا گھسنا ‘ یعنی کسی علاقے کو فتح کرلینا۔ وہ لوگ اتنے زور آور تھے کہ اپنی فتوحات کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں گھستے چلے گئے اور ملکوں پر ملک فتح کرتے چلے گئے ‘ لیکن جب اللہ کی پکڑ آئی تو انہیں بھاگنے کو جگہ نہ ملی۔
آیت 37{ اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَـہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْــقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْدٌ۔ } ”یقینا اس میں یاد دہانی ہے اس کے لیے جس کا دل ہو یا جو توجہ سے سنے حاضر ہو کر۔“ اپنے مضمون کے اعتبار سے یہ قرآن مجید کا بہت اہم مقام ہے۔ یاد دہانی کے حوالے سے اس آیت میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر ہوا ہے۔ یہ یاد دہانی یا تو ان لوگوں کے لیے مفید ہے جو ”دل“ رکھتے ہیں ‘ یا پھر وہ جو پوری توجہ سے اس کو سنیں۔ گویا یہاں قرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے دو الگ الگ طریقوں اور راستوں approaches کا ذکر ہے۔ ایک ان لوگوں کا راستہ ہے جو دل رکھتے ہیں۔ یہ دراصل وہ لوگ ہیں جن کی روح زندہ ہے۔ روح کا مسکن چونکہ قلب انسانی ہے اس لیے جس انسان کی روح زندہ ہوگی اس کا دل بھی زندہ ہوگا۔ ایسے دل کو دلِ بیدار ‘ دلِ زندہ یا قلب ِسلیم کہا جاتا ہے۔ میر درد ؔنے اپنے اس شعر میں دل کی اسی ”زندگی“ کا ذکر کیا ہے : ؎مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے !1چنانچہ ایک زندہ دل شخص جب قرآن سنے گا تو اس شخص کی روح یوں لپک کر قرآنی پیغام تک پہنچ جائے گی جیسے پٹرول دور سے آگ پکڑ لیتا ہے۔ اس کیفیت کو سورة النور کی آیت 35 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { یَکَادُ زَیْتُھَا یُضِٹٓیْئُ وَلَـوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَـارٌط } النور : 35 ”قریب ہے کہ اس کا روغن خود بخود روشن ہوجائے ‘ چاہے اسے آگ نے ابھی چھوا بھی نہ ہو“۔ گویا ایک پاکیزہ روح نور وحی تک پہنچنے کے لیے بےقرار ہوتی ہے۔ بقولِ اقبال : ؎مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز تو ذرا چھیڑ تو دے تشنہ مضراب ہے ساز نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے ! حافظ ابن قیم رح نے اس بارے میں بڑی خوبصورت بات لکھی کہ بہت سے لوگ قرآن کو پڑھتے ہوئے یوں محسوس کرتے ہیں جیسے قرآن ان کے دل پر نقش ہے اور وہ اس کی عبارت کو مصحف سے نہیں بلکہ اپنی لوح قلب سے پڑھ رہے ہیں۔ یعنی سلیم الفطرت لوگوں کی ارواح کو قرآن حکیم کے ساتھ خصوصی ہم آہنگی ہوتی ہے۔ ایسے لوگ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں تو ان کی روحوں میں ایک مانوس قسم کا ارتعاش sympathetic vibration پیدا ہوتا ہے۔ گویا ان کی ارواح قرآنی الفاظ و آیات کے ساتھ پہلے سے ہی مانوس ہیں۔ بقول غالبؔ ؎دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے !ایسے لوگوں کو قرآن کی ہدایت تک پہنچنے کے لیے کسی مہلت یا تگ و دو کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق رض نے قبول حق میں ایک لمحے کا توقف بھی نہیں کیا تھا۔ اس کے برعکس وہ لوگ جن کی ارواح پر غفلت اور مادیت کے پردے پڑچکے ہوں ‘ ان کے لیے اس آیت میں دوسرا طریقہ بتایا گیا ہے : { اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ}۔ یعنی ان لوگوں کو خصوصی توجہ کے ساتھ محنت کرنا ہوگی ‘ تب کہیں جا کر ”گوہر مقصود“ تک ان کی رسائی ہوگی۔ مطالعہ قرآن کے ہمارے منتخب نصاب میں ایمان کی بحث کے تحت دو دروس درس 6 اور 7 ایسے ہیں جو انہی دو طریقوں کی الگ الگ نمائندگی کرتے ہیں۔ ان میں پہلا درس سورة آل عمران کی آیات 190 تا 195 پر مشتمل ہے۔ ان آیات میں آیات آفاقی کے مشاہدے کی بنیاد پر تفکر و تدبر کی دعوت دی گئی ہے :{ اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّــیْلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ ِلّاُولِی الْاَلْبَابِ رض الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج رَبَّـنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلًاج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ }”یقینا آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے الٹ پھیر میں ہوش مند لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ جو اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں ‘ کھڑے بھی ‘ بیٹھے بھی اور اپنے پہلوئوں پر بھی اور مزید غور و فکر کرتے رہتے ہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں۔ اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےمقصد تو پیدا نہیں کیا ہے۔ تو پاک ہے اس سے کہ کوئی عبث کام کرے ‘ پس تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا !“ لیکن یہ تفکر و تدبر تب نتیجہ خیز ہوگا جب اس کے ساتھ اللہ کے ذکر کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔ گویا ایمان و ہدایت کی منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ذکر اور فکر دونوں کو ایک ساتھ لے کر چلنا ہوگا ‘ جیسا کہ اقبال ؔنے کہا ہے ؎فقر ِقرآں اختلاطِ ذکر و فکر فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر جز بہ قرآں ضیغمی روباہی است فقر ِقرآں اصل شاہنشاہی است یعنی فقر قرآن تو ذکر اور فکر کے امتزاج کا نام ہے جبکہ میں ذکر کے بغیر فکر کو ناقص اور نامکمل دیکھتا ہوں۔ اگر کوئی شیر بھی ہو تو قرآن کے بغیر وہ لومڑی کی طرح ہوگا ‘ اصل شہنشاہ تو وہ ہے جسے فقر قرآنی مل گیا۔ اس ضمن میں ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذکر اور فکر کے الگ الگ حلقے بن چکے ہیں۔ ان میں سے ہر حلقے کے لوگ اپنے طور طریقوں میں اس قدر مگن ہیں کہ انہیں دوسروں سے کچھ سروکار نہیں۔ ایک طرف مفکرین ہیں جو فلسفہ وفکر پر بڑی بڑی کتابیں رقم کر رہے ہیں ‘ کیسی کیسی تفسیریں لکھتے جاتے ہیں ‘ مگر وہ ذکر کی لذت سے بالکل ناآشنا ہیں۔ دوسری طرف ذاکرین ہیں جو ذکر کی روح پرور محفلیں سجاتے ہیں لیکن انہیں فکر و تدبر سے کوئی واسطہ نہیں۔ ظاہر ہے گاڑی کے ان دونوں پہیوں میں ہم آہنگی ہوگی تو امت کا قافلہ منزل کی طرف گامزن ہوگا۔ بہرحال سورة آل عمران کی مذکورہ آیات میں ذکر و فکر کے ذریعے ہدایت کی ”منزل مقصود“ تک پہنچنے کا طریقہ بتایا گیا ہے ‘ جبکہ دوسرے طریقے کی نشاندہی سورة النور کے پانچویں رکوع منتخب نصاب کے درس 7 میں کی گئی ہے کہ اپنے قلب کو صاف کر لیجیے ‘ اس کی تمام کدورتیں دور کردیجیے تو اس کے آئینے میں قرآن خود بخود منعکس ہو کر اسے منور نُورٌ عَلٰی نُور کر دے گا اور یوں نور فطرت اور نور وحی کے امتزاج سے نور ایمان کی تکمیل ہوجائے گی۔
آیت 38{ وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ق } ”اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے مابین ہے پیدا کیا چھ دنوں میں۔“ { وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّــغُوْبٍ۔ } ”اور ہم پر کوئی تکان طاری نہیں ہوئی۔“ یہ مضمون موجودہ تورات میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کر کے تھکن دور کی۔ اسی وجہ سے یہودیوں اور عیسائیوں کے ہاں ”ویک اینڈ“ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چھ دن کام کرنے کے بعد ساتویں دن آرام کیا تھا ‘ لہٰذا تم لوگ بھی چھ دن کام کر کے ساتویں دن آرام کرو۔ اس آیت میں دراصل تورات کے اس تصور کی نفی کی گئی ہے۔ چناچہ اسلام میں ”ویک اینڈ“ کا کوئی تصور نہیں۔ اس حوالے سے یہ تاریخی حقیقت واضح رہنی چاہیے کہ اصل تورات بخت نصر کے حملے میں گم ہوگئی تھی اور دوبارہ اس کو یادداشت کی مدد سے مرتب کیا گیا تھا۔ مرتبین چونکہ عام انسان تھے ‘ نبی نہیں تھے ‘ اس لیے ان کی یادداشتوں نے ٹھوکریں کھائیں اور بہت سی غلط باتیں بھی اس میں شامل کردی گئیں۔
آیت 39{ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَـبْلَ الْغُرُوْبِ۔ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل۔“ جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ زیر مطالعہ سورتیں مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک پنج گانہ نماز کا باقاعدہ نظام وضع نہیں ہوا تھا۔ پنج گانہ نماز تو معراج کے موقع پر 10 نبوی ﷺ میں فرض ہوئی تھی۔ اس سے پہلے تو بس صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے کی بار بار تلقین و تاکید کی جاتی تھی ‘ جیسا کہ سورة طٰہ کی آیت 130 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں یا اس سے بھی پہلے سورة المزمل میں رات کی نماز اور اس میں تلاوتِ قرآن کا حکم آچکا تھا۔ بعد میں جب باقاعدہ اوقات کے ساتھ پانچ نمازوں کا نظام وضع ہوا تو ان دو اوقات میں دو نمازیں فرض ہوگئیں ‘ یعنی قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ کے اوقات میں فجر کی نماز اور قَـبْلَ الْغُرُوْبِ کے وقت میں نماز عصر۔
آیت 40{ وَمِنَ الَّـیْلِ فَسَبِّحْہُ } ”اور رات کے حصوں میں بھی اس کی تسبیح بیان کرو۔“ { وَاَدْبَارَ السُّجُوْدِ۔ } ”اور سجدوں نمازوں کے بعد بھی۔“ یہ گویا نماز سے فارغ ہونے کے بعد کی تسبیح وتحمید کا حکم ہے۔ نمازوں کے بعد کے اذکار کی تفصیلات احادیث میں ملتی ہیں ‘ جیسے تسبیح فاطمہ رض 33 مرتبہ سبحان اللہ ‘ 33 مرتبہ الحمد للہ اور 33 یا 34 بار اللہ اکبر پڑھنا کی مداومت سے متعلق احادیث میں ترغیب آئی ہے۔
آیت 41{ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ۔ } ”اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔“ یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے۔
آیت 42{ یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط } ”جس دن کہ وہ سنیں گے ایک چنگھاڑ حق کے ساتھ۔“ { ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ۔ } ”وہ ہوگا نکلنے کا دن۔“ یعنی وہ زمین سے ُ مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔
آیت 43{ اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ } ”یقینا ہم ہی زندہ رکھتے ہیں اور ہم ہی موت وارد کرتے ہیں۔“ { وَاِلَـیْنَا الْمَصِیْرُ۔ } ”اور ہماری ہی طرف سب کو پلٹ کر آنا ہے۔“ واضح رہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ اپنی شان جلالت کا زیادہ اظہار کرنا چاہتا ہے وہاں اپنے لیے جمع کا صیغہ پسند فرماتا ہے۔
آیت 44{ یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْہُمْ سِرَاعًاط } ”جس دن زمین ان پر سے پھٹ جائے گی اور وہ تیزی سے نکل پڑیں گے۔“ { ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۔ } ”یہ سب کا جمع کردینا ہمارے لیے بہت آسان ہے۔“
آیت 45{ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَـقُوْلُوْنَ } ”اے نبی ﷺ ! ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍقف } ”اور آپ ان پر کوئی زبردستی کرنے والے نہیں ہیں۔“ آپ کا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے۔ ہم نے آپ ﷺ کو اس اختیار کے ساتھ نہیں بھیجا کہ آپ ﷺ انہیں زبردستی حق کی طرف لے آئیں۔ { فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ۔ } ”پس آپ تذکیر کرتے رہیے اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو جو میری وعید سے ڈرتا ہے۔“ جس شخص کی روح مردہ نہ ہوچکی ہوگی اور اس میں تھوڑی سی بھی جان ہوگی اور جس کے اندر اخلاقی حس دم نہ توڑ چکی ہوگی اور بھلائی کی معمولی سی رمق بھی باقی ہوگی وہ آپ ﷺ کی باتیں سن کر قرآن کی تذکیر اور یاد دہانی سے ضرور فائدہ اٹھائے گا۔ یہاں پر { فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ } کے الفاظ میں حضور ﷺ کو خصوصی طور پر ہدایت دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ تبلیغ و تذکیر ‘ انذار وتبشیر اور لوگوں کے تزکیہ نفس کا ذریعہ قرآن ہی کو بنائیں۔ اس حکم کے مقابلے میں آج امت ِمسلمہ کی مجموعی حالت یہ ہے کہ مسلمانوں نے خود کو قرآن سے بالکل ہی بےنیاز کرلیا ہے اور دعوت و تبلیغ ‘ وعظ و نصیحت اور تربیت و تزکیہ کے دیگر ذرائع اختیار کرلیے ہیں۔