فاصبر علی ما یقولون ۔۔۔۔۔۔ قبل الغروب (39) ومن الیل ۔۔۔۔ السجود (50 : 39 تا 40) ” پس اے نبی ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ، اور پنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی “۔
سورج کا طلوع و غروب اور غروب کے بعد رات کا منظر ، یہ سب آسمان اور زمین کے مناظر اور حرکات کے ساتھ منسلک ہیں۔ تسبیح و ثنا اور رکوع و سجود کو ان کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور تلقین یہ کی گئی ہے کہ ان لوگوں کی باتوں پر صبر کرو ، کیونکہ یہ ناحق حشر ونشر اور دوبارہ زندہ کرنے کو جھٹلاتے ہیں۔ یہاں گویا رات اور دن کے تکرار میں ایک نئی بات داخل کی گئی ۔ حمدو ثنا اور کو ع اور سجود کو بھی اس کائنات کے مناظر سے منسلک کیا گیا ہے ۔ یوں جب بھی رکوع و سجود ہوگا یہ کائناتی مناظر بھی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوں گے۔ سورج کے طلوع و غروب اور رات آنے کے مناظر۔
آیت 39{ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَـقُوْلُوْنَ } ”تو اے نبی ﷺ آپ صبر کیجیے اس پر جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں“ { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَـبْلَ الْغُرُوْبِ۔ } ”اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجیے سورج کے طلوع ہونے سے قبل اور غروب ہونے سے قبل۔“ جیسا کہ قبل ازیں ذکر ہوچکا ہے ‘ زیر مطالعہ سورتیں مکی دور کے ابتدائی چار سال کے دوران نازل ہوئی تھیں۔ اس وقت تک پنج گانہ نماز کا باقاعدہ نظام وضع نہیں ہوا تھا۔ پنج گانہ نماز تو معراج کے موقع پر 10 نبوی ﷺ میں فرض ہوئی تھی۔ اس سے پہلے تو بس صبح وشام اللہ کا ذکر کرنے کی بار بار تلقین و تاکید کی جاتی تھی ‘ جیسا کہ سورة طٰہ کی آیت 130 میں بھی بالکل یہی الفاظ آئے ہیں یا اس سے بھی پہلے سورة المزمل میں رات کی نماز اور اس میں تلاوتِ قرآن کا حکم آچکا تھا۔ بعد میں جب باقاعدہ اوقات کے ساتھ پانچ نمازوں کا نظام وضع ہوا تو ان دو اوقات میں دو نمازیں فرض ہوگئیں ‘ یعنی قَـبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ کے اوقات میں فجر کی نماز اور قَـبْلَ الْغُرُوْبِ کے وقت میں نماز عصر۔