سورہ کہف: آیت 41 - واستمع يوم يناد المناد من... - اردو

آیت 41 کی تفسیر, سورہ کہف

وَٱسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ ٱلْمُنَادِ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ

اردو ترجمہ

اور سنو، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaistamiAA yawma yunadi almunadi min makanin qareebin

آیت 41 کی تفسیر

ایک دوسرا ٹچ جو اس کائنات کے صفحات کے ساتھ مربوط ہے۔ یعنی صبر کرو ، تسبیح کرو اور سجدے کرو اس حال میں کہ آپ ﷺ ایک عظیم حادثہ اور ایک عظیم واقعہ کے انتظار میں ہوں۔ جو گردش لیل و نہار کے کسی بھی وقت آسکتا ہے۔ اور اس سے غافل وہی لوگ ہو سکتے ہیں جن کے دل غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں اور یہ وہ بات ہے جو اس سورت کا عمود اور محور ہے اور اصلی موضوع۔

واستمع یوم ۔۔۔۔۔ قریب (41) یوم یسمعون ۔۔۔۔ الخروج (42) انا نحن ۔۔۔۔ المصیر (43) یوم تشقق ۔۔۔۔ علینا یسیر (50 : 41 تا 44) ” اور سنو ، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا ، جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے ، وہ زمین کے مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں اور ہماری طرف ہی اس دن سب کو پلٹنا ہے جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے۔ یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے “۔

یہ ایک نیا اور پر تاثیر منظر ہے۔ اس دن کا منظر جو بہت ہی مشکل دن ہوگا۔ ایک دوسری جگہ اس منظر کی تعبیر ایک دوسرے انداز میں کی گئی۔

ونفخ فی الصور ذلک یوم الوعید (50 : 20) وجاءت کل نفس معھا سائق وشھید (50 : 21) ” اور پھر صور پھونکا گیا یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا۔ ہر شخص اس حال میں آگیا کہ اس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے “

اور یہاں نفخ صور کے ساتھ ایک چیخ کا ذکر بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی خروج کا منظر سامنے آتا ہے۔ اور پھر زمین پھٹ رہی ہے اور لوگ اس سے نکلے چلے آرہے ہیں۔ یہ تمام مخلوقات جو آغاز حیات سے اس سفر کے انتہا تک اس زمین میں دفن ہوئے تھے۔ یہ سب قبریں پھٹ پڑیں گی اور جن میں جو بھی جس قدر لوگ بھی دفن ہوئے تھے ، نکلے چلے آئیں گے۔ معری کہتا ہے :

رب قبر صار قبرا مرارا

ضاحک من تزاحم الاضداد

دفین علی بقایا دفین

فی طویل الاجال والاماد

(کتنی ہی قبریں ہیں ، جو بار بار قبریں بنی ہیں ان کے اندر جو متضاد قسم کے لوگ دفن ہوتے چلے آرہے ہیں ان پر وہ مسکرا رہی ہیں۔ ایک مردے کو دوسرے کے جسم کے بقایا جات پر دفن کیا جاتا ہے ، طویل زمانوں سے اور قدیم زمانوں سے “۔

تمام چیزیں زمین کے پھٹنے کے بعد خود بخود نکلتی چلی آئیں گی۔ ٹوٹے ہوئے جسم ، ہڈیاں ، ذرات جو زمین کی فضاؤ میں ہوں یا زمین کی وادیوں میں بہہ کر جہاں بھی ٹھہرے ہوں جن کی جگہ اللہ ہی جانتا ہے ، جمع ہوتے چلے آئیں گے ، یہ ایک ایسا منظر ہے کہ ہمارے خیال کی گرفت سے برتر ہے۔

اس پر تاثیر منظر کے سایہ ہی میں اس حقیقت کو سامنے لایا جا رہا ہے جس کا وہ انکار کرتے تھے۔

آیت 41{ وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُـنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَّـکَانٍ قَرِیْبٍ۔ } ”اور کان لگائے رکھو جس دن پکارنے والا پکارے گا بہت قریب کی جگہ سے۔“ یعنی اس دن کے منتظررہو جب صور میں پھونکا جائے گا اور ہر شخص کو اس کی آواز بہت قریب سے آتی ہوئی محسوس ہوگی۔ صور کی آواز ایسی زوردار اور خوفناک ہوگی کہ اس سے ہر جان دار کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد سب انسانوں کو زندہ کر کے محشر میں جمع کرنے کے لیے پھر صور پھونکا جائے گا۔ یہاں اسی دوسرے صور کا ذکر ہے۔

جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیو اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ اللہ تمہیں جمع ہوجانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہوگا ابتداءً ًیہ پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹا لانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پالے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ حضرت اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہوجائے گی یہ وقت ہوگا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہوگا۔ فرمان باری ہے آیت (يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا 52؀) 17۔ الإسراء :52) ، یعنی جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے۔ صحیح مسلم میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہوگی۔ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا آیت (وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍۢ بِالْبَصَرِ 50؀) 54۔ القمر :50) یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہوجائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا اور آیت میں ہے آیت (مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ 28؀) 31۔ لقمان :28) ، یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی ﷺ یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے جیسے اور جگہ ہے آیت (وَلَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُوْلُوْنَ 97؀ۙ) 15۔ الحجر :97) ، واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہیے اور نمازوں میں رہیے اور موت آجانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہیے۔ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لاسکتا نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہوجائیے جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آجائے گا جیسے فرمایا ہے آیت (وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ 40۔) 13۔ الرعد :40) یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے اور آیت میں ہے آیت (فَذَكِّرْ ڜ اِنَّمَآ اَنْتَ مُذَكِّرٌ 21؀ۭ) 88۔ الغاشية :21) تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں۔ اور جگہ ہے تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے اور جگہ ہے آیت (اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاۗءُ ۚوَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ 56؀) 28۔ القصص :56) ، یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔ حضرت قتادہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے (اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم) یعنی اے اللہ تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورة ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ والحمد للہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل۔

آیت 41 - سورہ کہف: (واستمع يوم يناد المناد من مكان قريب...) - اردو