سورہ سعد: آیت 45 - واذكر عبادنا إبراهيم وإسحاق ويعقوب... - اردو

آیت 45 کی تفسیر, سورہ سعد

وَٱذْكُرْ عِبَٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَٰرِ

اردو ترجمہ

اور ہمارے بندوں، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waothkur AAibadana ibraheema waishaqa wayaAAqooba olee alaydee waalabsari

آیت 45 کی تفسیر

آیت نمبر 45 تا 48

یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔

اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر مستقیم کے مالک تھے۔ گویا جو عمل صالح نہیں کرتا وہ کمزور ہوتا ہے اور جو شخص فکر سلیم نہیں رکھتا وہ آنکھوں کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں ان پیغمبروں کے اعزاز کی صفت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کے خالص بندے تھے۔ اور ان کی دوسری خاص صفت یہ تھی وہ دار آخرت کو ہر وقت یاد کرنے والے اور اس کا لحاظ کرنے والے تھے۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور

فلاح کے لیے کام کرتے تھے۔

آیت 45 { وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ } ”اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم علیہ السلام ‘ اسحاق علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام کا ‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔“

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات وسلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے۔ ان کے بیانات سورة انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے۔

آیت 45 - سورہ سعد: (واذكر عبادنا إبراهيم وإسحاق ويعقوب أولي الأيدي والأبصار...) - اردو