اس صفحہ میں سورہ Saad کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ ص کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَوَهَبْنَا لَهُۥٓ أَهْلَهُۥ وَمِثْلَهُم مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَذِكْرَىٰ لِأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ
وَخُذْ بِيَدِكَ ضِغْثًا فَٱضْرِب بِّهِۦ وَلَا تَحْنَثْ ۗ إِنَّا وَجَدْنَٰهُ صَابِرًا ۚ نِّعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ
وَٱذْكُرْ عِبَٰدَنَآ إِبْرَٰهِيمَ وَإِسْحَٰقَ وَيَعْقُوبَ أُو۟لِى ٱلْأَيْدِى وَٱلْأَبْصَٰرِ
إِنَّآ أَخْلَصْنَٰهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى ٱلدَّارِ
وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ ٱلْمُصْطَفَيْنَ ٱلْأَخْيَارِ
وَٱذْكُرْ إِسْمَٰعِيلَ وَٱلْيَسَعَ وَذَا ٱلْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ ٱلْأَخْيَارِ
هَٰذَا ذِكْرٌ ۚ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَـَٔابٍ
جَنَّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ ٱلْأَبْوَٰبُ
مُتَّكِـِٔينَ فِيهَا يَدْعُونَ فِيهَا بِفَٰكِهَةٍ كَثِيرَةٍ وَشَرَابٍ
۞ وَعِندَهُمْ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ أَتْرَابٌ
هَٰذَا مَا تُوعَدُونَ لِيَوْمِ ٱلْحِسَابِ
إِنَّ هَٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهُۥ مِن نَّفَادٍ
هَٰذَا ۚ وَإِنَّ لِلطَّٰغِينَ لَشَرَّ مَـَٔابٍ
جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَا فَبِئْسَ ٱلْمِهَادُ
هَٰذَا فَلْيَذُوقُوهُ حَمِيمٌ وَغَسَّاقٌ
وَءَاخَرُ مِن شَكْلِهِۦٓ أَزْوَٰجٌ
هَٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ ۖ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ ۚ إِنَّهُمْ صَالُوا۟ ٱلنَّارِ
قَالُوا۟ بَلْ أَنتُمْ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ ۖ أَنتُمْ قَدَّمْتُمُوهُ لَنَا ۖ فَبِئْسَ ٱلْقَرَارُ
قَالُوا۟ رَبَّنَا مَن قَدَّمَ لَنَا هَٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِى ٱلنَّارِ
ووھبنا۔۔۔ الالباب (38: 43) ” اور ہم نے اسے اہل و عیال واپس کردیئے اور اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ان کے ساتھ اتنے ہی اور دیئے اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لئے درس کے طور پر “۔
بعض روایات میں آتا ہے کہ اللہ نے ان کے وہ بچے زندہ کردیئے جو فوت ہوگئے تھے اور اسی تعداد میں اور اولاد بھی دے دی۔ قرآن کریم اس بات کی صراحت نہیں کرتا کہ مردوں کو زندہ کیا گیا۔ مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جو لوگ ان کو چھوڑ کر غایب ہوگئے تھے ، وہ اور ان کے اہل خانہ واپس کردیئے گئے اور پھر مزید اولاد دی گئی۔ مزید انعام اور رحمت و رعایت کے طور پر۔ اور یہ انعامات اس لیے کیے گئے کہ اہل عقل و دانش اس سے عبرت لیں۔
ان تمام قصص سے مقصود یہ ہے کہ اللہ کے جو بندے اور آزمائشوں میں صبر کریں ان پر کرم نوازی کرتا ہے اور آخر کار ان پر کرم ہوتا ہے۔
یہ کہ ان کی قسم کا نتیجہ کیا ہوا تو اللہ کی رحمت نے ان کو اور ان کی بیوی کو ڈھانپ لیا۔ کیونکہ ان کی بیوی نے اس طویل
آزمائش میں حضرت ایوب کی بہت خدمت کی تھی۔ اور اس نے بھی بہت ہی مصابرت سے کام لیا تھا۔ اللہ نے حکم دیا تھا کہ انہوں نے جتنے کوڑے مارنے کی قسم اٹھائی ہے اتنی ہی شاخیں لیں اور ان تمام شاخوں سے ایک ہی وار اس پر کرلیں۔ اس طرح ان کی قسم پوری ہوجائے گی اور وہ حانث نہ ہوں گے۔
وخذبیدک ضغثا فاضرب به ولا تحنث (38: 44) ” تنکوں کا ایک مٹھالے اور اس سے ماردے ، اپنی قسم بہ توڑ “۔ یہ سہولت ان کو اس لیے دی گئی کہ اس عظیم امتحان میں انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق صبر کیا اور اطاعت شعار بندے کے طور پر رہے اور آخر میں اللہ ہی سے التجا کی۔
انا وجدنه۔۔۔ اواب (38: 44) ” ہم نے اسے صابر پایا۔ بہترین بندہ اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا “۔
یہ تین قصص تو قدرے تفصیل سے ذکر ہوئے۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ حضرت محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی موجود مشکلات پر صبر کریں۔ اب رسولوں کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ انکے قصص میں بھی آزمائشیں اور صبر کے واقعات ہیں اور ان پر بھی اللہ کے انعامات اور فضل وکرم ہوتے رہے ہیں جس طرح حضرت داؤد حضرت سلیمان اور ایوب (علیہم السلام) کے قصص میں آزمائشیں اور فضل وکرم ہوتے ہیں ۔ ان میں سے بعض انبیاء تو انسے پہلے گزرے ہیں اور معروف ہیں اور بعض ایسے ہیں جن کے زمانے کا تعین نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن اور ہمارے ہاں حقیقی تاریخی مصارد کے اندر ان کے زمانے کا تعین نہیں کیا گیا۔
آیت نمبر 45 تا 48
یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔
اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر مستقیم کے مالک تھے۔ گویا جو عمل صالح نہیں کرتا وہ کمزور ہوتا ہے اور جو شخص فکر سلیم نہیں رکھتا وہ آنکھوں کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔
قرآن کریم میں ان پیغمبروں کے اعزاز کی صفت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کے خالص بندے تھے۔ اور ان کی دوسری خاص صفت یہ تھی وہ دار آخرت کو ہر وقت یاد کرنے والے اور اس کا لحاظ کرنے والے تھے۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور
فلاح کے لیے کام کرتے تھے۔
انا۔۔۔ الدار (38: 46) ” ان کو ایک خاص صفت کی نبا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دار آخرت کی یاد تھی “۔ یہ انکا مرتبہ اور ان کی بلندی نے ان کو برگزیدہ بنادیا تھا۔
وانھم۔۔۔ الاخیار (38: 47) ” اور یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص میں سے ہے “۔ نیز اللہ تعالیٰ تصریح فرماتا ہے اور حضرت محمد ﷺ کو حکم فرماتا ہے کہ تم لوگ ان کی روحانی صحبت میں رہو۔ ان کے صبر ومصابرت کو یاد کرو ، اور آخر کار ان پر جو فضل وکرم ہوا ، اس کی امید رکھو۔ اور تمہاری قوم کی طرف سے جو تکذیب ہو رہی ہے اور اس پر تمہیں جو اذیت ہورہی ہے اس کو برداشت کرو۔ کیونکہ تمام رسولان کرام کا طریقہ صبر اور مصابرت کا ہے۔ اور رسولوں کے بعد بھی تمام دعوتوں کا طریقہ بھی صبر کا ہے اور ہمیشہ یوں ہی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے صبر کرنے والے بندوں پر رحم وکرم کرتا ہے۔ ان کو قوت اور اقتدار عطا کرتا ہے اور ان پر رحمتیں اور برکتیں نازل کرتا ہے۔ اللہ کے ہاں اپنے بندوں کے لیے جو اجر اور انجام ہوتا ہے وہ بہرحال بہتر ہوتا ہے۔ اور اللہ کی رحمتوں ، اللہ کی برکتوں کے مقابلے میں سازشیوں کی شازشوں اور مکاروں کی مکاریوں کی کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ اللہ اپنے بندوں کا ہر وقت نگہبان ہوتا ہے۔
درس نمبر 213 تشریح آیات
آیت نمبر 49 تا 64
درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔
ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔
جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔
فبئس المھاد (38: 56) وہاں ان کے پینے کے لیے گرم پانی ہے اور قابل نفرت اور قے لانے والا کھانا وہ کھا رہے ہوں گے ۔ یعنی ان کے زخموں کا دھون اور پیپ۔ اس قسم کے کئی دوسرے عذاب ان کے لیے ہوں گے۔ اور ان عذابوں کو ازواج سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ان مذکورہ تلخیوں کے علاوہ دوسری بھی تلخیاں ہوں گی۔
ان دو مناظر کے بعد اب تیسرا دیکھئے جس کے کردار ایک دوسرے سے ہمکلام بھی ہیں۔ اہل جہنم سرکشوں کا ایک گروہ دنیا میں ایک دوسرے کا جگری دوست تھا۔ اب یہ لوگ یہاں ایک دوسرے کے لیے اجنبی اور نفرت کرنے والے ہیں۔ دنیا میں یہ گمراہی کے ہم سفر تھے۔ یہ مومنین سے اپنے آپ کو برتر سمجھتے تھے۔ مومنین کی دعوت اور ان کے منشور کے ساتھ یہ لوگ مذاق کرتے تھے۔ خصوصاً ان کے اس عقیدے کے ساتھ کہ وہ جنتوں میں ہوں گے جیسا کہ قریش کہتے تھے۔
ء انزل علیه الذکر من بیننا ” کیا ہم میں سے ذکر اسی پر اتر گیا ! “ ذرا ان کے منظر کو دیکھئے کہ یہ فوج در فوج جہنم میں گھسے جارہے ہیں ' یا دھکیلے جارہے ہیں اور ایک دوسرے سے وہ یوں ہمکلام ہیں۔
ھذا فوج مفتحم معکم (38: 59) ” یہ لشکر تمہارے پاس گھسا چلا آرہا ہے “۔ جواب کیا ہے ؟ نہایت ہی تنگ مزاجی سے
جواب آتا ہے۔
لامرحبابھم انھم صالوا النار (38: 59) ” کوئی خوش آمدید ان کے لیے نہیں ہے۔ یہ تو آگ میں جھلسنے والے ہیں “۔ جس فوج پر یہ تبصرہ کیا جارہا ہے ، وہ بھی سن کع جل بھن جاتی ہے اور ان کا جواب یہ ہے ،
قالوابل۔۔۔ القرار (38: 60) ” وہ کہیں بلکہ تمہارے لیے کوئی خوش آمدید نہیں ہے ، تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو۔ کیسی بری ہے یہ جائے قرار “۔ تم ہی تو اس مصیبت کا باعث بنے ہو۔ اب یہ لوگ نہایت دل تنگی ، گھٹن اور انتقام کے جذبات سے مغلوب ہوکر یہ دوخواست کرتے ہیں۔
قالوا۔۔۔۔ فی النار (38: 61) ” پھر وہ کہیں گے اے ہمارے رب ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچایا اس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے “۔
اب یہ لوگ جہنم میں مومنین کو تلاش کریں گے۔ ان کا کوئی اتہ پتہ جہنم میں نہ ہوگا۔ حالانکہ یہ لوگ اپنے آپ کو ان کے مقابلے میں اونچے لوگ سمجھتے تھے ، اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ تو چند شریر لوگ ہیں۔ اور ان کے دستور اور منشور کے ساتھ بھی مذاق کرتے تھے۔ اور جن اعلیٰ مقاصد اور رضائے الہٰی کے لیے وہ کام کرتے تھے ، اس کو حماقت سمجھتے تھے۔ یہ لوگ ان جہنم میں گھسنے والوں میں نہیں ہیں۔ یہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کہاں چلے گئے وہ لوگ ۔ یہاں وہ موجود نہیں یا نظر نہیں آتے۔