وقالوا۔۔۔ الابصار (38: 62 تا 63) ” وہ آپس میں کہیں گے ” کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں برا سمجھتے تھے اور ہم نے یونہی ان کا مذاق بنالیا تھا ، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ “ یہ لوگ ان کے بارے میں جہنم میں اتہ پتہ دریافت کررہے ہیں حالانکہ وہ لوگ جنتوں کے مزوں میں ہیں۔ یہ منظر اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ میں یہ جھگڑے یونہی چلتے رہیں گے۔
آیت 62 { وَقَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰی رِجَالًا کُنَّا نَعُدُّہُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِ } ”اور وہ کہیں گے : کیا بات ہے ہم یہاں ان کو نہیں دیکھ رہے جنہیں ہم دنیا میں برے لوگوں میں شمار کرتے تھے ؟“ دنیا میں ہمارے ساتھ کچھ گھٹیا اور کم حیثیت لوگ بھی تو تھے جو محمد ﷺ پر ایمان لے آئے تھے۔ وہاں ہم انہیں تنگ کیا کرتے تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ آج وہ لوگ یہاں جہنم میں نظر نہیں آرہے ‘ معلوم نہیں کہاں چلے گئے ہیں !