درس نمبر 195 ایک نظر میں
اس سبق میں شکر اور سرکشی کی دو صورتیں پیش کی گئی ہیں اور یہ مثال بھی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کیلئے ایسی قوتیں مسخر کردیتے ہیں جو عموماً لوگوں کے لئے مسخر نہیں کی جاتیں۔ لیکن اللہ کی مشیت اور اللہ کی تقدیر کو لوگوں کی عادات کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ ان نقوش کے درمیان جنوں کی حقیقت بھی سامنے آتی ہے جن کو پوجا بعض عرب کیا کرتے تھے یا ان سے یہ عرب قبائل غیب کی خبریں طلب کرتے تھے جبکہ یہ جنات بذات خود غیب کی خبروں سے محروم ہوتے ہیں۔ اس سبق میں گمراہی کے وہ اسباب بھی بیان کیے گئے ہیں جن کے ذریعے شیطان لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔ لیکن یہ اسباب انسان کے دائرہ اختیار کے اندر ہیں۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ لوگوں کے جو اعمال پوشیدہ ہوتے ہیں اللہ ان کو ظاہر فرماتے ہیں اور اس سبق کا خاتمہ بھی سابقہ سبق کی طرح ذکر آخرت پر ہوتا ہے۔
درس نمبر 195 تشریح آیات
10 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 21
لقد اتینا داؤد منا ۔۔۔۔۔ انی بما تعملون بصیر (10 – 11) ” ۔ اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ (اے آل داؤد) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو ، اس کو میں دیکھ رہا ہوں “۔ حضرت داؤد اللہ کے مطیع فرمان بندے تھے۔ گزشتہ سبق کا خاتمہ اس ذکر سے ہوا تھا۔
ان فی ذالک لایۃ لکل عبد منیب ” اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے “۔ اس اشارہ کے بعد حضرت داؤد کا قصہ لایا گیا اور اس کا آغاز اس بات سے کیا گیا جو بطور فضیلت ان کو دی گئی۔
یجبال اوبی معہ والطیر (34: 10) ” اے پہاڑو ، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو اور اے میرے پرندو تم بھی “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کو بہت ہی خوبصورت آواز دی گئی تھی۔ یہ آواز اپنی خوبصورتی میں ایک معجزانہ آواز تھی۔ وہ اپنے ترانے نہایت خوش الحانی سے گاتے تھے۔ یہ ترانے اللہ کی حمد پر مشتمل ہوتے تھے۔ ان میں سے بعض قدیم میں موجود ہیں اگرچہ ہم ان کی صحت کے بارے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی آواز سنی جو رات کو قرآن پڑھتے تھے ، آپ کھڑے ہو کر سننے لگے تو آپ نے فرمایا کہ ” ان کو ایسی خوشی الحانی دی گئی ہے جس طرح حضرت داؤد (علیہ السلام) کو دی گئی تھی “۔
اس آیت میں حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے فضل و کرم کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے وہ اس قدر شفاف ہے کہ ان کی حمد و ثنا کے نتیجے میں ان کے اور اس کائنات کے درمیان پر دے اٹھ گئے تھے۔ ان کی حقیقت ، حقیقت کائنات کے ساتھ ہم آہنگ ہوگئی تھی۔ اور جس طرح وہ رب تعالیٰ کی حمد گاتے تھے۔ اس طرح کہ ان کے وجود اور کائنات کی حقیقت کے درمیان فاصلے مٹ گئے تھے۔ یہ کائنات بھی اللہ کی حدی خواں تھی اور حضرت داؤد بھی۔ یوں اللہ کی مخلوقات کی دو اقسام کے درمیان فاصلے مٹ گئے اور دنوں مخلوقات الٰہی حقیقت کے ساتھ مربوط ہوگئیں جس نے ان کے درمیان یہ پردے قائم کر رکھے تھے۔ دونوں اللہ کی تسبیح اور حمد گانے لگیں اور دونوں کا نغمہ ایک ہوگیا۔ یہ اشترا ، صفائی اور خلوص کا ایک درجہ ہے اور اس مقام اور درجے تک اللہ کے فضل و کرم کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکتا۔ جب حقیقت نوعیہ کے پردے اٹھ جائیں تو اللہ کی مخلوق ایک رہ جاتی ہے اور تمام حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ کوئی رکاوٹ نہیں رہتی۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) اللہ کی حمد و ثنا گاتے تو پہاڑ اور پرندے ان کے ساتھ گائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی شخصیت میں جو ترنم تھا ، وہ پوری کائنات میں سرایت کرجاتا اور یوں پوری کائنات خالق کی طرف متوجہ ہو کر حمد گاتی۔ یہ وہ ۔۔۔۔ ہوتے ہیں جن کا ذوق انہیں لوگوں کو ہوتا ہے جو ان تجربات سے گزرے ہوں اور جن لوگوں نے اپنی زندگی میں ایسے لمحات پائے ہوں۔
والنالہ الحدید (34: 10) ” ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا “۔ یہ اللہ کے فضل و کرم کا ایک دوسرا رنگ تھا جو حضرت داؤد (علیہ السلام) پر ہوا تھا۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر انعامات کا جس طرح یہاں بیان ہو رہا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کوئی خارق العادت عمل تھا۔ معاملہ یہ نہ تھا جس طرح بھٹیوں میں لوہے کو گرم کرکے ان کو پگھلاتے ہیں اور پھر ڈھلائی کا کام کرتے ہیں۔ یہ دراصل ایک معجزانہ عمل تھا اور حضرت داؤد (علیہ السلام) کی نبوت پر ایک دلیل تھا اور سیاق کلام سے یہی بات معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہاں مخصوص فضل و کرم کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ کوئی معمولی اور عادی ٹیکنالوجی نہ تھی۔
آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا تھا۔“ ”تا ویب“ گویا ”ترجیع“ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ”اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔“
حضرت داؤد پر انعامات الٰہی۔اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت داؤد ؑ پر دنیوی اور اخروی رحمت نازل فرمائی۔ نبوت بھی دی بادشاہت بھی دی لاؤ لشکر بھی دیئے طاقت و قوت بھی دی۔ پھر ایک پاکیزہ معجزہ یہ عطا فرمایا کہ ادھر نغمہ داؤدی ہوا میں گونجا، ادھر پہاڑوں اور پرندوں کو بھی وجد آگیا۔ پہاڑوں نے آواز میں آوا زملا کر اللہ کی حمد وثناء شروع کی پرندوں نے پر ہلانے چھوڑ دیئے اور اپنی قسم قسم کی پیاری پیاری بولیوں میں رب کی وحدانیت کے گیت گانے لگے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ رات کو حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے جسے سن کر اللہ کے رسول ﷺ ٹھہر گئے دیر تک سنتے رہے پھر فرمانے لگے انہیں نغمہ داؤدی کا کچھ حصہ مل گیا ہے۔ ابو عثمان نہدی کا بیان ہے کہ واللہ ہم نے حضرت ابو موسیٰ سے زیادہ پیاری آواز کسی باجے کی بھی نہیں سنی۔ اوبی کے معنی حبشی زبان میں یہ ہیں کہ تسبیح بیان کرو۔ لیکن ہمارے نزدیک اس میں مزید غور کی ضرورت ہے لغت عرب میں یہ لفظ ترجیع کے معنی میں موجود ہے۔ پس پہاڑوں کو اور پرندوں کو حکم ہو رہا ہے کہ وہ حضرت داؤد کی آواز کے ساتھ اپنی آواز بھی ملا لیا کریں۔ تاویب کے ایک معنی دن کو چلنے کے بھی آتے ہیں۔ جیسے سری کے معنی رات کو چلنے کے ہیں لیکن یہ معنی بھی یہاں کچھ زیادہ مناسبت نہیں رکھتا یہاں تو یہی مطلب ہے کہ داؤد کی تسبیح کی آواز میں تم بھی آواز ملا کر خوش آوازی سے رب کی حمد بیان کرو۔ اور فضل ان پر یہ ہوا کہ ان کیلئے لوہا نرم کردیا گیا نہ انہیں لوہے کی بھٹی میں ڈالنے کی ضرورت نہ ہتھوڑے مارنے کی حاجت ہاتھ میں آتے ہی ایسا ہوجاتا تھا جیسے دھاگے، اب اس لوہے سے بفرمان اللہ آپ زرہیں بناتے تھے۔ بلکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ دنیا میں سب سے پہلے زرہ آپ ہی نے ایجاد کی ہے۔ ہر روز صرف ایک زرہ بناتے اس کی قیمت چھ ہزار لوگوں کے کھلانے پلانے میں صرف کردیتے۔ زرہ بنانے کی ترکیب خود اللہ کی سکھائی ہوئی تھی کہ کڑیاں ٹھیک ٹھیک رکھیں حلقے چھوٹے نہ ہوں کہ ٹھیک نہ بیٹھیں بہت بڑے نہ ہوں کہ ڈھیلا پن رہ جائے بلکہ ناپ تول اور صحیح انداز سے حلقے اور کڑیاں ہوں۔ ابن عساکر میں ہے حضرت داؤد ؑ بھیس بدل کر نکلا کرتے اور رعایا کے لوگوں سے مل کر ان سے اور باہر کے آنے جانے والوں سے دریافت فرماتے کہ داؤد کیسا آدمی ہے ؟ لیکن ہر شخص کو تعریفیں کرتا ہوا ہی پاتے۔ کسی سے کوئی بات اپنی نسبت قابل اصلاح نہ سنتے۔ ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو انسانی صورت میں نازل فرمایا۔ حضرت داؤد کی ان سے بھی ملاقات ہوئی تو جیسے اوروں سے پوچھتے تھے ان سے بھی سوال کیا انہوں نے کہا کہ داؤد ہے تو اچھا آدمی اگر ایک کمی اسمیں نہ ہوتی تو کامل بن جاتا۔ آپ نے بڑی رغبت سے پوچھا کہ وہ کیا ؟ فرمایا وہ اپنا بوجھ مسلمانوں کے بیت المال پر ڈالے ہوئے ہیں خود بھی اسی میں سے لیتا ہے اور اپنی اہل و عیال کو بھی اسی میں سے کھلاتا ہے۔ حضرت داؤد ؑ کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی کہ یہ شخص ٹھیک کہتا ہے اسی وقت جناب باری کی طرف جھک پڑے اور گریہ وزاری کے ساتھ دعائیں کرنے لگے کہ اللہ مجھے کوئی کام کاج ایسا سکھا دے جس سے میرا پیٹ بھر جایا کرے۔ کوئی صنعت اور کاریگری مجھے بتادے جس سے میں اتنا حاصل کرلیا کروں کہ وہ مجھے اور میرے بال بچوں کو کافی ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں زرہیں بنانا سکھائیں اور پھر اپنی رحمت سے لوہے کو ان کیلئے بالکل نرم کردیا۔ سب سے پہلے زرہیں آپ نے ہی بنائی ہیں۔ ایک زرہ بناکر فروخت فرماتے اور اس کی قیمت کے تین حصے کرلیتے ایک اپنے کھانے پینے وغیرہ کیلئے ایک صدقے کیلئے ایک رکھ چھوڑنے کیلئے تاکہ دوسری زرہ بنانے تک اللہ کے بندوں کو دیتے رہیں۔ حضرت داؤد کو جو نغمہ دیا گیا تھا وہ تو محض بےنظیر تھا اللہ کی کتاب زبور پڑھنے کو بیٹھتے۔ آواز نکلتے ہی چرند پرند صبر و سکون کے ساتھ محویت کے عالم میں آپ کی آواز سے متاثر ہو کر کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول ہوجاتے۔ سارے باجے شیاطین نے نغمہ داؤدی سے نکالے ہیں۔ آپ کی بےمثل خوش آوازی کی یہ چڑاؤنی جیسی نقلیں ہیں۔ اپنی نعمتوں کو بیان فرما کر حکم دیتا ہے کہ اب تمہیں بھی چاہئے کہ نیک اعمال کرتے رہو۔ میرے فرمان کے خلاف نہ کرو۔ یہ بہت بری بات ہے کہ جس کے اتنے بڑے اور بےپایاں احسان ہوں۔ اس کی فرمانبرداری ترک کردی جائے۔ میں تمہارے اعمال کا نگران ہوں۔ تمہارا کوئی عمل چھوٹا بڑا نیک بد مجھ سے پوشیدہ نہیں۔