سورہ سبا (34): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Saba کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ سبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ سبا کے بارے میں معلومات

Surah Saba
سُورَةُ سَبَإٍ
صفحہ 429 (آیات 8 سے 14 تک)

أَفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَم بِهِۦ جِنَّةٌۢ ۗ بَلِ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ فِى ٱلْعَذَابِ وَٱلضَّلَٰلِ ٱلْبَعِيدِ أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ ۞ وَلَقَدْ ءَاتَيْنَا دَاوُۥدَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَٰجِبَالُ أَوِّبِى مَعَهُۥ وَٱلطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ ٱلْحَدِيدَ أَنِ ٱعْمَلْ سَٰبِغَٰتٍ وَقَدِّرْ فِى ٱلسَّرْدِ ۖ وَٱعْمَلُوا۟ صَٰلِحًا ۖ إِنِّى بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ يَعْمَلُونَ لَهُۥ مَا يَشَآءُ مِن مَّحَٰرِيبَ وَتَمَٰثِيلَ وَجِفَانٍ كَٱلْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَٰتٍ ۚ ٱعْمَلُوٓا۟ ءَالَ دَاوُۥدَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِىَ ٱلشَّكُورُ فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ ٱلْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِۦٓ إِلَّا دَآبَّةُ ٱلْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُۥ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ ٱلْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا۟ يَعْلَمُونَ ٱلْغَيْبَ مَا لَبِثُوا۟ فِى ٱلْعَذَابِ ٱلْمُهِينِ
429

سورہ سبا کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ سبا کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جھوٹ گھڑتا ہے ہے یا اسے جنون لاحق ہے" نہیں، بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور و ہی بری طرح بہکے ہوئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Aftara AAala Allahi kathiban am bihi jinnatun bali allatheena la yuminoona bialakhirati fee alAAathabi waalddalali albaAAeedi

آیت 8 { اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر“ کیا محمد ﷺ نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپ ﷺ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو ! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ نہ بولا ہو ‘ آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی اللہ کے بارے میں ! { اَمْ بِہٖ جِنَّــۃٌ} ”یا اسے جنون ہوگیا ہے !“ کبھی کہتے ممکن ہے کہ ان پر آسیب کا سایہ آگیا ہو یا ان کا دماغی توازن خراب ہوگیا ہو ‘ اس لیے اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہوں۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کا اپنا کوئی قصور نہیں اور انہیں جھوٹ کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس الزام پر بھی ان کے ضمیر پکار اٹھتے کہ اس پر غور تو کرو ! کیا اس کلام میں تم لوگوں کو واقعی دیوانگی کے آثار نظر آتے ہیں ؟ چناچہ واقعتا انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ماجرا آخر ہے کیا ؟ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ اگر بارہ سالہ مکی دور کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو مکی سورتوں کے درمیانی گروپس سورۃ الفرقان تا سورة السجدۃ اور سورة سبا تا سورة الاحقاف میں ‘ سورة الشعراء کو چھوڑ کر کہ وہ ابتدائی دور کی سورت ہے ‘ باقی تمام وہ سورتیں ہیں جو درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور ان سب سورتوں کے مطالعہ کے دوران کفارِ مکہ کی یہی کیفیت سامنے آتی ہے۔ یعنی اس دور میں وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سخت الجھن اور شش و پنج کا شکار تھے۔ کبھی وہ آپ ﷺ کو شاعر کہتے ‘ کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیتے ‘ مگر آپ ﷺ کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی موقف اپنانے سے قاصر تھے۔ البتہ آخری چار سالہ دور میں نازل ہونے والی پندرہ سورتوں یعنی سورة الانعام ‘ سورة الاعراف اور سورة یونس تا سورة المومنون اس گروپ میں بھی سورة الحجر ایک ایسی سورت ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کے اندر polarization ہوگئی تھی۔ یعنی مکی دور کے آخری سالوں میں حضور ﷺ کے بارے میں ان کے مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ { بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْْعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ } ”بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ دُنیا میں بھی ان کی جان ضیق تنگی میں آئی ہوئی ہے اور وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ بات جو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ‘ بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی۔

اردو ترجمہ

کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afalam yaraw ila ma bayna aydeehim wama khalfahum mina alssamai waalardi in nasha nakhsif bihimu alarda aw nusqit AAalayhim kisafan mina alssamai inna fee thalika laayatan likulli AAabdin muneebin

آیت 9 { اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے !“ کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویا یہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ کا حوالہ بھی آگیا اور ”تذکیر بایام اللہ“ کا بھی۔ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ } ”اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں“ { اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ } ”یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ } ”یقینا اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والاہو۔“

اردو ترجمہ

ہم نے داؤدؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا (ہم نے حکم دیا کہ) اے پہاڑو، اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو (اور یہی حکم ہم نے) پرندوں کو دیا ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کر دیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad atayna dawooda minna fadlan ya jibalu awwibee maAAahu waalttayra waalanna lahu alhadeeda

آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا تھا۔“ ”تا ویب“ گویا ”ترجیع“ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ”اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔“

اردو ترجمہ

اس ہدایت کے ساتھ کہ زرہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ (اے آل داؤدؑ) نیک عمل کرو، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ani iAAmal sabighatin waqaddir fee alssardi waiAAmaloo salihan innee bima taAAmaloona baseerun

آیت 11 { اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ } ”کہ کشادہ زرہیں بنائو اور کڑیاں ملانے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھو“ آپ علیہ السلام کے لیے لوہے کو خصوصی طور پر نرم کردیا گیا تھا اور زرہیں بنانے کا ہنر بھی آپ علیہ السلام کو سکھا دیا گیا تھا۔ { وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ”اور تم سب نیک اعمال کرو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں۔“

اردو ترجمہ

اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walisulaymana alrreeha ghuduwwuha shahrun warawahuha shahrun waasalna lahu AAayna alqitri wamina aljinni man yaAAmalu bayna yadayhi biithni rabbihi waman yazigh minhum AAan amrina nuthiqhu min AAathabi alssaAAeeri

آیت 12 { وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ} ”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ اس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا اور اس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپ علیہ السلام کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمان علیہ السلام وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کرلیتے تھے۔ { وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ } ”اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔“ { وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ } ”اور کچھ ِجن بھی اس علیہ السلام کے تابع کردیے تھے جو اس کے سامنے کام کرتے تھے اس کے رب کے حکم سے۔“ { وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ } ”اور ان میں سے جو کوئی بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اسے ہم جلا دینے والا عذاب چکھاتے تھے۔“ آگے ان کاموں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی ہے جو جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کرتے تھے۔

اردو ترجمہ

وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اونچی عمارتیں، تصویریں، بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں اے آلِ داؤدؑ، عمل کرو شکر کے طریقے پر، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

YaAAmaloona lahu ma yashao min mahareeba watamatheela wajifanin kaaljawabi waqudoorin rasiyatin iAAmaloo ala dawooda shukran waqaleelun min AAibadiya alshshakooru

آیت 13 { یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ } ”وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا ‘ بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے“ شریعت ِمحمدی میں مجسمے بنانا حرام ہے ‘ لیکن ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ایسا کرنا جائز تھا۔ ویسے ”تِمثال“ عربی زبان میں ہر اس شبیہہ یا پیکر کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنایا جائے ‘ خواہ وہ جاند ار ہو یا بےجان۔ { وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ } ”اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں۔“ یعنی وہ دیگیں اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ چولہوں کے اوپر ہی پڑی رہتی تھی اور وہاں سے انہیں ہلایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس طرح کی دیگیں اجمیر شریف انڈیا میں حضرت معین الدین اجمیری رح کے مزار پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ { اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا } ”اے دائود علیہ السلام کے گھر والو ! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے“ حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ حضرت دائود علیہ السلام کے بیٹے تھے اس لیے آپ علیہ السلام کو آلِ دائود علیہ السلام کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام پر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام کا ایک ایک عمل اللہ تعالیٰ کی احسان مندی کا مظہر ہونا چاہیے۔ { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ } ”اور واقعہ یہ ہے کہ میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔“

اردو ترجمہ

پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جنوں کو اس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گھن کے سوا نہ تھی جو اس کے عصا کو کھا رہا تھا اس طرح جب سلیمانؑ گر پڑا تو جنوں پر یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma qadayna AAalayhi almawta ma dallahum AAala mawtihi illa dabbatu alardi takulu minsaatahu falamma kharra tabayyanati aljinnu an law kanoo yaAAlamoona alghayba ma labithoo fee alAAathabi almuheeni

آیت 14 { فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ } ”پھر جب ہم نے اس علیہ السلام پر موت طاری کردی“ { مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ } ”تو کسی نے ان جنات کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے“ { تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ } ”جو اس علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام ِجنات ّکی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپ علیہ السلام کی روح قبض ہوگئی مگر آپ علیہ السلام کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دیمک نے آپ علیہ السلام کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کردیا۔ اس دوران جنات آپ علیہ السلام کی موت سے بیخبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ آپ کھڑے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ { فَلَمَّا خَرَّ تَـبَـیَّـنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”پھر جب وہ گرپڑا توجنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔“

429