سورہ سبا: آیت 12 - ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها... - اردو

آیت 12 کی تفسیر, سورہ سبا

وَلِسُلَيْمَٰنَ ٱلرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُۥ عَيْنَ ٱلْقِطْرِ ۖ وَمِنَ ٱلْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِۦ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ ٱلسَّعِيرِ

اردو ترجمہ

اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مسخر کر دیا، صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہا دیا اور ایسے جن اس کے تابع کر دیے جو اپنے رب کے حکم سے اس کے آگے کام کرتے تھے اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walisulaymana alrreeha ghuduwwuha shahrun warawahuha shahrun waasalna lahu AAayna alqitri wamina aljinni man yaAAmalu bayna yadayhi biithni rabbihi waman yazigh minhum AAan amrina nuthiqhu min AAathabi alssaAAeeri

آیت 12 کی تفسیر

ولسلیمن الریح غدوھا شھر۔۔۔۔۔۔ وقلیل من عبادی الشکور (12 – 13) ” اس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا ، اونچی عمارتیں ، تصویریں ، بڑے بڑے خوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں۔ اے آل داؤد ، عمل کرو شکر کے طریقے پر ، میرے بندوں میں کم ہی شکر گزار ہیں۔

حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا گیا تھا ، اس کے بارے میں بہت سی روایات وارد ہیں۔ ان روایات پر اسرائیلیات کا رنگ غالب ہے۔ اگرچہ یہودی کتابوں میں ان کا تذکرہ نہیں ہے۔ ان روایات میں پڑنے سے بچنا ہی بہتر ہے۔ آیت میں جو کچھ آیا ہے کہ اللہ نے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا اور یہ ہوا صبح کے وقت ایک علاقے کی طرف چلتی تھی ۔ ( سورة انبیاء میں ہے کہ یہ ارض مقدس کی طرف چلتی تھی) اور ایک مہینے کا فاصل طے کرتی تھی اور شام کے وقت وہ دوسرے علاقے کی طرف چلتی اور مسافت ایک مدد کا فاصلہ ہوتا ۔ دونوں سے حضرت سلیمان اپنے مفادات لیتے اور اللہ کے حکم سے استفادہ کرتے۔ اس کی تفصیلات کیا ہیں۔ وہ ہمیں معلوم نہیں۔ اور بلا تحقیق انسانوں کے پیچھے پڑنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔

واسلنا لہ عین القطر (34: 12) ” ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا ایک چشمہ بہا دیا تھا “ قطر نحاس یعنی تانبے کو کہتے ہیں۔ سیاق کلام سے یہاں بھی معلوم ہوتا ہے کہ لوہے کو نرم کرنے کی طرح ، تانبے کا چشمہ بھی کوئی معجزانہ عمل تھا۔ یوں ہوسکتا ہے کہ اللہ نے آتش فشانی کے عمل کی طرح ان کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیا ہو یا یوں کہ اللہ نے ان کو بطور الہام تانبا پگھلانا سکھا دیا ہو۔ یہ بھی اللہ کی طرف سے فضل عظیم تھا۔

ومن الجن من یعمل بین یدیہ باذن ربہ (34: 12) ” “۔ اللہ نے معجزانہ طور پر جن ان کے تابع کر دئیے تھے اور وہ ان کی مملکت میں معجزانہ ڈیوٹیاں دیتے تھے۔ عربی میں ان تمام مخفی قوتوں کو جن کہا جاتا ہے جو نظر نہیں آتیں۔ یہ ایک مخلوق ہے جس پر اللہ نے جن کے لفظ کا اطلاق کیا ہے ہم اس مخلوق کے بارے میں وہی کچھ جانتے ہیں جو اللہ نے بتایا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ یہاں اللہ نے صرف یہی کہا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لیے ان کا ایک گروہ مسخر کردیا گیا تھا جو آپ کے تحت کام کرتا تھا اور ان میں سے جو بھی بھاگ جاتا اسے اللہ سخت سزا دیتے تھے۔

ومن یزغ ۔۔۔۔۔ عذاب السعیر (34: 12) ” “۔ جنوں کی تسخیر کی بات ختم ہونے سے قبل ہی یہ تبصرہ کیا گیا کہ جن اللہ کے اس طرح قبضے میں ہیں کہ اگر نافرمانی کریں تو اللہ انہیں آگ میں ڈال دے۔ چونکہ بعض مشرکین جنوں کی پوجا کرتے تھے اس لیے یہاں ان کی اس بےبسی کو بیان کیا گیا کہ مشرکین کی طرح ان کے معبود بھی نار جہنم میں جائیں گے بوجہ نافرمانی کے۔ جن حضرت سلیمان کیلئے یوں مسخر تھے

آیت 12 { وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ} ”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ اس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا اور اس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپ علیہ السلام کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمان علیہ السلام وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کرلیتے تھے۔ { وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ } ”اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔“ { وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ } ”اور کچھ ِجن بھی اس علیہ السلام کے تابع کردیے تھے جو اس کے سامنے کام کرتے تھے اس کے رب کے حکم سے۔“ { وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ } ”اور ان میں سے جو کوئی بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اسے ہم جلا دینے والا عذاب چکھاتے تھے۔“ آگے ان کاموں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی ہے جو جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کرتے تھے۔

اللہ کی نعمتیں اور سلیمان علیہ السلام۔حضرت داؤد ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کو بیان کرکے پھر آپ کے فرزند حضرت سلیمان ؑ پر جو نعمتیں نازل فرمائی تھیں ان کا بیان ہو رہا ہے کہ ان کیلئے ہوا کو تابع فرمان بنادیا۔ مہینے بھر کی راہ صبح ہی صبح ہوجاتی اور اتنی ہی مسافت کا سفر شام کو ہوجاتا۔ مثلاً دمشق سے تخت مع فوج و اسباب کے اڑایا اور تھوڑی دیر میں اصطخر پہنچادیا جو تیز سوار کیلئے بھی مہینے بھر کا سفر تھا۔ اسی طرح شام کو وہاں سے تخت اڑا اور شام ہی کو کا بل پہنچ گیا۔ تانبے کو بطور پانی کرکے اللہ تعالیٰ نے اس کے چشمے بہا دیئے تھے کہ جس کام میں جس طرح جس وقت لانا چاہیں تو بلاوقت لے لیا کریں۔ یہ تانبا انہیں کے وقت سے کام میں آ رہا ہے۔ سدی کا قول ہے کہ تین دن تک یہ بہتا رہا۔ جنات کو ان کی ماتحتی میں کردیا جو وہ چاہتے اپنے سامنے ان سے کام لیتے۔ ان میں سے جو جن احکام سلیمان کی تعمیل سے جی چراتا فوراً آگ سے جلا دیا جاتا۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جنات کی تین قسمیں ہیں ایک تو پر دار ہے۔ دوسری قسم سانپ اور کتے ہیں تیسری قسم وہ ہے جو سواریوں پر سوار ہوتے ہیں اترتے ہیں وغیرہ۔ یہ حدیث بہت غریب ہے۔ ابن نعم سے روایت ہے کہ جنات کی تین قسمیں ہیں ایک کیلئے تو عذاب ثواب ہے ایک آسمان و زمین میں اڑتے رہتے ہیں ایک سانپ کتے ہیں۔ انسانوں کی بھی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش تلے سایہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوائے اور کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اور ایک قسم مثل چوپایوں کے ہے بلکہ ان سے بھی بدتر۔ اور تیسری قسم انسانی صورت میں شیطانی دل رکھنے والے۔ حضرت حسن فرماتے ہیں جن ابلیس کی اولاد میں سے ہیں اور انسان حضرت آدم ؑ کی اولاد میں سے ہیں دونوں میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی۔ عذاب وثواب میں دونوں شریک ہیں دونوں کے ایماندار ولی اللہ ہیں اور دونوں کے بےایمان شیطان ہیں، محاریب کہتے ہیں بہترین عمارتوں کو گھر کے بہترین حصے کو مجلس کی صدارت کی جگہ کو۔ بقول مجاہد ان عمارتوں کو جو محلات سے کم درجے کی ہوں۔ ضحاک فرماتے ہیں مسجدوں کو۔ قتادہ کہتے ہیں بڑے بڑے محل اور مسجدوں کو۔ ابن زید کہتے ہیں گھروں کو۔ تماثیل تصویروں کو کہتے ہیں یہ تانبے کی تھیں۔ بقول قتادہ وہ مٹی اور شیشے کی تھیں۔ جواب جمع ہے جابیہ کی۔ جابیہ اس حوض کو کہتے ہیں جس میں پانی آتا رہتا ہو۔ یہ مثل تالاب کے تھیں بہت بڑے بڑے لگن تھے تاکہ حضرت سلیمان ؑ کی بہت بڑی فوج کیلئے بہت سا کھانا بیک وقت تیار ہوسکے اور ان کے سامنے لایا جاسکے۔ اور جمی ہوئی دیگیں جو بوجہ اپنی بڑائی کے اور بھاری پن کے ادھر سے ادھر نہیں کی جاسکتی تھیں۔ ان سے اللہ نے فرما دیا تھا کہ دین و دنیا کی جو نعمتیں میں نے تمہیں دے رکھی ہیں ان پر میرا شکر کرو۔ شکر مصدر ہے بغیر فعل کے یا مفعول لہ ہے اور دونوں تقدیروں پر اس میں دلالت ہے کہ شکر جس طرح قول اور ارادہ سے ہوتا ہے فعل سے بھی ہوتا ہے جیسے شاعر کا قول ہے افادتکم النعماء منی ثلاثہ یدی ولسانی الضمیر المحجیا اس میں بھی شاعر نعمتوں کا شکر تینوں طرح مانتا ہے فعل سے، زبان سے اور دل سے۔ حضرت عبدالرحمن سلمی سے مروی ہے کہ نماز بھی شکر ہے اور روزہ بھی شکر ہے اور بھلا عمل جسے تو اللہ کیلئے کرے، شکر ہے اور سب سے افضل شکر حمد ہے۔ محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں شکر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور نیک عمل ہے۔ آل داؤد دونوں طرح کا شکر ادا کرتے تھے قولاً بھی اور فعلاً بھی۔ ثابت بنانی فرماتے ہیں " حضرت داؤد ؑ نے اپنی اہل و عیال اولاد اور عورتوں پر اس طرح اوقات کی پابندی کے ساتھ نفل نماز تقسیم کی تھی کہ ہر وقت کوئی نہ کوئی نماز میں مشغول نظر آتا۔ بخاری و مسلم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند حضرت داؤد ؑ کی نماز تھی۔ آپ آدھی رات سوتے تہائی رات قیام کرتے اور چھٹا حصہ سو رہتے۔ اسی طرح سب روزوں سے زیادہ محبوب روزے بھی اللہ تعالیٰ کو آپ ہی کے تھے آپ ایک دن روزے سے رہتے اور ایک دن بےروزہ ایک خوبی آپ میں یہ تھی کہ دشمن سے جہاد کے وقت منہ نہ پھیرتے۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کی والدہ ماجدہ نے آپ سے فرمایا کہ پیارے بچے رات کو بہت نہ سویا کرو۔ رات کی زیادہ نیند انسان کو قیامت کے دن فقیر بنا دیتی ہے۔ ابن ابی حاتم میں اس موقعہ پر حضرت داؤد ؑ کی ایک مطول حدیث مروی ہے۔ اسی کتاب میں یہ بھی مروی ہے کہ حضرت داؤد ؑ نے جناب باری میں عرض کیا کہ الہ العالمین تیرا شکر کیسے ادا ہوگا ؟ شکر گزاری خود تیری ایک نعمت ہے جواب ملا داؤد اب تو نے میری شکر گزاری ادا کرلی جبکہ تو نے اسے جان لیا کہ کل نعمتیں میری ہی طرف سے ہیں۔ پھر ایک واقعے کی خبر دی جاتی ہے کہ بندوں میں سے شکر گزار بندے بہت ہی کم ہیں۔

آیت 12 - سورہ سبا: (ولسليمان الريح غدوها شهر ورواحها شهر ۖ وأسلنا له عين القطر ۖ ومن الجن من يعمل بين يديه بإذن ربه...) - اردو