فلما قضینا علیہ ۔۔۔۔۔ فی العذاب المھین (13)
روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی موت کا وقت آگیا تو وہ عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ جن اپنی اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے تھے اور ان کے ذمہ بہت سے شدید فرائض تھے جو ان کو کرتے تھے۔ جنوں کو ایک عرصہ تک معلوم نہ ہوا کہ حضرت سلیمان فوت ہوگئے ہیں یہاں تک کہ گھن نے ان کے عصا کو چاٹ لیا۔ یہ کیڑا جہاں ہوتا ہے۔ چھت کے شہتیروں ، دروازوں ، ستونوں کو بری طرح کھا جاتا ہے۔ پورٹ سعید کے علاقے میں لوگ گھر بناتے ہیں اور اس گھن کے ڈر سے اس میں ایک لکڑی بھی نہیں لگاتے کہ یہ کیڑا ہر قسم کی لکڑی کو چاٹ جاتا ہے۔ جب اس نے عصا کو چاٹ لیا تو وہ حضرت سلیمان کو نہ سہار سکا اور آپ زمین پر گر پڑے۔ اس وقت جنوں کو معلوم ہوا کہ حضرت تو وفات پا چکے ہیں۔ یہاں آکر جنوں کو معلوم ہوا۔
تبینت الجن ۔۔۔۔۔۔ العذاب المھین (34: 14) ” یہ بات کھل گئی کہ اگر وہ غیب جاننے والے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں مبتلا نہ رہتے “۔ یہ ہیں وہ جن جن کو عرب پوجتے ہیں اور ان کو اللہ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے تابع بنا دیا اور ان کو اپنے قریب کے غیب کا بھی علم نہ تھا۔ لیکن بعض لوگ اس قدر کم فہم ہیں کہ ان سے دور کی باتیں پوچھتے ہیں۔
حضرت داؤد (علیہ السلام) کے گھرانے کا قصہ تو ان اہل ایمان کا قصہ تھا جو اللہ کے فضل و کرم کا بےحد شکر ادا کرنے والے تھے۔ اس کے بالمقابل قوم سبا کا قصہ ہے۔ سورة نمل میں حضرت سلیمان اور ملکہ سبا کے حالات گزر گئے ہیں۔ اب ان کا قصہ بعد کے ادوار سے متعلق ہے کیونکہ جن واقعات کا یہاں ذکر ہے وہ زمانہ مابعد سے متعلق ہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب قوم سبا نے سرکشی اختیار کی تو اللہ نے ان سے اپنی نعمتیں چھین لیں اور اس کے بعد یہ لوگ اس علاقے سے منتشر ہوگئے۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ ایک بہت بڑی ترقی یافتہ مملکت کے مالک تھے اور ان کے علاقے میں ہر طرف خوشحالی اور رفاہ عامہ کے کام تھے۔ کیونکہ ہدہد نے سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے یہ رپورٹ پیش کی۔
انی وجدت امرۃ ۔۔۔۔۔ من دون اللہ ” میں نے دیکھا کہ ایک عورت ان کی ملکہ ہے اور اسے ہر چیز دی گئی ہے اور اس کا ایک عظیم تخت ہے۔ میں نے پایا کہ وہ اور اس کی قوم سورج کے پجاری ہیں ، اللہ کے سوا “۔ اس کے بعد پھر ملکہ سبا سلیمان (علیہ السلام) کے سامنے مسلمان ہو کر آجاتی ہے۔ لہٰذا یہاں کے جو واقعات ہیں وہ ملکہ سبا کے زمانہ کے بعد سے متعلق ہیں۔ یہ مصائب ان پر اس وقت آئے جب انہوں نے سرکشی اختیار کرلی ۔ اور اللہ کی ناشکری کی وجہ سے اللہ نے اپنے انعامات ان سے چھین لیے۔
قصے کا آغاز اس حالت کے بیان سے ہوتا ہے جس میں وہ تھے۔ اچھے دن ، فراوانی ، ترقی اور اللہ کی نعمتیں اور ہر طرح کی پیداوار جس کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ان انعامات کے بدلے میں اللہ کا شکر ادا کرتے۔
آیت 14 { فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ } ”پھر جب ہم نے اس علیہ السلام پر موت طاری کردی“ { مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ } ”تو کسی نے ان جنات کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے“ { تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ } ”جو اس علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام ِجنات ّکی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپ علیہ السلام کی روح قبض ہوگئی مگر آپ علیہ السلام کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دیمک نے آپ علیہ السلام کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کردیا۔ اس دوران جنات آپ علیہ السلام کی موت سے بیخبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ آپ کھڑے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ { فَلَمَّا خَرَّ تَـبَـیَّـنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”پھر جب وہ گرپڑا توجنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔“
حضرت سلیمان ؑ کی وفات۔حضرت سلیمان ؑ کی موت کی کیفیت بیان ہو رہی ہے اور یہ بھی کہ جو جنات ان کے فرمان کے تحت کام کاج میں مصروف تھے ان پر ان کی موت کیسے نامعلوم رہی وہ انتقال کے بعد بھی لکڑی کے ٹیکے پر کھڑے ہی رہے اور یہ انہیں زندہ سمجھتے ہوئے سر جھکائے اپنے سخت سخت کاموں میں مشغول رہے۔ مجاہد وغیرہ فرماتے ہی تقریباً سال بھر اسی طرح گزر گیا۔ جس لکڑی کے سہارے آپ کھڑے تھے جب اسے دیمک چاٹ گئی اور وہ کھوکھلی ہوگئی تو آپ گرپڑے۔ اب جنات اور انسانوں کو آپ کی موت کا پتہ چلا۔ تب تو نہ صرف انسانوں بلکہ خود جنات کو بھی یقین ہوگیا کہ ان میں سے کوئی بھی غیب داں نہیں۔ ایک مرفوع منکر اور غریب حدیث میں ہے کہ لیکن تحقیقی بات یہ ہے کہ اس کا مرفوع ہونا ٹھیک نہیں فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان ؑ جب نماز پڑھتے تو ایک درخت اپنے سامنے دیکھتے اس سے پوچھتے کہ تو کیسا درخت ہے تیرا نام کیا ہے۔ وہ بتادیتا آپ اسے اسی استعمال میں لاتے۔ ایک مرتبہ جب نماز کو کھڑے ہوئے اور اسی طرح ایک درخت دیکھا تو پوچھا تیرا نام کیا ہے ؟ اس نے کہا ضروب۔ پوچھا تو کس لئے ہے ؟ کہا اس گھر کو اجاڑنے کیلئے تب آپ نے دعا مانگی کہ اللہ میری موت کی خبر جنات پر ظاہر نہ ہونے دے تاکہ انسان کو یقین ہوجائے کہ جن غیب نہیں جانتے۔ اب آپ ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور جنات کو مشکل مشکل کام سونپ دیئے آپ کا انتقال ہوگیا لیکن لکڑی کے سہارے آپ ویسے ہی کھڑے رہے جنات دیکھتے رہے اور سمجھتے رہے کہ آپ زندہ ہیں اپنے اپنے کام میں مشغول رہے ایک سال کامل ہوگیا۔ چونکہ دیمک آپ کی لکڑی کو چاٹ رہی تھی سال بھر گزرنے پر وہ اسے کھاگئی اور اب حضرت سلیمان گرپڑے اور انسانوں نے جان لیا کہ جنات غیب نہیں جانتے ورنہ سال بھر تک اس مصیبت میں نہ رہتے۔ لیکن اس کے ایک راوی عطا بن مسلم خراسانی کی بعض احادیث میں نکارت ہوتی ہے۔ بعض صحابہ سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ کی عادت تھی آپ سال سال دو دو سال یا کم و بیش مدت کیلئے مسجد قدس میں اعتکاف میں بیٹھ جاتے آخری مرتبہ انتقال کے وقت بھی آپ مسجد بیت المقدس میں تھے ہر صبح ایک درخت آپ کے سامنے نمودار ہوتا۔ آپ اس سے نام پوچھتے فائدہ پوچھتے وہ بتاتا آپ اسی کام میں اسے لاتے بالآخر ایک درخت ظاہر ہوا جس نے اپنا نام ضروبہ بتایا کہا تو کس مطلب کا ہے کہا اس مسجد کے اجاڑنے کیلئے۔ حضرت سلیمان ؑ سمجھ گئے فرمانے لگے میری زندگی میں تو یہ مسجد ویران ہوگی نہیں البتہ تو میری موت اور اس شہر کی ویرانی کیلئے ہے۔ چناچہ آپ نے اسے اپنے باغ میں لگا دیا مسجد کی بیچ کی جگہ میں کھڑے ہو کر ایک لکڑی کے سہارے نماز شروع کردی۔ وہیں انتقال ہوگیا لیکن کسی کو اس کا علم نہ ہوا۔ شیاطین سب کے سب اپنی نوکری بجا لاتے رہے کہ ایسا نہ ہو ہم ڈھیل کریں اور اللہ کے رسول آجائیں تو ہمیں سزا دیں۔ یہ محراب کے آگے پیچھے آئے ان میں جو ایک بہت بڑا پاجی شیطان تھا اس نے کہا دیکھو جی اس میں آگے اور پیچھے سوراخ ہیں اگر میں یہاں سے جاکر وہاں سے نکل آؤں تو میری طاقت کو مانو گے یا نہیں ؟ چناچہ وہ گیا اور نکل آیا لیکن اسے حضرت سلیمان کی آواز نہ آئی۔ دیکھ تو سکتے نہ تھے کیونکہ حضرت سلیمان کی طرف نگاہ بھر کر دیکھتے ہی وہ مرجاتے تھے لیکن اس کے دل میں کچھ خیال سا گزرا اس نے پھر اور جرأت کی اور مسجد میں چلا گیا دیکھتا کہ وہاں جانے کے بعد وہ نہ جلا تو اس کی ہمت اور بڑھ گئی اور اس نے نگاہ بھر کر آپ کو دیکھا تو دیکھا کہ وہ گرے پڑے ہیں اور انتقال فرما چکے ہیں اب آکر سب کو خبر کی لوگ آئے محراب کو کھولا تو واقعی اللہ کے رسول کو زندہ نہ پایا۔ آپ کو مسجد سے نکال لائے۔ مدت انتقال کا علم حاصل کرنے کیلئے انہوں نے لکڑی کو دیمک کے سامنے ڈال دیا ایک دن رات تک جس قدر دیمک نے اسے کھایا اسے دیکھ کر اندازہ کیا تو معلوم ہوا کہ آپ کے انتقال کو پورا سال گزر چکا۔ تمام لوگوں کو اس وقت کامل یقین ہوگیا کہ جنات جو بنتے تھے کہ ہم غیب کی خبریں جانتے ہیں یہ محض ان کی دھونس تھی ورنہ سال بھر تک کیوں مصیبت جھیلتے رہتے۔ اس وقت سے جنات گھن کے کیڑے کو مٹی اور پانی لا دیا کرتے ہیں گویا اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کہا یہ بھی تھا کہ اگر تو کچھ کھاتا پیتا ہوتا تو بہتر سے بہتر غذا ہم تجھے پہنچاتے لیکن یہ سب بنی اسرائیل کے علماء کی روایتیں ہیں ان میں جو مطابق حق ہوں قبول۔ خلاف حق ہوں مردود دونوں سے الگ ہوں وہ نہ تصدیق کے قابل نہ تکذیب کے واللہ اعلم الغیب۔ حضرت زید بن اسلم سے مروی ہے کہ حضرت سلیمان ؑ نے ملک الموت سے کہہ رکھا تھا کہ میری موت کا وقت مجھے کچھ پہلے بتادینا حضرت ملک الموت نے یہی کیا تو آپ نے جنات کو بغیر دروازے کے ایک شیشے کا مکان بنانے کا حکم دیا اور اس میں ایک لکڑی پر ٹیک لگا کر نماز شروع کی یہ موت کے ڈر کی وجہ سے نہ تھا۔ حضرت ملک الموت اپنے وقت پر آئے اور روح قبض کرکے گئے۔ پھر لکڑی کے سہارے آپ سال بھر تک اسی طرح کھڑے رہے جنات ادھر ادھر سے دیکھ کر آپ کو زندہ سمجھ کر اپنے کاموں میں آپ کی ہیبت کی وجہ سے مشغول رہے لیکن جو کیڑا آپ کی لکڑی کو کھا رہا تھا جب وہ آدھی کھاچکا تو اب لکڑی بوجھ نہ اٹھا سکی اور آپ گرپڑے جنات کو آپ کی موت کا یقین ہوگیا اور وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ اور بھی بہت سے اقوال سلف سے یہ مروی ہے۔