ولقد صدق علیھم۔۔۔۔۔۔۔ کل شئ حفیظ (20 – 21) یہ قوم ، اس راستے پر چل کر اس کا یہ انجام کیوں ہوا ؟ اس لیے کہ ابلیس نے اپنی منصوبہ بندی کو درست پایا اور وہ ان کو گمراہ کرنے میں کامیاب رہا۔ ہاں اہل ایمان کو وہ گمراہ نہ کرسکا ، مومنین کے گروہ کو وہ گمراہ نہ کرسکا “۔ کیونکہ ہر گمراہ سوسائٹی میں لوگوں کی ایک قلیل تعداد ایسی رہ جاتی ہے جو گمراہ ہونے سے انکار کردیتی ہے اور یہ قلیل گروہ مومنین اس بات کا گواہ ہوتا ہے کہ سچائی اپنی جگی قائم ہوتی ہے۔ صرف اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی سچائی کا طالب ہو۔ اگر کوئی طالب ہو تو سچائی مل جاتی ہے۔ بدترین حالات میں بھی سچائی قائم رہتی ہے۔ جہاں تک ابلیس کا تعلق ہے لوگوں کے اوپر اس کو کوئی جابرانہ اقتدار حاصل نہیں ہے کہ وہ ان کو مجبور کرکے گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ شیطان ہر حال میں لوگوں پر مسلط ہوتا ہے۔ اب لوگوں میں سے بعض حق پر ثابت قدم ہوجاتے ہیں اور بعض لوگ حق کے طالب ہی نہیں ہوتے۔ وہ گمراہ ہوجاتے ہیں۔ پھر عالم واقعہ میں یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ مومن کون ہے اور مومن کو اس کا ایمان برے راستے سے بچاتا ہے۔
ممن ھو منھا فی شک (34: 21) ” اس سے جو آخرت سے شک میں ہوتا ہے “۔ جو شخص آخرت پر یقین رکھتا ہے وہ بچ جاتا ہے اور جو آخرت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کی گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اللہ کو تو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ کون سیدھی راہ لے گا اور کون غلط لے گا لیکن اللہ اللہ تعالیٰ فیصلوں کو تب صادر کرتا ہے جب وہ عملاً صادر ہوجاتے ہیں۔
اس وسیع میدان میں یعنی اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے وسیع میدان میں شیطان کو یہ آزادی دی گئی ہے کہ وہ کسی کو مجبور کیے بغیر لوگوں مسلط ہوجائے اور ان نتائج کو ظاہر کر دے جو پہلے سے اللہ کے علم میں تھے۔ اس میدان میں قصہ سبا دراصل تمام اقوام عالم کا قصہ ہے۔ اقوام کے عروج وزوال کی داستان وہی ہے جو سبا کی ہے۔ اس لیے اس آیت کے دائرہ اطلاق کو وسیع کردیا جاتا ہے۔ یہ اصول قوم سبا تک محدود نہیں رہتا۔ تمام انسانوں کے اچھے اور برے حالات اسی اصول کے تحت آتے جاتے ہیں۔ لوگوں کا ہدایت پانا اور گمراہ ہونا اسباب ہدایت اور اسباب ضلالت اختیار کرنے کے نتیجے میں ہوتا ہے۔
وربک علیٰ کل شئ حفیظ (34: 21) ” اور تیرا رب ہر چیز پر نگران ہے “۔ اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہوتی ، کوئی چیز نظام تخلیق میں مہمل نہیں ہوتی اور نہ بےکار ہوتی ہے “۔
آیت 20 { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ } ”اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا“ { فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”سو ان سب نے اس ابلیس کی پیروی کی ‘ سوائے مومنین کی ایک جماعت کے۔“
ابلیس اور اس کا عزم۔ سبا کے قصے کے بیان کے بعد شیطان کے اور مریدوں کا عام طور پر ذکر فرماتا ہے کہ وہ ہدایت کے بدلے ضلالت بھلائی کے بدلے برائی لے لیتے ہیں۔ ابلیس نے راندہ درگاہ ہو کر جو کہا تھا کہ میں ان کی اولاد کو ہر طرح برباد کرنے کی کوشش کروں گا اور تھوڑی سی جماعت کے سوا باقی سب لوگوں کو تیری سیدھی راہ سے بھٹکا دوں گا۔ اس نے یہ کر دکھایا اور اولاد آدم کو اپنے پنجے میں پھانس لیا۔ جب حضرت آدم و حوا اپنی خطا کی وجہ سے جنت سے اتار دیئے گئے اور ابلیس لعین بھی ان کے ساتھ اترا اس وقت وہ بہت خوش تھا اور جی میں اترا رہا تھا کہ جب انہیں میں نے بہکا لیا تو ان کی اولاد کو تباہ کردینا تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اس خبیث کا قول تھا کہ میں ابن آدم کو سبز باغ دکھاتا رہوں گا غفلت میں رکھوں گا۔ طرح طرح سے دھوکے دوں گا اور اپنے جال میں پھنسائے رکھوں گا۔ جس کے جواب میں جناب باری جل جلالہ نے فرمایا تھا مجھے بھی اپنی عزت کی قسم موت کے غرغرے سے پہلے جب کبھی وہ توبہ کرے گا میں فوراً قبول کرلوں گا۔ وہ مجھے جب پکارے گا میں اس کی طرف متوجہ ہوجاؤں گا۔ مجھ سے جب کبھی جو کچھ مانگے گا میں اسے دوں گا۔ مجھ سے جب وہ بخشش طلب کرے گا میں اسے بخش دوں گا۔ (ابن ابی حاتم) ، اس کا کوئی غلبہ، حجت، زبردستی، مارپیٹ انسان پر نہ تھی۔ صرف دھوکہ، فریب اور مکر بازی تھی جس میں یہ سب پھنس گئے۔ اس میں حکمت الٰہی یہ تھی کہ مومن و کافر ظاہر ہوجائیں۔ حجت اللہ ختم ہوجائے آخرت کو ماننے والے شیطان کی نہیں مانیں گے۔ اس کے منکر رحمان کی اتباع نہیں کریں گے۔ اللہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ مومنوں کی جماعت اس کی حفاظت کا سہارا لیتی ہے اس لئے ابلیس ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور کافروں کی جماعت خود اللہ کو چھوڑ دیتی ہے اس لئے ان پر سے اللہ کی نگہبانی ہٹ جاتی ہے اور وہ شیطان کے ہر فریب کا شکار بن جاتے ہیں۔