اس صفحہ میں سورہ Saba کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ سبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِى مَسْكَنِهِمْ ءَايَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا۟ مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَٱشْكُرُوا۟ لَهُۥ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
فَأَعْرَضُوا۟ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ ٱلْعَرِمِ وَبَدَّلْنَٰهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَىْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَىْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ
ذَٰلِكَ جَزَيْنَٰهُم بِمَا كَفَرُوا۟ ۖ وَهَلْ نُجَٰزِىٓ إِلَّا ٱلْكَفُورَ
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ٱلْقُرَى ٱلَّتِى بَٰرَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَٰهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا ٱلسَّيْرَ ۖ سِيرُوا۟ فِيهَا لَيَالِىَ وَأَيَّامًا ءَامِنِينَ
فَقَالُوا۟ رَبَّنَا بَٰعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَٰهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُۥ فَٱتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِّنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
وَمَا كَانَ لَهُۥ عَلَيْهِم مِّن سُلْطَٰنٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يُؤْمِنُ بِٱلْءَاخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِى شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ حَفِيظٌ
قُلِ ٱدْعُوا۟ ٱلَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِ ٱللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِن شِرْكٍ وَمَا لَهُۥ مِنْهُم مِّن ظَهِيرٍ
آیت 15 { لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ} ”اسی طرح قوم سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی“۔ قوم سبا 800 قبل مسیح علیہ السلام کے لگ بھگ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ انہوں نے اپنے پہاڑی علاقوں میں بہت سے بند تعمیر کر رکھے تھے جن میں سب سے بڑے بند کا نام ”سد ِمآرب“ تھا۔ ان بندوں سے انہوں نے چھوٹی بڑی نہریں نکال کر میدانی علاقوں کو سیراب کرنے کا ایک مربوط و موثر نظام بنا رکھا تھا۔ آب پاشی کے اس نظام کے باعث ان کے ہاں باغات کی کثرت تھی۔ باغات کے دو بڑے سلسلے تو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ بہر حال یہ اپنے وقت کی بڑی خوشحال اور طاقتور قوم تھی ‘ مگر آہستہ آہستہ یہ لوگ مذہبی و اخلاقی زوال کا شکار ہوتے گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نا شکری اور سرکشی کی سزا دی اور ان سے تمام نعمتیں سلب کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا سب سے بڑا بند سد مآرب ٹوٹ گیا اور یوں ایک خوفناک سیلاب قہر خداوندی بن کر ان پر ٹوٹ پڑا۔ اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم پر ایسی تباہی آئی کہ جس علاقے میں سینکڑوں میلوں پر پھیلے ہوئے باغات تھے وہاں جنگلی جھاڑیوں اور بیریوں کے چند درختوں کے علاوہ ہریالی کا نام و نشان تک نہ رہا۔ { جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ } ”دو باغات کے سلسلے تھے دائیں اور بائیں طرف۔“ { کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ } ”کھائو اپنے رب کے رزق میں سے اور اس کا شکر اداکرو۔“ { بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ} ”تمہارا شہر بہت پاکیزہ ہے اور تمہارا رب بہت بخشنے والا ہے !“ یعنی تمہارے لیے یہ ایک مثالی صورت حال ہے۔ رہنے کو تمہیں نہایت عمدہ ‘ سرسبز و شاداب اور زرخیز علاقہ عطا ہوا ہے اور تمہارا رب بھی بہت بخشنے والا ہے جو تمہارے ساتھ بہت نرمی کا معاملہ فرما رہا ہے۔
آیت 16 { فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ } ”تو انہوں نے اعراض کیا ‘ چناچہ ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب بہت زور کا“ اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اعراض و سرکشی کی روش اختیار کی تو ان پر اللہ کا عذاب اس انداز سے آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند کو توڑ دیا جس سے ان کی بستیاں تباہ ہوگئیں اور ان کے باغات کے سلسلے بھی برباد ہوگئے۔ { وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّتَیْہِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْئٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ } ”اور ہم نے بدل دیے ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ ‘ جن میں کڑوے کسیلے پھل ‘ جھائو کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں۔“
آیت 17 { ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْا } ”یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے۔“ { وَہَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ } ”اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو۔“ چند سال پہلے میرا ذہن پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ان آیات کی طرف منتقل ہوا کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں اور بائیں کے دو خوبصورت باغات سے نوازا تھا۔ ایک باغ کا نام مغربی پاکستان تھا اور دوسرے کا مشرقی پاکستان۔ ہمارے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں باغات میں آزادی اور امن وامان کا ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ دونوں جگہوں پر کسی نہ کسی حد تک بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌکی عملی تصویر نظر آتی تھی۔ پھر ہم بھی اپنے رب کی نا شکری کے مرتکب ہوئے ‘ ہم نے بھی اس کی اطاعت سے اعراض کیا۔ چناچہ ہمارے اس طرز عمل کے باعث ہم سے بھی بہت سی نعمتیں سلب کرلی گئیں اور پھر ہمیں معاشی بدحالی اور خطرات و خدشات کی اس حالت کو پہنچا دیا گیا جس کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں۔ سورة الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ ”اے لوگو ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے ‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“ اس فرمانِ الٰہی کے مطابق قرآن کے اندر ہر قوم اور ہر انسان کو اپنے حالات کا عکس کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئے گا ‘ بشرطیکہ اسے پڑھنے والے اس کے ”بین السطور“ مطالب و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چناچہ ہمیں ہلکے سے ہلکے درجے میں ہی سہی اس آیت کا تطابق اپنے قومی و ملکی حالات پر کر کے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔
آیت 18{ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً } ”ہم نے ان کے علاقے اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں“ یہاں پر ”بابرکت بستیوں“ سے ارض فلسطین مرا د ہے۔ اس ضمن میں سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔ ان کا علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور وہاں مختلف اقسام کی خوشبوئیں کثرت سے پیدا ہوتی تھیں۔ پرانے زمانے کے سیاحوں کے حوالے سے قوم سبا کے بارے میں ایسی بہت سی معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں۔ چناچہ اپنے دور کی ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت پر ان کی اجارہ داری تھی بعد میں ایک مدت تک اس تجارت پر قریش ِمکہ ّکی اجارہ داری رہی جس کا ذکر سورة القریش میں آیا ہے۔ ہندوستان ‘ چین اور دیگر مشرقی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان یمن کی بندرگاہ پر اترتا تھا ‘ جبکہ یورپ سے آنے والا سامان بحیرہ روم Mediterranean Sea کے راستے فلسطین کی بندرگاہ پر پہنچتا تھا۔ چناچہ یمن اور فلسطین کے درمیان قوم سبا کے تجارتی قافلے اس سامان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مذکورہ شاہراہ پر سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے بہت ُ پر سکون ‘ پر امن اور ہر لحاظ سے مثالی تھی۔ اس کی کیفیت یوں تھی کہ تقریباً سو میل کے فاصلے تک اس شاہراہ کے دونوں طرف ان کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد عین شاہراہ کے اوپر جگہ جگہ بستیاں اس طرح آباد تھیں کہ ایک بستی کی حدود ختم ہوتے ہی دوسری بستی کے آثار شروع ہوجاتے تھے۔ اس طرح تجارتی قافلے نہ صرف رہزنی وغیرہ کے خطرات سے محفوظ رہتے تھے بلکہ انہیں سفر و قیام کے دوران اشیائِ ضرورت اور مطلوبہ سہولیات بھی ہر جگہ ہر وقت دستیاب رہتی تھیں۔ { وَّقَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَ } ”اور ہم نے اندازہ مقرر کردیا تھا ان میں سفر کرنے کا۔“ یعنی ان کے درمیان سفر کی منزلیں مقرر کردی تھیں۔ یہ آبادیاں شاہراہ کے عین کناروں پر اس طرح واقع تھیں کہ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک کا درمیانی فاصلہ تیس چالیس میل کے لگ بھگ تھا اور یہ فاصلہ سفر کی منزلوں کے حساب سے رکھا گیا تھا تاکہ ہر منزل پر قافلوں کو قیام و طعام کی مطلوبہ سہولیات آسانی سے میسر آسکیں۔ { سِیْرُوْا فِیْہَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ } ”ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔“ یعنی ان میں رات دن بےخوف و خطر سفر کرو۔
آیت 19 { فَقَالُوْا رَبَّـنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا } ”تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے“ ان کی یہ خواہش یا دعا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناقدری کی عبرت انگیز مثال ہے۔ گویا وہ سفر کے مذکورہ مثالی انتظامات سے اکتا چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ُ پر امن اور پر سکون سفر کرتے کرتے تن آسانی اور سہل انگاری کا شکار ہوجائیں گے۔ انہیں زعم تھا کہ وہ بہادر اور مہم جو قسم کے لوگ ہیں اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ ان کے سفر لمبے ہوجائیں تاکہ سفر کے دوران انہیں مشکلات و خطرات کا سامنا ہو ‘ جن کا وہ مردانہ وار مقابلہ کریں اور یوں انہیں مہم جوئی اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے۔ { وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ”اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔“ اس زمانے میں یمن تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نا شکریوں اور نا فرمانیوں کے سبب اس قوم کا ایسا نام و نشان مٹا کہ اب دنیا میں ان کی صرف داستانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ قوم سبا پر سیلاب کے عذاب کا واقعہ بہت زیادہ پرانا نہیں۔ حضور ﷺ کی ولادت سے تقریباً سوا سو سال قبل یعنی 450 عیسوی کے لگ بھگ یہ واقعہ پیش آیا۔ بند ٹوٹنے کی وجہ سے یہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تو زندہ بچ رہنے والے لوگ عراق اور عرب کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ خود اوس اور خزرج کے قبائل کا تعلق بھی یمن سے تھا اور یہ لوگ اس علاقے کی تباہی کے بعد یمن سے یثرب میں آکر آباد ہوئے تھے۔ قوم سبا کی تباہی کے بعد مذکورہ تجارتی شاہراہ پر قریش مکہ کی اجارہ داری قائم ہوگئی اور جس زمانے میں حضور ﷺ پر وحی کا آغاز ہوا اس زمانے میں قریش کے تجارتی قافلے جنوب میں یمن اور شمال میں شام و فلسطین کے درمیان آزادانہ سفر کرتے تھے۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صبر کرنے والا ‘ شکر کرنے والا ہو۔“
آیت 20 { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ } ”اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا“ { فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”سو ان سب نے اس ابلیس کی پیروی کی ‘ سوائے مومنین کی ایک جماعت کے۔“
آیت 21 { وَمَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ } ”اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا“ ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اور انہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ } ”مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے“ تاکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہوجائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کرلیں : { مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ} ”ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔“
آیت 22 { قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! ان مشرکین سے کہیے کہ تم بلائو ان کو جنہیں تم نے معبود گمان کیا ہے اللہ کے سوا۔“ جن دیویوں اور دیوتائوں کو تم اپنے اولیاء اور مدد گار سمجھتے ہو انہیں پکار کر دیکھ لو کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ! { لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں“ { وَمَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ } ”اور نہ ان دونوں زمین اور آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے ‘ اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“ مشرکین ِعرب کے ہاں دو طرح کے مشرکانہ اعتقادات پائے جاتے تھے۔ ان کا ایک عقیدہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ محبوب ہستیاں ایسی ہیں جن کی بات کو وہ ٹال نہیں سکتا ‘ چاہے وہ اس کی بیٹیاں وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ہوں یا انسانوں میں سے اس کی محبوب شخصیات۔ چناچہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی ان محبوب ہستیوں کی سفارش سے آخرت میں وہ بچ جائیں گے۔ ان کا دوسرا مشرکانہ عقیدہ یہ تھا کہ اگرچہ اللہ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے لیکن اس نے اس کائنات کا نظام چلانے کے لیے اپنے کچھ نائبین مقرر کر کے ان میں کچھ اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا کی سلطنتوں اور حکومتوں کا نظام چلانے کے لیے تمام بادشاہ اور حکمران اپنے نائبین مقرر کر کے انہیں کچھ اختیارات تفویض کردیتے ہیں اسی طرح اللہ کے مقرر کردہ نائبین اس کائنات کا نظام چلاتے ہیں ‘ اور وہ نہ صرف اللہ کے مدد گار ہیں بلکہ اس کے اختیارات میں بھی شریک ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس دوسری قسم کے مشرکانہ عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ ہندوستانی دیو مالا mythology میں دیویوں اور دیوتائوں کا جو تصور پایا جاتا ہے اس میں اور ہمارے ایمان بالملائکہ میں بظاہر بہت باریک اور نازک سا فرق ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ کائنات کے اندر فرشتے اللہ کی طرف سے تفویض شدہ مختلف فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے فرشتے گویا اللہ کی کائناتی حکومت کی ”سول سروس“ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ‘ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے۔ لہٰذا ان میں سے کسی کو مدد کے لیے پکارنا ‘ کسی سے کسی قسم کی کوئی دعا کرنا یا استغاثہ کرنا جائز نہیں۔ کسی کے نفع یا نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ‘ اس لیے دعا کے لیے پکارنا بھی اسی کو ہے۔ استمداد بھی اسی سے ہے اور استغاثہ بھی اسی سے۔ وہ قادرمطلق ہے ‘ وہ چاہے تو کسی کی براہ راست مدد کر دے یا کسی کی تکلیف رفع کرنے کے لیے کسی فرشتے کو بھیج دے۔ اس کے برعکس دیو مالائی تصور یہ ہے کہ جو ہستیاں اللہ کے نائبین کے طور پر کائنات کے اندر مختلف فرائض سنبھالے ہوئے ہیں وہ اللہ کے اختیارات میں بھی حصہ دار ہیں۔ چناچہ ان کے حضور اپنی حاجات بھی پیش کی جاسکتی ہیں ‘ ان سے دعا بھی کی جاسکتی ہے اور ان سے استغاثہ بھی کیا جاسکتا ہے ‘ جس کے جواب میں وہ اپنے پکارنے والوں کی حاجت روائی بھی کرتے ہیں اور مشکل کشائی بھی۔ چناچہ نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ باریک سا فرق دراصل زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیومالائی مشرکانہ تصورات دراصل ”ایمان بالملائکہ“ ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔