سورہ سبا: آیت 24 - ۞ قل من يرزقكم من... - اردو

آیت 24 کی تفسیر, سورہ سبا

۞ قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، "کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟" کہو "اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul man yarzuqukum mina alssamawati waalardi quli Allahu wainna aw iyyakum laAAala hudan aw fee dalalin mubeenin

آیت 24 کی تفسیر

قل من یرزقکم۔۔۔۔۔ اوفی ضلٰل مبین (24) ” “۔

رزق ہر انسان کی زندگی کا واقعی اور زندہ مسئلہ ہے ۔ رزق نتیجہ ہے آسمانوں سے بارشوں ، سورج کی روشنی اور نور کا۔ یہ باتیں تو اس وقت قرآن کے مخاطب جانتے تھے۔ اس کے بعد رزق کے بارے میں بہت ہی انکشافات ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں۔ زمین کے رزق کیا ہیں۔ نباتات ، حیوانات ، چشمے ، نہریں ، معدنیات اور خزانے۔ سابقہ ادوار کے لوگ بھی ان سے واقف تھے ، بعد کے لوگوں نے مزید انکشافات کیے۔

قل من یرزکم ۔۔۔۔۔ قل اللہ (34: 24) ” کون ہے جو آسمانوں اور زمین میں سے تمہیں رزق دیتا ہے ، کہواللہ “۔ اس لیے کہ وہ اس جواب میں شک نہ کرسکتے تھے اور نہ اس کے سوا کسی اور جواب کا دعویٰ کرسکتے تھے۔ کہو کہ رزق تو اللہ ہی دیتا ہے اور تمہارے امور اور ان کے امور اللہ کے سپرد ہیں۔ تم دونوں میں سے کوئی ایک خواہ مخواہ ضلالت پر ہے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ دونوں ہدایت پر ہوں ، یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ لہٰذا ایک فریق ایک راستے پر ہے اور دوسرا دوسرے پر ہے۔

وانا او ایاکم ۔۔۔۔۔ ضلل مبین (34: 24) ” اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے “۔ بحث و مباحثہ میں یہ نہایت ہی معتدلانہ انداز گفتگو ہے کہ رسول اللہ ﷺ مشرکین سے کہتے ہیں کہ ہم اور تم میں سے ایک فریق ہدایت پر ہے اور دوسرا ضلالت پر ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ فریق کا تعین نہیں کیا جاتا تاکہ سامع خود غور و فکر کے بعد متعین کرے۔ نہایت سنجیدگی کے ساتھ ، بغیر ہٹ دھرمی اور بغیر بحث وجدال اور حجت بازی کے۔ کیونکہ حضور اکرم ﷺ تو ایک ہادی اور معلم تھے۔ آپ کا مقصد لوگوں کو راہ راست دکھانا تھا۔ ان کو لاجواب کرکے ذلیل کرنا مطلوب نہ تھا۔

اس انداز گفتگو سے نہایت معاند ، متکبر ، سرکش اور دست درازی کرنے والے شخص کے دل پر بھی بات کا اثر ہوتا ہے اور کسی شخص کا مقام و مرتبہ راہ ہدایت لینے میں رکاوٹ نہیں۔ اور ایک بلند مقام رکھنے والا بھی سرتسلیم خم کردیتا ہے اور نہایت ہی ٹھنڈے دل سے غور کرتا ہے۔ اسے اطمینان ہوجاتا ہے ۔ یہ انداز گفتگو خصوصاً ان لوگوں کے گہرے غور کا مستحق ہے جو دعوت اسلامی کا کام کرتے ہیں۔

اب عقل و خرد کے تاروں پر تیسری ضرب ، نہایت منصفانہ اور عادلانہ انداز گفتگو کے ساتھ لگائی جاتی ہے۔ ہر دل کو اس کے اعمال اور ان کے نتائج کے سامنے کھڑا کردیا جاتا ہے۔

آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

اللہ عزوجل کی صفات۔ اللہ تعالیٰ اس بات کو ثابت کر رہا ہے کہ صرف وہی خالق و رازق ہے اور صرف وہی الوہیت والا ہے۔ جیسے ان لوگوں کو اس کا اقرار ہے کہ آسمان سے بارشیں برسانے والا اور زمینوں سے اناج اگانے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے ایسے ہی انہیں یہ بھی مان لینا چاہئے کہ عبادت کے لائق بھی فقط وہی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ جب ہم تم میں اتنا بڑا اختلاف ہے تو لامحالہ ایک ہدایت پر اور دوسرا ضلالت پر ہے نہیں ہوسکتا کہ دونوں فریق ہدایت پر ہوں یا دونوں ضلالت پر ہوں۔ ہم موحد ہیں اور توحید کے دلائل کھلم کھلا ہیں اور واضح ہم بیان کرچکے ہیں اور تم شرک پر ہو جس کی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں۔ پس یقینا ہم ہدایت پر اور یقینا تم ضلالت پر ہو۔ اصحاب رسول ﷺ نے مشرکوں سے ہی کہا تھا کہ ہم فریقین میں سے ایک ضرور سچا ہے۔ کیونکہ اس قدر تضاد و تباین کے بعد دونوں کا سچا ہونا تو عقلاً محال ہے۔ اس آیت کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ ہم ہی ہدات پر اور تم ضلالت پر ہو، ہمارا تمہارا بالکل کوئی تعلق نہیں۔ ہم تم سے اور تمہارے اعمال سے بری الذمہ ہیں۔ ہاں جس راہ ہم چل رہے ہیں اسی راہ پر تم بھی آجاؤ تو بیشک تم ہمارے ہو اور ہم تمہارے ہیں ورنہ ہم تم میں کوئی تعلق نہیں اور ایک آیت میں بھی ہے کہ اگر یہ تجھے جھٹلائیں تو کہہ دے کہ میرا عمل میرے ساتھ ہے اور تمہارا عمل تمہارے ساتھ ہے، تم میرے اعمال سے چڑتے ہو اور میں تمہارے کرتوت سے بیزار ہوں۔ سورة (قل یا ایھا الکفرون) الخ، میں بھی اسی بےتعلقی اور برات کا ذکر ہے، رب العالمین تمام عالم کو میدان قیامت میں اکٹھا کر کے سچے فیصلے کر دے گا۔ نیکوں کو ان کی جزا اور بدوں کو ان کی سزا دے گا۔ اس دن تمہیں ہماری حقانیت و صداقت معلوم ہوجائے گی۔ جیسے ارشاد ہے (وَيَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَةُ يَوْمَىِٕذٍ يَّتَفَرَّقُوْنَ 14؀) 30۔ الروم :14) قیامت کے دن سب جدا جدا ہوجائیں گے۔ ایماندار جنت کے پاک باغوں میں خوش وقت و فرحان ہوں گے اور ہماری آیتوں اور آخرت کے دن کو جھٹلانے والے، کفر کرنے والے، دوزخ کے گڑھوں میں حیران و پریشان ہوں گے۔ وہ حاکم و عادل ہے، حقیقت حال کا پورا عالم ہے، تم اپنے ان معبودوں کو ذرا مجھے بھی تو دکھاؤ۔ لیکن کہاں سے ثبوت دے سکو گے۔ جبکہ میرا رب لانظیر، بےشریک اور عدیم المثیل ہے، وہ اکیلا ہے، وہ ذی عزت ہے جس نے سب کو اپنے قبضے میں کر رکھا ہے اور ہر ایک پر غالب آگیا ہے۔ حکیم ہے اپنے اقوال و افعال میں۔ اس طرح شریعت اور تقدیر میں بھی برکتوں والا بلندیوں والا پاک منزہ اور مشرکوں کی تمام تہمتوں سے الگ ہے۔

آیت 24 - سورہ سبا: (۞ قل من يرزقكم من السماوات والأرض ۖ قل الله ۖ وإنا أو إياكم لعلى هدى أو في ضلال مبين...) - اردو