سورہ سبا (34): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Saba کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ سبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ سبا کے بارے میں معلومات

Surah Saba
سُورَةُ سَبَإٍ
صفحہ 431 (آیات 23 سے 31 تک)

وَلَا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ عِندَهُۥٓ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُۥ ۚ حَتَّىٰٓ إِذَا فُزِّعَ عَن قُلُوبِهِمْ قَالُوا۟ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا۟ ٱلْحَقَّ ۖ وَهُوَ ٱلْعَلِىُّ ٱلْكَبِيرُ ۞ قُلْ مَن يَرْزُقُكُم مِّنَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ قُلِ ٱللَّهُ ۖ وَإِنَّآ أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ قُل لَّا تُسْـَٔلُونَ عَمَّآ أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْـَٔلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِٱلْحَقِّ وَهُوَ ٱلْفَتَّاحُ ٱلْعَلِيمُ قُلْ أَرُونِىَ ٱلَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِۦ شُرَكَآءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ وَمَآ أَرْسَلْنَٰكَ إِلَّا كَآفَّةً لِّلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَـْٔخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ بِهَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَلَا بِٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ ٱلْقَوْلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لَوْلَآ أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ
431

سورہ سبا کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ سبا کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہو سکتی بجز اُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو گی تو وہ (سفارش کرنے والوں سے) پوچھیں گے کہ تمہارے رب نے کیا جواب دیا وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tanfaAAu alshshafaAAatu AAindahu illa liman athina lahu hatta itha fuzziAAa AAan quloobihim qaloo matha qala rabbukum qaloo alhaqqa wahuwa alAAaliyyu alkabeeru

آیت 23 { وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ } ”اور نہ نفع دے گی اس کے ہاں کوئی سفارش مگر اسی کے حق میں جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔“ { حَتّٰٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ } ”یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے ان کے دلوں سے“ یہ فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو کوئی حکم بھیجتا ہے تو اس کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان پر دہشت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان سے اس دہشت کا اثر زائل کردیا جاتا ہے تو : { قَالُوْا مَاذَالا قَالَ رَبُّکُمْ } ”وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایا تھا ؟“ { قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ } ”وہ کہتے ہیں کہ اُس نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے ‘ اور وہ بہت بلند وبالا ‘ بہت بڑا ہے۔“

اردو ترجمہ

(اے نبیؐ) اِن سے پوچھو، "کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے؟" کہو "اللہ اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul man yarzuqukum mina alssamawati waalardi quli Allahu wainna aw iyyakum laAAala hudan aw fee dalalin mubeenin

آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔

اردو ترجمہ

ان سے کہو، "جو قصور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہو گی اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul la tusaloona AAamma ajramna wala nusalu AAamma taAAmaloona

آیت 25 { قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں“ تم سمجھتے ہو کہ ہم نے نیا دین گھڑ لیا ہے ‘ ہم نے تمہارے معبودوں کو جھٹلایا ہے اور ہم نے تمہارے خاندانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یوں ہم بہت سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے تم لوگ خاطر جمع رکھو ‘ ہمارے ان جرائم کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ اپنے ان ”جرائم“ کا حساب ہم خود ہی دیں گے۔ یہاں پر مخالف فریق کو گمراہ کہنے کے بجائے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی گمراہی کی بات کر کے اور ان کے الزام کے مطابق جرائم کو خود اپنی طرف منسوب کر کے ”حکمت ِتبلیغ“ کا بہت اہم سبق سمجھایا گیا ہے۔ { وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”اور نہ ہی ہم سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کے بارے میں۔“ تبلیغ کا حکیمانہ اسلوب ملاحظہ ہو ‘ جہاں اپنے لیے لفظ ”جرم“ استعمال ہوا ہے ‘ وہاں مخالف کے لیے صرف ”عمل“ کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ کسی کی مخالفانہ عصبیت کو انگیخت کا بہانہ نہ ملے اور کسی کے اندر اگر کچھ سوچنے اور غور کرنے کی آمادگی پائی جاتی ہو تو اس کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔

اردو ترجمہ

کہو، "ہمارا رب ہم کو جمع کرے گا، پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے گا وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul yajmaAAu baynana rabbuna thumma yaftahu baynana bialhaqqi wahuwa alfattahu alAAaleemu

آیت 26 { قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَہُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو ایک دن جمع کرے گا ‘ پھر وہ فیصلہ کر دے گا ہمارے مابین حق کے ساتھ ‘ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا ‘ خوب جاننے والا ہے۔“ اس دن جو فیصلہ بھی ہوگا بر بنائے علم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک شخص کی ایک ایک حرکت کا علم ہے۔

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، "ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے" ہرگز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul arooniya allatheena alhaqtum bihi shurakaa kalla bal huwa Allahu alAAazeezu alhakeemu

آیت 27 { قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآئَ کَلَّا بَلْ ہُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا مجھے دکھائو تو وہ معبود جنہیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ! کوئی نہیں ! بلکہ وہی اللہ ہے ‘ بہت زبردست ‘ نہایت حکمت والا۔“ وہ اپنی ذات میں خود ”العزیز“ غالب ‘ زبردست ہے ‘ اس کی قدرت کسی اور کے بل پر قائم نہیں ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ‘ وہ کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں۔

اردو ترجمہ

اور (اے نبیؐ،) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama arsalnaka illa kaffatan lilnnasi basheeran wanatheeran walakinna akthara alnnasi la yaAAlamoona

آیت 28 { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر“ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ اعزاز صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا کہ آپ ﷺ کو تمام بنی نوع انسانی کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہ فیصلہ تاریخ انسانی کے اس مرحلے پر کیا گیا جب انسانی تمدن اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث آپ ﷺ کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں ایک ایک شخص تک پہنچانا عملی طور پر ممکن ہونے کے قریب تھا۔ ورنہ اس سے پہلے عملی طور پر کسی نبی یا رسول کی دعوت کو پوری نوع انسانی تک پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے وہ مخصوص علاقوں میں ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہو کر آئے۔ اسی لیے آپ ﷺ سے پہلے کے پیغمبروں کی بعثت کا تعارف قرآن حکیم میں اس طرح کرایا گیا ہے : { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًاط } ھود : 50 { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 7} ھود : 61 ‘ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ھود : 84۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بارے میں یہاں یوں فرمایا گیا : { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا }۔ { وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“

اردو ترجمہ

یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ وہ (قیامت کا) وعدہ کب پورا ہو گا اگر تم سچے ہو؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayaqooloona mata hatha alwaAAdu in kuntum sadiqeena

آیت 29 { وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور وہ پوچھتے ہیں کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ ‘ اگر تم لوگ سچے ہو !“ مشرکین کے اس سوال میں عذاب یا قیامت دونوں کی طرف اشارہ موجود ہے کہ آپ ﷺ ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں دیتے ہیں یا قیامت برپا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ آپ ﷺ کے یہ وعدے کب پورے ہوں گے ؟

اردو ترجمہ

کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کر سکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لا سکتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul lakum meeAAadu yawmin la tastakhiroona AAanhu saAAatan wala tastaqdimoona

آیت 30 { قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے ‘ جس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔“

اردو ترجمہ

یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala allatheena kafaroo lan numina bihatha alqurani wala biallathee bayna yadayhi walaw tara ithi alththalimoona mawqoofoona AAinda rabbihim yarjiAAu baAAduhum ila baAAdin alqawla yaqoolu allatheena istudAAifoo lillatheena istakbaroo lawla antum lakunna mumineena

آیت 31 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ } ”اور کہا ان کافروں نے کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ہی اس قرآن پر جو اس سے پہلے تھا۔“ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لفظ قرآن کا اطلاق تورات پر بھی ہوا ہے۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے سورة القصص کی آیت 48 کی تشریح بھی مدنظر رہنی چاہیے ‘ جس میں کفار کا وہ قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا قرار دیا تھا۔ ان کے اس الزام کا مطلب یہ تھا کہ تورات اور قرآن دراصل دو جادو ہیں جنہوں نے باہم گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تورات میں قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں جبکہ محمد ﷺ کا قرآن تورات کی تصدیق کررہا ہے۔ اس طرح ان دونوں نے ایکا کرکے ہمارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ گویا انہوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے قرآن اور تورات کے ایک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ آیت زیر مطالعہ میں یہی بات ایک دوسرے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران یہ اصول کئی بار دہرا یا جا چکا ہے کہ قرآن نے تورات کے جن احکام کی نفی نہیں کی وہ احکام حضور ﷺ نے اپنی شریعت میں قائم رکھے ہیں۔ مثلاً قتل ِمرتد ُ اور رجم تورات کے احکام تھے جن کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا۔ اور اسی اصول کے تحت قرآن میں کوئی صریح حکم نہ ہونے کے باوجود بھی حضور ﷺ نے رجم کیا ہے اور خلفائے راشدین رض سے بھی رجم کرنا ثابت ہے۔ چناچہ سوائے خوارج کے اہل ِسنت اور اہل تشیع ّکے تمام مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے۔ البتہ قرآن پہلی الہامی کتابوں پر مُھَیْمِنْ نگران ہے ‘ یعنی اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں ان کی تصحیح اس قرآن کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہاں پر میں ایک حدیث کا حوالہ دیناچاہتا ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رض نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک کتاب تورات کا نسخہ لے کر آئے جو انہیں اہل کتاب میں سے کسی نے دی تھی اور اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنانا شروع کردیا۔ اس پر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا : أَمُتَھَوِّکُونَ فِیْھَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہٖ بَیْضَائَ نَقِیَّۃً لَا تَسْأَلُـوْھُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَـوْ اَنَّ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلاَّ اَنْ یَّـتَّبِعَنِی 1”اے خطاب کے بیٹے ! کیا تم لوگ اس تورات کے بارے میں متحیر ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس یہ قرآن روشن اور پاکیزہ اور ہر آمیزش سے پاک لے کر آیا ہوں۔ ان اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو ‘ مبادا وہ تمہیں حق بتائیں اور تم اس کو جھٹلا دو ‘ یا باطل خبر دیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ d زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔“ حضور ﷺ کے اس فرمان کا مدعا بہت واضح ہے کہ قرآن کے احکام آخری اور حتمی ہیں ‘ تورات کے کسی حکم سے قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی حکم کے سامنے تورات کے کسی حکم کا حوالہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ { وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔“ { یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ } ”وہ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹائیں گے۔“ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ { یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ } ”جو لوگ کمزور تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔“ تاویل ِخاص کے لحاظ سے یہاں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے عوام کو حضور ﷺ سے برگشتہ کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتے تھے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے عوام انہیں کوس رہے ہوں گے کہ اگر تم لوگ ہماری راہ میں حائل نہ ہوتے تو ہم ایمان لا چکے ہوتے اور آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

431