سورہ سبا: آیت 27 - قل أروني الذين ألحقتم به... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ سبا

قُلْ أَرُونِىَ ٱلَّذِينَ أَلْحَقْتُم بِهِۦ شُرَكَآءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ ٱللَّهُ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ

اردو ترجمہ

اِن سے کہو، "ذرا مجھے دکھاؤ تو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگا رکھا ہے" ہرگز نہیں، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul arooniya allatheena alhaqtum bihi shurakaa kalla bal huwa Allahu alAAazeezu alhakeemu

آیت 27 کی تفسیر

قل ارونی ۔۔۔۔۔ العزیز الحکیم (27) ” “۔

یہ نہایت ہی تہدید آمیز اور حقارت آمیز سوال ہے۔ ذرا دکھاؤ تو سہی وہ کون لوگ ہیں جن کو تم نے اللہ کے ساتھ الوہیت میں ملحق کردیا ہے۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ ان کی کیا حیثیت ہے۔ کس درجے کے لوگ ہیں یہ ! اور پھر اس مقام کے لیے ان کا استحقاق کیا ہے۔ اس کے بعد لفظ کا۔۔۔ ان کی سرزنش کی جاتی ہے۔ کہاں سے یہ لائیں گے جبکہ اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں ہے۔

بل ھو اللہ العزیز الحکیم (34: 27) ” زبردست اور دانا تو بس اللہ ہی ہے “۔ جس ذات کی صفات یہ ہوں اس کا کوئی شریک کیسے ہو سکتا ہے اور ضرورت بھی کیا ہے ، لہٰذا اللہ کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اس پر یہ سبق ختم ہوتا ہے۔ اس کے آخر میں نہایت ہی دو ٹوک اور سبق آمیز تبصرے ہیں۔ اس عظیم کائنات کو پیش نظر رکھتے ہوئے۔ ایسے حالات میں جبکہ قیامت میں شفاعت کا مرحلہ ہوگا۔ حق و باطل کی کشمکش کے حوالے سے اور نفس انسانی کے اندر غوروفکر اور سوچ و بچار کے حوالے سے۔

آیت 27 { قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآئَ کَلَّا بَلْ ہُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا مجھے دکھائو تو وہ معبود جنہیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ! کوئی نہیں ! بلکہ وہی اللہ ہے ‘ بہت زبردست ‘ نہایت حکمت والا۔“ وہ اپنی ذات میں خود ”العزیز“ غالب ‘ زبردست ہے ‘ اس کی قدرت کسی اور کے بل پر قائم نہیں ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ‘ وہ کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں۔

آیت 27 - سورہ سبا: (قل أروني الذين ألحقتم به شركاء ۖ كلا ۚ بل هو الله العزيز الحكيم...) - اردو