سورہ سبا: آیت 31 - وقال الذين كفروا لن نؤمن... - اردو

آیت 31 کی تفسیر, سورہ سبا

وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ بِهَٰذَا ٱلْقُرْءَانِ وَلَا بِٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذِ ٱلظَّٰلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ ٱلْقَوْلَ يَقُولُ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لَوْلَآ أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ

یہ کافر کہتے ہیں کہ "ہم ہرگز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے" کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رب کے حضور کھڑے ہوں گے اُس وقت یہ ایک دوسرے پر الزام دھریں گے جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ "اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqala allatheena kafaroo lan numina bihatha alqurani wala biallathee bayna yadayhi walaw tara ithi alththalimoona mawqoofoona AAinda rabbihim yarjiAAu baAAduhum ila baAAdin alqawla yaqoolu allatheena istudAAifoo lillatheena istakbaroo lawla antum lakunna mumineena

آیت 31 کی تفسیر

وقال الذین کفروا۔۔۔۔۔ بین یدیہ ” “۔ یہ ہے وہ عناد جس میں مخالفین اسلام اول روز سے مبتلا تھے۔ انہوں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ ہدایت کو مان کر نہ دیں گے اگرچہ اس کا منبع کتب سابقہ میں ہو۔ نہ قرآن کو مانیں گے اور نہ پہلی کسی کتاب کو۔ نہ اس کو نہ سابقہ کتب کو ۔ یہی فیصلہ مخالفین اسلام کا کل بھی تھا اور آج بھی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ کفر پر اصرار کرتے ہیں ۔ پختہ فیصلہ انہوں نے کرلیا ہے کہ وہ کفر پر اصرار کریں گے اور دلائل ہدایت پر غور ہی نہ کریں گے۔ جب انہوں نے یہ فیصلہ کر ہی دیا ہے تو ان کا علاج یہی ہے کہ ان کے سامنے بس مناظر قیامت میں سے ایک منظر پیش کردیا جائے۔

ولو تری اذ ۔۔۔۔۔ الا ما کانوا یعملون (21 – 23)

یہ تو تھی ان کی دنیاوی بات ” ہم ہرگز قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے “۔ لیکن ان ظالموں کی ھالت قیامت کے دن دیکھنے کے قابل ہوگی جب یہ لوگ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور بطور ملزم اللہ کی عدالت میں سزا کا انتظار کر رہے ہوں گے اور ان کو اس وقت یقین ہوگا کہ انہوں نے تو ہدایت کا انکار کیا تھا لہٰذا نتیجہ سامنے ہے۔ اب اور تو کچھ بس نہ چلے گا ایک دوسرے پر لعنت و ملامت کریں گے اور اس انجام کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالیں گے۔ یہ اس وقت کیا کہیں گے ؟

یقول الذین ۔۔۔۔۔ انتم لکنا مومنین (34: 31) ” جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اس وقت وہ جس خوفناک صورت حالات سے دوچار ہیں یہ اس کی ذمہ داری اکابرین پر رکھیں گے۔ کیونکہ ان کو نظر آرہا ہے کہ مصیبت سر پر ہے۔ آج تو وہ ان کے منہ پر یہ حق بات کہہ رہے ہیں لیکن دنیا میں ان کو یہ حق بات کہنے کی توفیق نہ تھی۔ ان کو وقت ، کمزوری ، غلامی ، حق بات کہنے نہ دیتی تھی۔ انہوں نے اللہ کی بخشی ہوئی آزادی کو فروخت کردیا تھا۔ وہ عزت جو اللہ نے ہر انسان کو دی تھی اس سے وہ دستبردار ہوگئے تھے۔ وہ قوت مدرکہ جو ہر انسان کو دی گئی ، انہوں نے معطل کردی تھی۔ آج تو سب جھوٹی اور کھوٹی قدریں ختم ہیں۔ سامنے دردناک عذاب ہے۔ اب وہ یہ حق بات کہتے ہیں جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

لو لا انتم لکنا مومنین (34: 31) ” اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے “۔ اور یہ اکابرین بھی نہایت ہی تنگی اور ترشی سے جواب دیتے ہیں۔ خطرہ تو اب دونوں کے لیے برابر ہے۔ یہ اپنی ذمہ داری خواہ مخواہ ان پر ڈالتے ہیں۔ وہ بھی خوب جواب دیتے ہیں۔

قال الذین ۔۔۔۔۔۔ کنتم مجرمین (34: 32) ” اور ان بڑے بننے والوں نے جواب دیا ، کیا ہم نے تمہیں اس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی ؟ نہیں بلکہ تم خود مجرم تھے “۔ یوں وہ کسی ذمہ داری کے قبول کرنے کا صاف انکار کردیتے ہیں۔ اور یہ اقرار کرلیتے ہیں کہ ہدایت آئی تھی۔ یہ مستکبرین دنیا میں تو ضعفاء کو کوئی اہمیت ہی نہ دیتے تھے۔ نہ ان سے رائے طلب کرتے تھے ، بلکہ ان کا وجود ہی تسلیم نہ کرتے تھے اور یہ بات برداشت ہی نہ کرتے تھے کہ یہ ضعفاء ان کی مخالفت کریں یا مباحثہ کریں لیکن آج جبکہ عذاب کا سامنا ہے تو وہ صاف صاف انکار کرتے ہیں کہ۔

انحن صددنکم ۔۔۔۔۔ اذجآء کم (34: 32) ” کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ، جب تمہارے پاس ہدایت آئی تھی “۔ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔ تم نے مجرمانہ انداز اختیار کرلیا تھا۔

اگر دنیا ہوتی تو ان کمزور لوگوں کے ہونٹ سلے ہوئے ہوتے لیکن آخرت میں دنیا کے تمام جھوٹے پردے اٹھ جائیں گے۔ جھوٹی قدریں مٹ جائیں گی۔ آنکھیں کھل جائیں گی اور چھپے حقائق پردے سے باہر آجائیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں یہ کمزور لوگ بھی کھل کر بات کریں گے۔ بلکہ اب وہاں مستکبرین کے منہ میں منہ ڈال کر بات کریں گے اور کہیں گے کہ تم ہی اس سب صورت حالات کے ذمہ ہو۔ تم رات اور دن مکاری کرتے تھے اور ہمیں ہدایت سے روکتے تھے۔ تم نے باطل کو تھام رکھا تھا ، ہم پر مسلط کردیا تھا اور دعوت اسلامی کو ہم پر مشتبہ بنا دیا تھا۔ تم اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ہمیں گمراہ کرتے تھے۔

وقال الذین استضعفوا ۔۔۔ ونجعل لہ اندادا (34: 33) وہ دبے ہوئے لوگ ان بڑے بننے والوں سے کہیں گے ، ” نہیں ، بلکہ شب و روز کی مکاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں “۔

اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ مکالمہ اور مجادلہ نہ ان کے لیے مفید ہے اور ان کے لیے۔ نہ بڑے کی نجات ممکن ہے اور نہ چھوٹوں کی۔ ہر گروہ مجرم ہے ، البتہ بڑوں پر اپنی گواہی کی بھی ذمہ داری ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کی بھی ذمہ داری ہے۔ چھوٹوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ انہوں نے کیوں ان بڑے لوگوں کی اطاعت کی۔ یہ بات وہاں معانی کی وجہ نہیں بن سکتی کہ یہ ضعیف تھے۔ اللہ نے ان کو عقل اور آزادی دی تھی۔ انہوں نے عقل سے کام نہ لیا اور اپنی آزادی رائے کو فروخت کردیا۔ وہ طفیلی پن رہنے پر راضی ہوئے اور ذلت کی زندگی قبول کی۔ اس لیے وہ عذاب کے مستحق بن گئے۔ اس گفتگو کے دوران ہی ان پر سخت ندامت طاری ہوگئی اور یہ اسے چھپانے لگے۔ جب انہوں نے عذاب دیکھ لیا۔

واسروا الندامۃ لما راوا العذاب (34: 33) ” جب یہ عذاب دیکھیں گے تو پچھتائیں گے “۔ اور اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔ یہ ایسی حالت ہوتی ہے کہ دل کی بات دل ہی میں رہ جاتی ہے۔ زبانیں بند ہوجاتی ہیں ، ہونٹ سل جاتے ہیں اور سخت عذاب انہیں آلیتا ہے۔

وجعلنا الاغلل ۔۔۔۔۔ الذین کفروا (34: 33) ” ہم ان منکرین کے گلوں میں طوق ڈال دیں گے “ اب یہ لوگ طوقوں میں بندھے ہوئے ہیں لیکن بات کا رخ ان سے پھرجاتا ہے اور عام بدکاروں سے کہا جاتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

ھل یجزون الا ما کانوا یعملون (34: 33) ” کیا لوگوں کو اس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال ان کے تھے ، ویسی ہی جزا وہ پائیں۔ اب بڑے بننے والے اور چھوٹے بننے والے دونوں قسم کے ظالموں کے اس منظر پر پردہ گرتا ہے۔ دونوں ظالم ہیں۔ یہ اس لیے ظالم ہیں کہ سرکش تھے اور باغی تھے اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے تھے۔ وہ اس لیے ظالم تھے کہ انہوں نے انسانی شرافت اور آزادی کے مقام کو ترک کردیا اور اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن گئے۔ ان کے سامنے ذلت اختیار کی۔ اب دونوں کے لیے دائمی عذاب ہے۔

پردہ گرتا ہے اور ظالم اپنا منظر اچھی طرح دیکھ چکے ، زندہ مشکل ہیں۔ انہوں نے اپنی ہر حالت دیکھ لی اور وہ اس زمین پر زندہ ہیں۔ دوسروں نے بھی اس منظر کو دیکھ لیا۔ سب کے سامنے ابھی مہلت کی گھڑیاں ہیں۔ کبراء قریش جو باتیں کرتے ہیں ایسی ہی باتیں اقوام رفتہ کے مستکبرین بھی کرتے چلے آئے ہیں۔

آیت 31 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ } ”اور کہا ان کافروں نے کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ہی اس قرآن پر جو اس سے پہلے تھا۔“ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لفظ قرآن کا اطلاق تورات پر بھی ہوا ہے۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے سورة القصص کی آیت 48 کی تشریح بھی مدنظر رہنی چاہیے ‘ جس میں کفار کا وہ قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا قرار دیا تھا۔ ان کے اس الزام کا مطلب یہ تھا کہ تورات اور قرآن دراصل دو جادو ہیں جنہوں نے باہم گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تورات میں قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں جبکہ محمد ﷺ کا قرآن تورات کی تصدیق کررہا ہے۔ اس طرح ان دونوں نے ایکا کرکے ہمارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ گویا انہوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے قرآن اور تورات کے ایک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ آیت زیر مطالعہ میں یہی بات ایک دوسرے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران یہ اصول کئی بار دہرا یا جا چکا ہے کہ قرآن نے تورات کے جن احکام کی نفی نہیں کی وہ احکام حضور ﷺ نے اپنی شریعت میں قائم رکھے ہیں۔ مثلاً قتل ِمرتد ُ اور رجم تورات کے احکام تھے جن کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا۔ اور اسی اصول کے تحت قرآن میں کوئی صریح حکم نہ ہونے کے باوجود بھی حضور ﷺ نے رجم کیا ہے اور خلفائے راشدین رض سے بھی رجم کرنا ثابت ہے۔ چناچہ سوائے خوارج کے اہل ِسنت اور اہل تشیع ّکے تمام مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے۔ البتہ قرآن پہلی الہامی کتابوں پر مُھَیْمِنْ نگران ہے ‘ یعنی اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں ان کی تصحیح اس قرآن کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہاں پر میں ایک حدیث کا حوالہ دیناچاہتا ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رض نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک کتاب تورات کا نسخہ لے کر آئے جو انہیں اہل کتاب میں سے کسی نے دی تھی اور اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنانا شروع کردیا۔ اس پر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا : أَمُتَھَوِّکُونَ فِیْھَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہٖ بَیْضَائَ نَقِیَّۃً لَا تَسْأَلُـوْھُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَـوْ اَنَّ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلاَّ اَنْ یَّـتَّبِعَنِی 1”اے خطاب کے بیٹے ! کیا تم لوگ اس تورات کے بارے میں متحیر ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس یہ قرآن روشن اور پاکیزہ اور ہر آمیزش سے پاک لے کر آیا ہوں۔ ان اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو ‘ مبادا وہ تمہیں حق بتائیں اور تم اس کو جھٹلا دو ‘ یا باطل خبر دیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ d زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔“ حضور ﷺ کے اس فرمان کا مدعا بہت واضح ہے کہ قرآن کے احکام آخری اور حتمی ہیں ‘ تورات کے کسی حکم سے قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی حکم کے سامنے تورات کے کسی حکم کا حوالہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ { وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔“ { یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ } ”وہ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹائیں گے۔“ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ { یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ } ”جو لوگ کمزور تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔“ تاویل ِخاص کے لحاظ سے یہاں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے عوام کو حضور ﷺ سے برگشتہ کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتے تھے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے عوام انہیں کوس رہے ہوں گے کہ اگر تم لوگ ہماری راہ میں حائل نہ ہوتے تو ہم ایمان لا چکے ہوتے اور آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔

کافروں کی سرکشی۔ کافروں کی سرکشی اور باطل کی ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ قرآن کی حقانیت کی ہزارہا دلیلیں بھی دیکھ لیں لیکن نہیں مانیں گے۔ بلکہ اس سے اگلی کتاب پر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ انہیں اپنے اس قول کا مزہ اس وقت آئے گا جب اللہ کے سامنے جہنم کے کنارے کھڑے چھوٹے بڑوں کو، بڑے چھوٹوں کو الزام دیں گے۔ ہر ایک دوسرے کو قصور وار ٹھہرائے گا۔ تابعدار اپنے سرداروں سے کہیں گے کہ تم ہمیں نہ روکتے تو ہم ضرور ایمان لائے ہوئے ہوتے، ان کے بزرگ انہیں جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں روکا تھا ؟ ہم نے ایک بات کہی تم جانتے تھے کہ یہ سب بےدلیل ہے دوسری جانب سے دلیلیوں کی برستی ہوئی بارش تمہاری آنکھوں کے سامنے تھی پھر تم نے اس کی پیروی چھوڑ کر ہماری کیوں مان لی ؟ یہ تو تمہاری اپنی بےعقلی تھی، تم خود شہوت پرست تھے، تمہارے اپنے دل اللہ کی باتوں سے بھاگتے تھے، رسولوں کی تابعداری خود تمہاری طبیعتوں پر شاق گذرتی تھی۔ سارا قصور تمہارا اپنا ہی ہے ہمیں کیا الزام دے رہے ہو ؟ اپنے بزرگوں کی مان لینے والے یہ بےدلیل انہیں پھر جواب دیں گے کہ تمہاری دن رات کی دھوکے بازیاں، جعل سازیاں، فریب کاریاں ہمیں اطمینان دلاتیں کہ ہمارے افعال اور عقائد ٹھیک ہیں، ہم سے بار بار شرک و کفر کے نہ چھوڑنے، پرانے دین کے نہ بدلنے، باپ دادوں کی روش پر قائم رہنے کو کہنا، ہماری کمر تھپکنا۔ ہماے ایمان سے رک جانے کا یہی سبب ہوا۔ تم ہی آ آ کر ہمیں عقلی ڈھکو سلے سنا کر اسلام سے روگرداں کرتے تھے۔ دونوں الزام بھی دیں گے۔ برات بھی کریں گے۔ لیکن دل میں اپنے کئے پر پچھتا رہے ہوں گے۔ ان سب کے ہاتھوں کو گردن سے ملا کر طوق و زنجیر سے جکڑ دیا جائے گا۔ اب ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق بدلہ ملے گا۔ گمراہ کرنے والوں کو بھی اور گمراہ ہونے والوں کو بھی۔ ہر ایک کو پورا پورا عذاب ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جہنمی جب ہنکا کر جہنم کے پاس پہنچائے جائیں گے تو جہنم کے ایک شعلے کی لپیٹ سے سارے جسم کا گوشت جھلس کر پیروں پر آپڑے گا۔ (ابن ابی حاتم) حسن بن یحییٰ خشنی فرماتے ہیں کہ جہنم کے ہر قید خانے، ہر غار، ہر زنجیر، ہر قید پر جہنمی کا نام لکھا ہوا ہے جب حضرت سلیمان دارانی کے سامنے یہ بیان ہوا تو آپ بہت روئے اور فرمانے لگے ہائے ہائے پھر کیا حال ہوگا اس کا جس پر یہ سب عذاب جمع ہوجائیں۔ پیروں میں بیڑیاں ہوں، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ہوں، گردن میں طوق ہوں پھر جہنم کے غار میں دھکیل دیا جائے۔ اللہ تو بچانا پروردگار تو ہمیں سلامت رکھنا۔ اللھم سلم اللھم سلم

آیت 31 - سورہ سبا: (وقال الذين كفروا لن نؤمن بهذا القرآن ولا بالذي بين يديه ۗ ولو ترى إذ الظالمون موقوفون عند ربهم يرجع...) - اردو