وقالوا نحن ۔۔۔۔۔ نحن بمعذبین (25) ” “۔ لیکن قرآن کریم جواب دہی کے لیے وہ معیار اور وہ قدریں وضع کرتا ہے جو اللہ کے ہاں معمول بہا ہیں۔ اللہ کے ہاں رائج ہیں۔ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ رزق کی کشادگی اور تنگی پر مدار فیصلہ نہیں ہے۔ فیصلہ اللہ کی رضا و غضب پر ہوگا۔ رزق نہ کسی کو سزا دیتا ہے اور نہ بچاتا ہے۔ حساب و کتاب اور جزاء و سزا کا معاملہ دولت مندی اور تنگدستی سے جدا ہے۔ اللہ کی رضا مندی اور ناراضگی کا تعلق رزق سے نہیں ہے اس کے لئے دوسرا معیار ہے۔
آیت 35 { وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًالا وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } ”اور انہوں نے کہا کہ ہم اموال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں دولت اور اولاد جیسی نعمتوں سے نوازا گیا ہے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور ہم اس کے منظورِ نظر ہیں۔ چناچہ جس طرح ہمیں دنیا میں خوشحالی حاصل ہے اسی طرح ہمیں آخرت میں بھی عیش کی زندگی ملے گی اور عذاب تو ہمیں بالکل بھی نہیں دیا جائے گا۔