اس صفحہ میں سورہ Saba کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ سبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوٓا۟ أَنَحْنُ صَدَدْنَٰكُمْ عَنِ ٱلْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَآءَكُم ۖ بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ
وَقَالَ ٱلَّذِينَ ٱسْتُضْعِفُوا۟ لِلَّذِينَ ٱسْتَكْبَرُوا۟ بَلْ مَكْرُ ٱلَّيْلِ وَٱلنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَآ أَن نَّكْفُرَ بِٱللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُۥٓ أَندَادًا ۚ وَأَسَرُّوا۟ ٱلنَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا۟ ٱلْعَذَابَ وَجَعَلْنَا ٱلْأَغْلَٰلَ فِىٓ أَعْنَاقِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
وَمَآ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَآ إِنَّا بِمَآ أُرْسِلْتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ
وَقَالُوا۟ نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَٰلًا وَأَوْلَٰدًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ وَيَقْدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
وَمَآ أَمْوَٰلُكُمْ وَلَآ أَوْلَٰدُكُم بِٱلَّتِى تُقَرِّبُكُمْ عِندَنَا زُلْفَىٰٓ إِلَّا مَنْ ءَامَنَ وَعَمِلَ صَٰلِحًا فَأُو۟لَٰٓئِكَ لَهُمْ جَزَآءُ ٱلضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا۟ وَهُمْ فِى ٱلْغُرُفَٰتِ ءَامِنُونَ
وَٱلَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِىٓ ءَايَٰتِنَا مُعَٰجِزِينَ أُو۟لَٰٓئِكَ فِى ٱلْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
قُلْ إِنَّ رَبِّى يَبْسُطُ ٱلرِّزْقَ لِمَن يَشَآءُ مِنْ عِبَادِهِۦ وَيَقْدِرُ لَهُۥ ۚ وَمَآ أَنفَقْتُم مِّن شَىْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُۥ ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلرَّٰزِقِينَ
آیت 32 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْہُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآئَ کُمْ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ } ”جواباً وہ کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے جو کمزور تھے : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ‘ اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آگئی تھی ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔“
آیت 33 { وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ } ”اس پر کہیں گے وہ جو کمزور تھے ان سے جو بڑے بنے ہوئے تھے بلکہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں“ { اِذْ تَاْمُرُوْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَادًا } ”جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا کفر کریں اور اس کے لیے مد ِمقابل ٹھہرائیں۔“ { وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ } ”اور وہ چھپائیں گے ندامت کو جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔“ { وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور ہم نے طوق ڈال دیے ہیں ان کافروں کی گردنوں میں۔ ‘ ‘ { ہَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”ان کو بدلہ نہیں ملے گا مگر اسی کا جو عمل وہ کرتے تھے۔“
آیت 34 { وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآلا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ اس کے آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز آپ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس کے منکر ہیں۔“
آیت 35 { وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًالا وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } ”اور انہوں نے کہا کہ ہم اموال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں دولت اور اولاد جیسی نعمتوں سے نوازا گیا ہے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور ہم اس کے منظورِ نظر ہیں۔ چناچہ جس طرح ہمیں دنیا میں خوشحالی حاصل ہے اسی طرح ہمیں آخرت میں بھی عیش کی زندگی ملے گی اور عذاب تو ہمیں بالکل بھی نہیں دیا جائے گا۔
آیت 36 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ یقینا میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے دنیا کا رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے“ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی نعمتوں کی تقسیم لوگوں کے اعمال یا اعتقاد کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ چناچہ اگر کسی کے ہاں مال و دولت کی کثرت ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا منظورِ نظر ہے۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَــوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقٰی کَافِرًا مِنْھَا شَرْبَۃَ مَائٍ 1 ”اگر دنیا کی وقعت اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے ایک َپر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ دیتا“۔ چناچہ جس مال اور اولاد پر یہ لوگ اتراتے پھرتے ہیں اللہ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ { وَلٰــکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔“ اکثر لوگ اللہ کی اس تقسیم کے فلسفے کے بارے میں لا علم ہیں۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ رزق کی کمی یا زیادتی کا تعلق کسی انسان کے اللہ کے ہاں محبوب یا مغضوب ہونے سے نہیں ہے۔
آیت 37 { وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآاَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی } ”اور دیکھو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں کہ وہ تمہیں مرتبے میں ہمارا مقرب ّبنا دیں“ { اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا } ”سوائے اس شخص کے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے۔“ { فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَہُمْ فِی الْْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ } ”تو ایسے لوگوں کے لیے ان کے اعمال کا دو گنا اجر ہے اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔“
آیت 38 { وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ لوگ جو کوشش کر رہے ہیں ہماری آیات کو ناکام کرنے کی وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔“ آیاتِ الٰہی کے نزول کا مقصد تو ایمان کی روشنی کو پھیلانا اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانا ہے۔ چناچہ جو لوگ اس عمل کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔
آیت 39 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ یقینا میرا ربّ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور جسے چاہتا ہے اس کے لیے تنگ کردیتا ہے۔“ { وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ } ”اور جو کچھ بھی تم لوگ خرچ کرتے ہو تو وہ اسے لوٹا دیتا ہے۔“ یعنی اللہ کی رضا کے لیے جو مال خرچ کیا جاتا ہے ایک تو اس کا اجر آخرت میں ملے گا جو دس گنا سے سات سو گنا تک ہوگا ‘ بلکہ قرآن میں اس سے بھی زیادہ کی بشارت ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس کا بدل عطا فرماتا ہے۔ چناچہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے انسان کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے اور دل میں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس کا نقد معاوضہ بھی عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے رزق کے نئے نئے مواقع پیدا فرماتا ہے اور ان کے وسائل میں خصوصی برکتیں نازل فرماتا ہے۔ { وَہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ } ”اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔“