وما اموالکم ولا اولادکم ۔۔۔۔۔۔ فی العذاب محضرون (27 – 28)
نہایت صراحت کے ساتھ بتایا جاتا ہے کہ رزق کی فراوانی کے ذریعہ کوئی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہوجاتا۔ ہاں اگر کوئی اپنی دولت میں سے فی سبیل اللہ خرچ کرتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں مفید ہے۔
آیت 37 { وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآاَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی } ”اور دیکھو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں کہ وہ تمہیں مرتبے میں ہمارا مقرب ّبنا دیں“ { اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا } ”سوائے اس شخص کے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے۔“ { فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَہُمْ فِی الْْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ } ”تو ایسے لوگوں کے لیے ان کے اعمال کا دو گنا اجر ہے اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔“