سورہ سبا: آیت 49 - قل جاء الحق وما يبدئ... - اردو

آیت 49 کی تفسیر, سورہ سبا

قُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ

اردو ترجمہ

کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul jaa alhaqqu wama yubdio albatilu wama yuAAeedu

آیت 49 کی تفسیر

اب آخری ضرب : قل جاء ۔۔۔۔۔ وما یعید (49) ” “۔ سچائی آگئی ہے ، رسول آگیا ، قرآن آگیا ، اسلامی نظام زندگی سیدھا سیدھا آگیا ۔ اعلان کردو ، اور کھلا اعلان کردو کہ اب حق آگیا ہے ۔ یہ گولہ قوت کے ساتھ پھینکا گیا ہے ۔ قوت اور سربلندی کے ساتھ آگیا ہے ۔

وما یبدی الباطل وما یعید (34: 49) ” باطل کے لیے نہ آغاز ہے اور نہ انجام “۔ اس کا معاملہ اب ختم ہے ۔ اس کی زندگی ختم ہے ۔ اب اس کے لیے کوئی میدان عمل نہیں ہے ۔ اس کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی ہلا مارنے والی ضرب ہے ۔ جو کوئی بھی اس اعلان کو سنتا ہے ، وہ یقین کرلیتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں ہے ، باطل کے قائم رہنے کی ۔ لہٰذا حق کے سوا اب کسی اور کی حکمرانی نہ ہوگی ۔

اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سے قرآن آیا ہے ، سچائی کا منہاج دنیا میں قائم ہوگیا ہے اور باطل ان اس سچائی کے سامنے دفاعی پر زیشن میں ہے ، کیونکہ سچ نے غالب ہونے کا عزم بالجزم کیا ہوا ہے ۔ اگر چہ بعض اوقات باطل کو مادی قوت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ کبھی حق پر نظریاتی برتری حاصل نہیں کرسکا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اہل باطل اہل حق پر غالب آجاتے ہیں لیکن یہ اہل حق کی غلطی کی وجہ سے وقتی تزلزل ہوتا ہے ۔ جہاں تک حق کا تعلق ہے ، وہ اپنی جگہ جماہواہوتا ہے۔ واضح ہوتا ہے ، صریح

ہوتا ہے ۔ اور آخری ضرب۔

آیت 49 { قُلْ جَآئَ الْحَقُّ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ حق آگیا ہے“ آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ حق کا بول بالا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اب چند ہی برسوں بعد پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کے دین کا غلبہ ہوجائے گا۔ { وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ } ”اور باطل نہ تو کسی چیز کی ابتدا کرسکتا ہے اور نہ ہی اعادہ۔“

آیت 49 - سورہ سبا: (قل جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد...) - اردو