اس صفحہ میں سورہ Saba کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ سبإ کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قُلْ جَآءَ ٱلْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ ٱلْبَٰطِلُ وَمَا يُعِيدُ
قُلْ إِن ضَلَلْتُ فَإِنَّمَآ أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِى ۖ وَإِنِ ٱهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِىٓ إِلَىَّ رَبِّىٓ ۚ إِنَّهُۥ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
وَلَوْ تَرَىٰٓ إِذْ فَزِعُوا۟ فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا۟ مِن مَّكَانٍ قَرِيبٍ
وَقَالُوٓا۟ ءَامَنَّا بِهِۦ وَأَنَّىٰ لَهُمُ ٱلتَّنَاوُشُ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ
وَقَدْ كَفَرُوا۟ بِهِۦ مِن قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِٱلْغَيْبِ مِن مَّكَانٍۭ بَعِيدٍ
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِم مِّن قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ فِى شَكٍّ مُّرِيبٍۭ
اب آخری ضرب : قل جاء ۔۔۔۔۔ وما یعید (49) ” “۔ سچائی آگئی ہے ، رسول آگیا ، قرآن آگیا ، اسلامی نظام زندگی سیدھا سیدھا آگیا ۔ اعلان کردو ، اور کھلا اعلان کردو کہ اب حق آگیا ہے ۔ یہ گولہ قوت کے ساتھ پھینکا گیا ہے ۔ قوت اور سربلندی کے ساتھ آگیا ہے ۔
وما یبدی الباطل وما یعید (34: 49) ” باطل کے لیے نہ آغاز ہے اور نہ انجام “۔ اس کا معاملہ اب ختم ہے ۔ اس کی زندگی ختم ہے ۔ اب اس کے لیے کوئی میدان عمل نہیں ہے ۔ اس کا جانا ٹھہر گیا ہے ۔ یہ ایک نہایت ہی ہلا مارنے والی ضرب ہے ۔ جو کوئی بھی اس اعلان کو سنتا ہے ، وہ یقین کرلیتا ہے کہ اب کوئی گنجائش نہیں ہے ، باطل کے قائم رہنے کی ۔ لہٰذا حق کے سوا اب کسی اور کی حکمرانی نہ ہوگی ۔
اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب سے قرآن آیا ہے ، سچائی کا منہاج دنیا میں قائم ہوگیا ہے اور باطل ان اس سچائی کے سامنے دفاعی پر زیشن میں ہے ، کیونکہ سچ نے غالب ہونے کا عزم بالجزم کیا ہوا ہے ۔ اگر چہ بعض اوقات باطل کو مادی قوت حاصل ہوتی ہے لیکن وہ کبھی حق پر نظریاتی برتری حاصل نہیں کرسکا۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات اہل باطل اہل حق پر غالب آجاتے ہیں لیکن یہ اہل حق کی غلطی کی وجہ سے وقتی تزلزل ہوتا ہے ۔ جہاں تک حق کا تعلق ہے ، وہ اپنی جگہ جماہواہوتا ہے۔ واضح ہوتا ہے ، صریح
ہوتا ہے ۔ اور آخری ضرب۔
قل ان ضللت۔۔۔۔ سمیع قریب (50)
اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وہال تم پر نہ ہوگا ۔ میں خود ذمہ دار ہوں گا اور اگر میں ہدایت ہر ہوں تو اللہ نے بذریعہ وحی مجھے یہ ہدایات دی ہیں ۔ میں خود از خود کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہوں ۔ میں تو خود بھی اسیراشارہ ابرر دہوں ۔
انہ سمیع قریب (34: 50) ” وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے “۔ یہ لوگ اللہ کو قریب پاتے تھے ۔ ان کے تصور میں اللہ کی یہ صفات بیٹھی ہوئی تھیں اور ان کی حقیقی زندگی میں یہ صفات موثر تھیں ۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ سمیع ہے اور قریب ہے ۔ اور وہ ان کے امور کو براہ راست دیکھ رہا ہے ۔ ان کی شکایت اور ان کے مشورے سب اللہ کے سامنے ہیں ۔ اللہ نے اپنے بندوں کو چھوڑ نہیں رکھا اور نہ کسی کے حوالے کررکھا ہے ۔ چناچہ ان کی زندگی اللہ کی انس و محبت میں گزرتی تھی ۔ اللہ کے زیر سایہ تھی ۔ اس کے پڑوس میں تھی ۔ اس کی مہربانیوں میں تھی ۔ اس کی نگرانی میں تھی اور یہ عقیدہ وہ اپنے قصوس کے اندر زندہ پاتے تھے ، زندہ اور سادہ شکل میں۔ یہ صفات محض تصور ہی نہ تھیں بلکہ زندہ اور عملی تھیں انہ سمیع قریب (34: 50)
اب خاتمہ اس سورة کا قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ منظر حرکت اور دوڑ دھوپ سے پر ہے ۔ اس میں دنیا اور آخرت کے ڈانڈے ملے ہوئے ہیں ۔ گویا دنیا اور آخرت ایک ہی اسٹیج پر ہیں ۔ اس منظر کی جھلکیاں بڑی تیزی سے اسکرین پر گزرتی ہیں۔
فزعوا (34: 51) اچانک ان پر خوف طاری ہوگیا ہے ۔ یہ بھا گنا چاہتے تو تھے لیکن دیکھو پکڑے جارہے ہیں ، کوئی ایک بھی بھاگ نہیں سکتا ۔ بلکہ یہ دور تک نہیں بھاگ سکتے قریب قریب ہی سے پکڑے جارہے ہیں ۔
واخذوا من مکان قریب (34: 51) اچانک انہوں نے تھوڑی بہت حرکت تو کی بھاگنے کے لیے مگر نہ بھاگ سگے ۔
اب سب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے بعد ازوقت ۔ اب تو ایمان ان سے بہت دور نکل گیا ہے ۔ بہت دور جا چکا ہے ۔ یہ ان اسے پکڑ نہیں سکتے ۔
التناوش من مکان بعید (34: 52) اب ان کی سعی طرح ہے جس طرح کوئی کسی چیز کو دور سے پکڑ نا چاہے ، مگر نہ پکڑ سکے ۔ ایمان تو دور دنیا میں رہ گیا ہے ۔ انہوں نے موقع ضائع کردیا۔
وقدکفر وابہ من قبل (34: 53) ” اس سے پہلے انہوں نے ایمان سے انکار کردیا “۔ اب یہاں تو معاملہ ختم ہے ، مہلت ختم ، اب سعی لا حاصل ہے ۔
ویقذ فون بالغیب من مکان بعید (34: 53) ” یہ دور سے غائب نشانے پر پھینکتے تھے “۔ اس وقت انہوں نے انکار ہی کر دیا تھا کہ قیامت نہیں ہے حالانکہ وہ مستقبل کے پر دوں میں اسے کسی طرح دیکھ سکتے تھے کہ نہیں ہے ۔ اس طرح وہ دور نامعلوم نشانے پر بمباری کررہے تھے ۔ اور اب ایمان لانے کی سعی کررہے ہیں جبکہ وہ دور نکل گیا ہے ۔
وحیل ۔۔۔ یشتھون (34: 54) ” اس وقت جس چیز کی یہ تمنا کررہے ہوں گے ۔ اس سے وہ محروم کردیئے جائیں گے “۔ اب یہ ایمان سے محروم ہوں گے کیونکہ وہ بعدازوقت ہوگا ۔ اب عذاب سے بچنا ممکن نہ ہوگا کہ وہ سرپر ہوگا ۔
کما۔۔۔ من قبل (34: 54) ” جس طرح ان کے پیش ردہم مشرب محروم کردیئے جائیں گے “۔ یعنی جب ان پر پکڑ آئی تو انہوں نے نجات کی دعا کی لیکن اب نہ دعا کا وقت تھا نہ بھا گنے کی جگہ تھی ۔
انھم۔۔۔ مریب (34: 54) ” یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے “۔ اور اب یقین کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں “۔
اس سورة کا خاتمہ اس شدید ضرب پر ہوتا ہے ۔ اور یہ منظر قیامت ، قیام قیامت کو عملاً ثابت کردیتا ہے کہ وہ دیکھو قیامت برپا ہوگئی ! یہی مضمون تھا اس سورة کا ۔ آغاز بھی قیامت کے قیام اور انتہا بھی احوال قیامت پر ۔