سورہ سبا: آیت 9 - أفلم يروا إلى ما بين... - اردو

آیت 9 کی تفسیر, سورہ سبا

أَفَلَمْ يَرَوْا۟ إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ ٱلْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ

اردو ترجمہ

کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afalam yaraw ila ma bayna aydeehim wama khalfahum mina alssamai waalardi in nasha nakhsif bihimu alarda aw nusqit AAalayhim kisafan mina alssamai inna fee thalika laayatan likulli AAabdin muneebin

آیت 9 کی تفسیر

افلم یروا الی ۔۔۔۔۔۔ لکل عبد منیب (9) ” “۔

یہ ایک سخت ڈراؤنا کائناتی منظر ہے۔ یہ منظر ان کے مشاہدات سے ماخوذ ہے جن کو وہ رات اور دن دیکھتے رہتے ہیں۔ زمین کا دھنس جانا بھی انسانی مشاہدہ ہے اور قصص اور روایات میں بھی آتا ہے۔ اسی طرح شہاب ثاقب کے گرنے اور بجلیوں کے گرنے سے بھی آسمانی چیزیں گرتی رہی ہیں۔ یہ سب چیزیں ان کو دیکھی سنی ہیں۔ اس قدر خوفناک حالات کی طرف ان کو متوجہ کرکے ڈرایا جاتا ہے جو قیام قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ اگر قیام قیامت سے پہلے ہی اللہ ان کو عذاب دینا چاہئے تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اسی زمین اور اسی آسمان میں ان کو یہ عذاب دے دیا جائے جو ان کے آگے پیچھے ان کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ ان سے دور بھی نہیں ہے جس طرح قیام قیامت انکو بعید نظر آتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے عذاب سے تو غافل لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں

یہ آسمانوں کے اندر جو عملیات وہ دیکھتے ہیں ، بجلیاں اور شہاب ثاقب اور زمین کا دھنس جانا اور زلزلے۔ کسی وقت بھی ان میں سے کوئی عذاب اگر آجائے تو قیامت ہی ہوگی۔

ان فی ذلک لایۃ لکل عبد منیب (34: 9) ” حقیقت یہ ہے کہ اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو “۔ اور جو غلط راہ پر اس قدر دور نہ چلا گیا ہو۔

آیت 9 { اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے !“ کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویا یہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ کا حوالہ بھی آگیا اور ”تذکیر بایام اللہ“ کا بھی۔ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ } ”اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں“ { اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ } ”یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ } ”یقینا اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والاہو۔“

آیت 9 - سورہ سبا: (أفلم يروا إلى ما بين أيديهم وما خلفهم من السماء والأرض ۚ إن نشأ نخسف بهم الأرض أو نسقط عليهم...) - اردو