ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
آیت 104 نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُہُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا ”اَمْثَلْکے معنی مثالی کے ہیں ‘ یعنی ان میں سے بہترین طریقے والا ‘ انتہائی شائستہ ‘ مہذب cultured اور سب سے زیادہ پڑھا لکھا شخص۔ یہ گویا ان کا لال بجھکڑہو گا جو دنیا میں بزعم خود مثالی شخصیت کا مالک اور دانشور تھا۔ یہی ترکیب قبل ازیں آیت 63 میں بھی ہم پڑھ چکے ہیں۔ وہاں فرعون کا وہ بیان نقل ہوا تھا جس میں اس نے اپنے ملک کے آئین و تمدن کو ”طَرِیْقَتِکُمُ الْمُثْلٰی“ قرار دیا تھا۔ یہاں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حالات پر مشتمل پانچ رکوع اختتام پذیر ہوئے۔ اس سے آگے سورة کے اختتام تک وہی مضامین ہیں جو عام طور پر مکی سورتوں میں ملتے ہیں۔