اس صفحہ میں سورہ Taa-Haa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ طه کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
كَذَٰلِكَ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ۚ وَقَدْ ءَاتَيْنَٰكَ مِن لَّدُنَّا ذِكْرًا
مَّنْ أَعْرَضَ عَنْهُ فَإِنَّهُۥ يَحْمِلُ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ وِزْرًا
خَٰلِدِينَ فِيهِ ۖ وَسَآءَ لَهُمْ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ حِمْلًا
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ ۚ وَنَحْشُرُ ٱلْمُجْرِمِينَ يَوْمَئِذٍ زُرْقًا
يَتَخَٰفَتُونَ بَيْنَهُمْ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا عَشْرًا
نَّحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ إِذْ يَقُولُ أَمْثَلُهُمْ طَرِيقَةً إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا يَوْمًا
وَيَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلْجِبَالِ فَقُلْ يَنسِفُهَا رَبِّى نَسْفًا
فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًا
لَّا تَرَىٰ فِيهَا عِوَجًا وَلَآ أَمْتًا
يَوْمَئِذٍ يَتَّبِعُونَ ٱلدَّاعِىَ لَا عِوَجَ لَهُۥ ۖ وَخَشَعَتِ ٱلْأَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلَا تَسْمَعُ إِلَّا هَمْسًا
يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ ٱلشَّفَٰعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَٰنُ وَرَضِىَ لَهُۥ قَوْلًا
يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِهِۦ عِلْمًا
۞ وَعَنَتِ ٱلْوُجُوهُ لِلْحَىِّ ٱلْقَيُّومِ ۖ وَقَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا
وَكَذَٰلِكَ أَنزَلْنَٰهُ قُرْءَانًا عَرَبِيًّا وَصَرَّفْنَا فِيهِ مِنَ ٱلْوَعِيدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ أَوْ يُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے بتایا یا ہے کہ دنیا کے شب و روز سکڑ جائیں گے ، زمین کے اوپر سے پہاڑ اڑ جائیں گے اور یہ ننگی رہ جائے گی “ بس ایک چٹیل میدان ہوگا ، لوگ میدان حشر میں سہمے کھڑے ہوں گے اور تمام چہرے حی وقیوم کے سامنے جھکے ہوئے اور سرنگوں ہوں گے۔ یہ منظر اور قرآن مجید کے تمام وہ مناظر جن میں لوگوں کو ڈرایا گیا ہے ، ان سے غرض وغایت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے اندر خدا کا خوف پیدا کیا جائے۔ قرآن مجید کی بحث کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کو یہ تسلی بھی دی جاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کو نہ بھولیں گے۔ بھول کے خوف سے اس کے دہرانے میں جلدی نہ کیجیے۔ اس کی وجہ سے اپنے اوپر مصیبت نہ لائیے ، اللہ اسے آپ کے لئے آسان کر دے گا اور آپ کو حفظ کرا دیا جائے گا۔ آپ بس یہ دعا کرتے رہیں کہ اے میرے رب ، میرے علم میں اضافہ کر۔
جب وحی نازل ہونے لگتی تو نبی ﷺ وحی ختم ہونے سے پہلے ہی قرآن کی عبارت کو دہرانا شروع فرما دیتے تھے ، اس خوف سے کہ کہیں بھول نہ جائیں۔ اس بارے میں ان کو تسلی دی گئی لیکن موضوع کی مناسبت سے بتایا گیا کہ آدم (علیہ السلام) اپنے عہد کو بھول گئے تھے۔ ابلیس نے انہیں بھلا دیا تھا اس لئے آدم اور ابلیس کے درمیان جدی دشمنی چلی آرہی ہے۔ اولاد آدم میں سے بعض لوگ اپنے عہد کو بھلاتے ہیں اور بعض اس کو یاد رکھتے ہیں اور اس انجام کو بھی قیامت کے مناظر میں سے ایک منظر میں پیش کیا جاتا ہے۔ گویا یہ سفر کا انجام ہے جو عالم بالا سے شروع ہوا او اس کا خاتمہ بھی عالم بالا پر جا کر ہوا۔
سورة کا خاتمہ اس بات سے ہوتا ہے کہ اے رسول آپ ان لوگوں کے لئے پریشان نہ ہوں جو دعوت کی تکذیب کرتے ہیں یا اس سے روگردانی کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں ایک محدود وقت دیا گیا ہے۔ اس محدود وقت میں ان کو جو ساز و سامان اور متاع دنیا کی وافر مقدار دی گئی ہے ، یہ ان کے لئے کوئی بہتری نہیں ہے۔ یہ تو ان کے لئے فتنہ اور آزمائش ہے۔ آپ کو یہ مشورہ بھی دیا جاتا ہے کہ آپ اللہ کی بندگی اور اس کے ذکر کی طرف متوجہ ہوجائیں ، یوں آپ کو کسی دولت مند کی دولت سے زیادہ اطمینان حاصل ہوگا اور آپ اپنی حالت پر راضی ہوں گے۔ اس سے قبل اللہ نے بہت سی اقوام کو اسی طرح آزمائش میں ڈال کر ہلاک کیا ہے۔ اللہ نے لوگوں کی طرف نبی آخر الزمان اور آخری رسول کو بھیج کر ان پر حجت تمام کردی ہے۔ اب لوگوں کے پاس جو از ہے کہ وہ ایمان نہیں لاتے۔ لہٰذا آپ ان کے انجام کے معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیں اور اس کو اللہ پر چھوڑ دیں اور کہہ دیں ۔
قل کل متربص فتربصوا فستعلمون من اصحب الصراط السوی ومن اھتدی (20 : 531) ” اے محمد ، ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے ، بس اب منتظر رہو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ۔ “
آپ پر جو قصص نازل کئے جا رہے ہیں ، یہ ماضی کے واقعات ہیں۔ قرآن میں ان کو بیان کیا جا رہا ہے۔ قرآن کو اسی لحاظ سے ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قصص بھی دراصل ذکر الٰہی اور آیات الٰہی ہیں اور قرون اوٹی میں جو آیات الٰہی ظاہر ہوئیں یہ ان کا بھی ذکر ہے۔
جو لوگ اس ذکر سے منہ موڑتے ہیں ، ان کو یہاں مجرمین کے نام سے پکارا گیا ہے۔ یہاں ان کا ایک منظر پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بڑے بڑے بوجھ اٹھا رکھے ہیں ، جس طرح مسافر اپنا بوجھ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ لیکن ان کے اس بوجھ میں ان کے لئے کوئی مفید چیز نہیں ہے۔ جب صور پھونکا جائے گا تو اس دن مجرمین کے چہرے نیلے ہوجائیں گے ، یعنی خوف کے وجہ سے اور بےحد غم کی وجہ سے ان کے چہرے نیلے نظر آئیں۔ وہ چپکے چپکے ایک دوسرے سے بات کر رہے ہوں گے۔ ماحول میں چھائے ہوئے خوف اور قیامت کے ہول کی وجہ سے وہ اونچی بات نہ کریں گے۔ وہ کا بات کر رہے ہوں گے۔ وہ ان دنوں کے بارے میں ہوگی جو انہوں نے زمین پر گزارے ہوں گے۔ ان کی حس اور شعور میں دنیا کا پورا زمانہ اس قدر سکڑا ہوا اور مختصر ہوگا کہ پوری زندگی یا زمین پر پورا انسانی دور نہیں چند ایام پر مشتمل نظر آئے گا۔
ان لبشتم الا عشراً (02 : 301) ” تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے۔ “ ان میں سے جو شخص زیادہ صائب الرائے ہوگا وہ اس سے بھی کم اندازہ لگائے گا کہ صرف ایک دن کی زندگی تھی۔
ان لبشتم الایوماً (02 : 301) ” تم نے صرف ایک دن زندگی بسر کی۔ “ یوم دنیا کی یہ طویل زندگیاں انہیں نہایت ہی مختصر نظر آئیں گی۔ یہاں زندگی میں لوگوں نے جو عیاشیاں کی تھیں ، وہ زندگی کے غم نظر آئیں گے اور ایک نہایت ہی مختصر زمانہ نظر آئے گا۔ قدر و قیمت کے اعتبار سے بھی حقیر زمانہ ۔ کیونکہ دس راتوں کی کیا قیمت ہے اگرچہ حد درجہ عیش و عشرت وہ ، اور ایک رات کی قدر و قیمت کیا ہے اگرچہ اس کا ایک ایک منٹ خوش بختی سے بھرا پڑا ہو۔ ان دونوں کی قدر و قیمت بمقابلہ زمانہ لامحدود اور ایام خلود کیا قیمت ہو سکتی ہے ، جس میں یہ لوگ اب حساب و کتاب کے بعد جانے والے ہیں یعنی جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔
اس ہولناک منظر قیامت سے ہمیں پھر یہاں دنیا میں لایا جاتا ہے ، یہ سوال پیش ہوتا ہے کہ قیامت میں ان پہاڑوں کا کیا وہ گا۔ ان کو تو بس یہ پہاڑ بھی پڑے نظر آتے ہیں ۔ جواب میں اس وقت بھی نہایت ہی خوفناک اور ہولناک تصویر کشی کی جاتی ہے اور کہا اتا ہے تم پہاڑوں کا غم مت کرو خود اپنی فکر کرو کہ تم پر کیا گزرے گی۔
یہ نہایت خوفناک منظر ہے۔ یہ اونچے اونچے پہاڑ ریزہ ریزہ کر کے اور گرد و غابر بنا کر اڑا دیئے جائیں گے۔ اب بلندیوں کی جگہ ایک سیدھا میدان ہوگا۔ ایسا میدان جس میں کوئی نشیب و فرازنہ ہوگا۔ زمین بالکل ہموار ہوگی۔ یعنی تیز ہوا پہاڑوں کو دھوئیں کی طرح اڑا کر زمین کو بالکل میدان کر دے گی۔ تمام اگلے پچھلے لوگ اس چٹیل میدان میں کھڑے ہوں گے۔ لوگوں کی بات اور ان کی حرکت نہایت ہی خاموش اور بےآواز ہوگی۔ جب بھی کوئی منادی پکارنے والا ان کو کسی طرف بلائے گا تو بھیڑوں کے گلے کی طرح اس کے پیچھے نہایت اطاعت کے ساتھ چل پڑیں گے۔
یتبعون الداعی (02 : 801) ” منا دی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے۔ ‘ یعنی جس طرح زمین ہموار ہوگی اس طرح ان کے دل بھی ہموار ہوں گے ، فوراً حکم کی تعمیل کریں گے۔
اس فضا میں پوری طرح خاموشی ہوگی ، نہایت ہی خوفناک خاموشی
وخشعت الاصوات للرحمٰن فلا تسمع الاھمسا (02 : 801) ” اور آوازیں رحمن کے آگے دب جائیں گی ایک سرسراہٹ کے سوا تم کچھ نہ سنو گے۔ “
وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال میں سے کوئی عمل رہ جائے اور اس کی حق تلفی ہوجائے۔
یعنی ہم نے نہایت ہی موثر انداز میں شاہد قیامت ، مناظر عذاب ، اور عبرت آموز کہانیاں ابر بار پیش کی ہیں تکاہ لوگوں کے اندر نیکی کے لئے جوش پیدا ہو اور جھٹلانے والے ڈر جائیں اور جان لیں کہ قیامت میں ان کا انجام کس قدر ہولناک ہوگا۔ یہی مضمون سورة کے آغاز میں بھی تھا۔
ما انزلنا علیک القرآن لتشقی (2) الاتذکرہ لمن یخشی (02 : 2-3) ” یہ قرآن ہم نے تجھ پر اس لئے نازل نہیں کیا کہ تم مصیبت میں گرفتار ہو جائو بلکہ یہ تو اس شخص کے لئے یاد دہانی ہے جو ڈرے۔ “
جب جبرائیل وحی لے کر آتے تھے تو ابھی وہ پوری وحی نہ سنا چکتے کہ حضور دہرانا شروع کردیتے ، اس خوف سے کہ کہیں کوئی لفظ چھوٹ نہ جائے۔ ہر نئی وحی کا یاد کرنا آپ کے لئے شاق ہوتا تھا۔ چناچہ اللہ نے آپ کو یہ اطمینان دلا دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں ، اللہ اس کا ضامن ہے کہ آپ نہ بھولیں گے۔