سورہ طٰہٰ: آیت 115 - ولقد عهدنا إلى آدم من... - اردو

آیت 115 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

وَلَقَدْ عَهِدْنَآ إِلَىٰٓ ءَادَمَ مِن قَبْلُ فَنَسِىَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُۥ عَزْمًا

اردو ترجمہ

ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad AAahidna ila adama min qablu fanasiya walam najid lahu AAazman

آیت 115 کی تفسیر

آدم (علیہ السلام) کو حکم یہ تھا کہ وہ جنت کا ہر پھل کھائیں مگر ایک خاص درخت کا پھل نہ کھائیں۔ انسان کی تربیت اور اس کی قوت ارادی کو جانچنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے بعض چیزوں کی ممانعت کردی جائے تاکہ اس کی شخصیت پختہ ہو۔ یہ انسانی خواہشات اور مادی میلانات پر وہ کنٹرول کرسکے تاکہ وہ جب روحانی ترقی کے لئے اپنی ضروریات مادی کو کم کرنا چاہے تو کم کرسکے۔ وہ مرغوبات اور خواہشات کا غلام بن کر نہ رہ جائے۔ یہ وہ معیار ہے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ دنیا میں جن اقوام نے بھی ترقی کی ہے وہ ایسی رہی ہیں کہ انہوں نے اپنے نفس پر ضبط کیا ہے۔ ان کے مرغوبات کے استعمال میں اعتدال ہوتا ہے اور خواہشات سے وہ بلند رہے ہیں۔ انسانی تاریخ میں جب کوئی قوم بندہ مرغوبات اور دلدادہ لذات بنی ہے ، وہ روحانی اعتبار سے گر کر حیوانی درجہ تک جا پہنچی ہے۔

یہی وجہ تھی کہ اللہ نے انسان اول کو اس آزمائش میں ڈالا کیونکہ اس کو منصب خلافت ارضی کے لے تیار کرنا تھا کیونکہ یہاں انہی انسانوں نے کامیاب زندگی بسر کرنی تھی جو مضبوط قوت ارادی کے مالک ہوں۔ وہ لوگ جو شیطانی چمک دمک اور شیطانی وسواس اور مرغوبات کے حصول اور فراوانی کے مقابلے میں ضبط نفس کرسکتے ہیں۔ یہ تھا انسان کا ، پہلے انسان کا پہلا تجربہ۔ اب نتیجے کا اعلان ہوتا ہے۔

فنسی ولم ندلہ عزماً (02 : 511) ” وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عزم نہ پایا۔ “

آیت 115 وَلَقَدْ عَہِدْنَآ اِلآی اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ ”یعنی مخصوص درخت کے پاس نہ جانے کا عہد ‘ جس کا ذکر قرآن میں متعدد بار ہوا ہے۔فَنَسِیَ وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا ”آیت زیر نظر میں ”عزم“ کے دو ترجمے کیے گئے ہیں اور دونوں صحیح ہیں۔ ایک ارادے کی پختگی۔ اس لحاظ سے وَلَمْ نَجِدْ لَہٗ عَزْمًا کا مفہوم یہ ہوگا کہ ہم نے آدم علیہ السلام کے اندر ارادے کی پختگی ‘ ہمت اور عزیمت نہیں پائی۔ وہ اللہ سے کیے گئے اپنے عہد کو نبھا نہ سکے اور اس اعتبار سے انہوں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا۔ یہ دراصل انسانی خلقت کے اندر موجود اس کمزوری کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة النساء میں اس طرح آیا ہے : وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا کہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔اس کا دوسرا ترجمہ یہ کیا گیا ہے کہ ہم نے اس کے اندر سرکشی کا ارادہ نہیں پایا۔ یعنی آدم علیہ السلام نے جان بوجھ کر اس عہد کی خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ ہم نے ان علیہ السلام کی نیت میں سرکشی ‘ بغاوت اور نافرمانی کا کوئی ارادہ نہیں دیکھا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بھول گئے تھے ‘ ان پر نسیان طاری ہوگیا تھا ‘ جس کی وجہ سے انہیں وقتی طور پر اللہ کا وہ عہد یاد نہیں رہا تھا۔ نسیان دراصل انسان کی ایک فطری کمزوری ہے اور اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ عظیم دعا سکھائی ہے : رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِیْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ج البقرۃ : 286 کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارا مواخذہ نہ کرنا اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے خطا ہوجائے۔

انسان کو انسان کیوں کہا جاتا ہے ؟ حضرت عباس ؓ ما فرماتے ہیں انسان کو انسان اس لئے کہا جاتا ہے کہ اسے جو حکم سب سے پہلے فرمایا گیا یہ اسے بھول گیا۔ مجاہد اور حسن فرماتے ہیں اس حکم کو حضرت آدم ؑ نے چھوڑ دیا۔ پھر حضرت آدم ؑ کی شرافت و بزرگی کا بیان ہو رہا ہے کہ سورة بقرۃ سورة اعراف سورة حجر اور سورة کہف میں شیطان کے سجدہ نہ کرنے والے واقعہ کی پوری تفسیر بیان کی جاچکی ہے اور سورة ص میں بھی اس کا بیان آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ ان تمام سورتوں میں حضرت آدم ؑ کی پیدائش کا پھر ان کی بزرگی کے اظہار کے لئے فرشتوں کو انہیں سجدہ کرنے کے حکم کا اور ابلیس کی مخفی عداوت کے اظہار کا بیان ہوا ہے، اس نے تکبر کیا اور حکم الٰہی کا انکار کردیا۔ اس وقت حضرت آدم ؑ کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھ یہ تیرا اور تیری بیوی حضرت حوا ؑ کا دشمن ہے اس کے بہکاوے میں نہ آنا ورنہ محروم ہو کر جنت سے نکال دیے جاؤ گے اور سخت مشقت میں پڑجاؤ گے۔ روزی کی تلاش کی محنت سر پڑجائے گی۔ یہاں تو بےمحنت ومشقت روزی پہنچ رہی ہے۔ یہاں تو ناممکن ہے کہ بھوکے رہو ناممکن ہے کہ ننگے رہو اس اندورنی اور بیرونی تکلیف سے بچے ہوئے ہو۔ پھر یہاں نہ پیاس کی گرمی اندرونی طور سے ستائے، نہ دھوپ کی تیزی کی گرمی بیرونی طور پر پریشان کرے اگر شیطان کے بہکاوے میں آگئے تو یہ راحتیں چھین لی جائیں گی اور ان کے مقابل کی تکلیفیں سامنے آجائیں گی۔ لیکن شیطان نے اپنے جال میں انہیں پھانس لیا اور مکاری سے انہیں اپنی باتوں میں لے لیا قسمیں کھا کھا کر انہیں اپنی خیر خواہی کا یقین دلادیا۔ پہلے ہی سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان سے فرما دیا تھا کہ جنت کے تمام میوے کھانا لیکن اس درخت کے نزدیک نہ جانا۔ مگر شیطان نے انہیں اس قدر پھسلایا کہ آخرکار یہ اس درخت میں سے کھا بیٹھے۔ اس نے دھوکہ کرتے ہوئے ان سے کہا کہ جو اس درخت کو کھا لیتا ہے وہ ہمیشہ یہیں رہتا ہے۔ صادق ومصدوق آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے تلے سوار سو سال تک چلا جائے گا لیکن تاہم وہ ختم نہ ہوگا اس کا نام شجرۃ الخلد ہے (مسند احمد وابوداؤد طیالسی) دونوں نے درخت میں سے کچھ کھایا ہی تھا کہ لباس اتر گیا اور اعضا ظاہر ہوگئے۔ ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو گندمی رنگ کا لمبے قدوقامت والازیادہ بالوں والا بنایا تھا کھجور کے درخت جتنا قد تھا ممنوع درخت کو کھاتے ہی لباس چھن گیا۔ اپنے ستر کو دیکھتے ہی مارے شرم کے ادھر ادھر چھپنے لگے، ایک درخت میں بال الجھ گئے، جلدی سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے جب اللہ تعالیٰ نے آواز دی کہ آدم کیا مجھ سے بھاگ رہا ہے ؟ کلام رحمان سن کر ادب سے عرض کیا کہ اے اللہ مارے شرمندگی کے سرچھپانا چاہتا ہوں۔ اچھا اب یہ تو فرما دے کہ توبہ اور رجوع کے بعد بھی جنت میں پہنچ سکتا ہوں ؟ جواب ملا کہ ہاں۔ یہی معنی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے۔ آدم نے اپنے رب سے چند کلمات لے لئے جس کی بنا پر اللہ نے اسے پھر سے اپنی مہربانی میں لے لیا۔ یہ روایت منقطع ہے اور اس کے مرفوع ہونے میں بھی کلام ہے۔ جب حضرت آدم ؑ و حضرت حوا ؑ سے لباس چھن گیا تو اب جنت کے درختوں کے پتے اپنے جسم پر چپکانے لگے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں انجیر کے پتوں سے اپنا آپ چھپانے لگے۔ اللہ کی نافرمانی کی وجہ سے راہ راست سے ہٹ گئے۔ لیکن آخرکار اللہ تعالیٰ نے پھر ان کی رہنمائی کی۔ توبہ قبول فرمائی اور اپنے خاص بندوں میں شامل کرلیا۔ صحیح بخاری شریف وغیرہ میں ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت آدم ؑ میں گفتگو ہوئی۔ حضرت موسیٰ ؑ فرمانے لگے آپ نے اپنے گناہ کی وجہ سے تمام انسانوں کو جنت سے نکلوا دیا اور انہیں مشقت میں ڈال دیا۔ حضرت آدم ؑ جواب دیا اے موسیٰ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت سے اور اپنے کلام سے ممتاز فرمایا آپ مجھے اس بات پر الزام دیتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے پہلے مقدر اور مقرر کرلیا تھا۔ پس حضرت آدم ؑ نے اس گفتگو میں حضرت موسیٰ ؑ کو لاجواب کردیا۔ اور روایت میں حضرت موسیٰ ؑ کا یہ فرمان بھی ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا اور آپ میں آپ کی روح اس نے پھونکی تھی۔ اور آپ کے سامنے اپنے فرشتوں کو سجدہ کرایا تھا اور آپ کو اپنی جنت میں بسایا تھا۔ حضرت آدم ؑ کے اس جواب میں یہ بھی مروی ہے کہ اللہ نے آپ کو وہ تختیاں دیں جن میں ہر چیز کا بیان تھا اور سرگوشی کرتے ہوئے آپ کو قریب کرلیا بتلاؤ اللہ نے تورات کب لکھی تھی ؟ جواب دیا آپ سے چالیس سال پہلے پوچھا کیا اس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ حضرت آدم ؑ نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور راہ بھول گیا کہا ہاں۔ فرمایا پھر تم مجھے اس امر کا الزام کیوں دیتے ہو ؟ جو میری تقدیر میں اللہ تعالیٰ نے میری پیدائش سے بھی چالیس سال پہلے لکھ دیا تھا۔

آیت 115 - سورہ طٰہٰ: (ولقد عهدنا إلى آدم من قبل فنسي ولم نجد له عزما...) - اردو