قال علمھا ……ینسی (25)
فرعون کے اس دوسرے سوال کو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ پر چھوڑ دیا کیونکہ اس کا تعلق زمانہ ماقبل سے تھا۔ جو اب کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں اللہ خوب جانتا ہے ، وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور وہ کبھی بھولتا بھی نہیں۔ وہی ہے جو تمام زمانوں کی بات جانتا ہے ، ماضی ہو یا مستقبل ہو ، غیب بھی اللہ جانتا ہے اور اپنے بندوں کے بارے میں احکام بھی اللہ صادر کرے گا۔
ان سوالات کے جوابات کے بعد حضرت موسیٰ فرعون کے سامنے اللہ کا مزید تعارف کراتے ہیں کہ وہ اس کائنات کا مدبر ہے ، تمام انسانوں پر اس کی نعمتیں کیا کیا ہیں ، چناچہ کائنات اور مصری ماحول کے بعض اہم شواہد پیش کئے جاتے ہیں ، کیونکہ مصری سر زمین ایک سرسبز و شاداب زمین تھی۔ پانی وہاں وافر تھا اور فصل اور مویشی بکثرت تھے۔
آیت 52 قَالَ عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ کِتٰبٍج لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَلَا یَنْسَی ”میرا رب ہی جانتا ہے کہ ایسے لوگ جن کے پاس اللہ کی طرف سے دعوت لے کر کوئی رسول نہیں آیا ‘ ان کے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ میرا رب ان تمام لوگوں کے حالات سے خوب واقف ہے ‘ نہ تو اس سے غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی وہ بھولتا ہے۔ چناچہ ان کے بارے میں وہ خود ہی مناسب فیصلہ کرے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے درباریوں کو یہ مسکت جواب دینے کے بعد اپنی تقریر جاری رکھی :