ھذا الھکم والہ موسیٰ (02 : 88) ” یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰ کا خدا۔ “ موسیٰ اسے پہاڑ پر ڈھونڈ رہا ہے اور وہ یہ ہے ہمارے پاس ، اور موسیٰ نے رب کا راستہ ہی بھلا دیا۔
یہ ایک ایسی بات ہے جس سے ان کی بےشعوری اور کم عقلی بھی ظاہر ہوتی ہے اور یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے کہ وہ کس قدر آسانی سے اپنے اس نبی پر تہمت لگا رہے ہیں جس کے زیر قیادت ابھی ابھی اللہ کی زیر نگرانی اور زیر نظر انہوں نے نجات پائی اور عین اللہ کی ہدایات کے مطابق ان کو یہ آزادی حاصل ہوئی ۔ ایسے حالات میں ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے رب سے کوئی رابطہ نہیں رکھتے ، انہوں نے راستہ ہی خطا کردیا اور وہ رب تک پہنچ ہی نہ پائے۔ یہ ایک بہت بڑی جسارت ہے ان کی طرف سے لیکن وہ بنی اسرائیل تھے۔
یہ بات وہ بظاہر تو بطور عذر کر رہے ہیں لیکن درصال یہ ان کی جانب سے واضح دھوکہ ہے۔
آیت 88 فَاَخْرَجَ لَہُمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ”اس سلسلے میں جو مختلف روایات ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مصر میں اگرچہ اسرائیلی قوم کی حیثیت غلامانہ تھی مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تعلق کی وجہ سے ان کی دیانت داری مسلمّ تھی۔ چناچہ قبطی قوم کے لوگ اپنے زیورات اور دوسری قیمتی چیزیں اکثر ان کے پاس امانت رکھوایا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ مصر سے نکلے تو قبطی قوم کے بہت سے زیورات بھی وہ اپنے ساتھ لے آئے جو ان میں سے اکثر لوگوں کے پاس بطور امانت پڑے تھے۔ البتہ اس کا ان کے ذہن پر ایک بوجھ تھا کہ یہ ہمارے لیے جائز بھی ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے سامری نے بھی انہیں قائل کرلیا کہ اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان کو یہ زیورات پھینک دینے چاہئیں۔ چناچہ جب ان لوگوں نے وہ زیوارت پھینک دیے تو سامری نے انہیں پگھلا کر گائے کے بچھڑے کی شکل کا ایک مجسمہ بنا ڈالا ‘ اور اس میں خاص مہارت سے کچھ ایسے سوراخ رکھے کہ جب ان میں سے ہوا کا گزر ہوتا تو بیل کے ڈکرانے کی سی آواز پیدا ہوتی۔ اس کی دوسری توجیہہ وہ ہے جو سامری نے خود بیان کی اور اس کا ذکر آئندہ آیات میں آئے گا۔فَقَالُوْا ہٰذَآ اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ ”یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مغالطہ ہوا ہے جو وہ علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے لیے کوہ طور پر چلے گئے ہیں ‘ حالانکہ ہمارا اور ان علیہ السلام کا رب تو یہاں موجود ہے۔