سورہ طٰہٰ: آیت 89 - أفلا يرون ألا يرجع إليهم... - اردو

آیت 89 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

أَفَلَا يَرَوْنَ أَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَوْلًا وَلَا يَمْلِكُ لَهُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا

اردو ترجمہ

کیا وہ نہ دیکھتے تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afala yarawna alla yarjiAAu ilayhim qawlan wala yamliku lahum darran wala nafAAan

آیت 89 کی تفسیر

افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔

ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :

آیت 89 اَفَلَا یَرَوْنَ اَلَّا یَرْجِعُ اِلَیْہِمْ قَوْلاً لا ”کیا انہیں نظر نہیں آتا تھا کہ وہ بچھڑا ان کی کسی بات کو جواب نہیں دے سکتا تھا۔ اس میں سے تو ایک بےمعنی بھاں بھاں کی آواز نکلتی تھی اور بس !

آیت 89 - سورہ طٰہٰ: (أفلا يرون ألا يرجع إليهم قولا ولا يملك لهم ضرا ولا نفعا...) - اردو