سورہ طٰہٰ: آیت 94 - قال يا ابن أم لا... - اردو

آیت 94 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى

اردو ترجمہ

ہارونؑ نے جواب دیا "اے میری ماں کے بیٹے، میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تو آ کر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala ya bna omma la takhuth bilihyatee wala birasee innee khasheetu an taqoola farraqta bayna banee israeela walam tarqub qawlee

آیت 94 کی تفسیر

نظر آتا ہے کہ حضرت ہارون ٹھنڈے مزاج کے آدمی تھے اور حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنے جذبات پر قابو رکھتے تھے۔ وہ حضرت موسیٰ کے شعور میں ایک حساس یونٹ تلاش کرتے ہیں۔ برادری ایک حساس رشتہ ہے۔ اپنے خیال کے مطابق وہ یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ اگر میں آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا تو بنی اسرائیل کے اند رفرقہ بندی ہوجاتی۔ ایک گروہ بچھڑے کی حمایت میں اٹھ جاتا دوسرا میرے ساتھ ہوجاتا حالانکہ آپ کا حکم یہ تھا کہ بنی اسرائیل کی حفاظت اور نگرانی رکھ اور ان میں کوئی نئی بات پیدا ہونے نہ دو ، تو ان کو انتشار سے بچانا بھی اطاعت امر ہے۔

حضرت موسیٰ کے غضب اور غصے کا رخ سامری کی طرف مڑ جاتا ہے جس نے اس فتنے کو ایجاد کیا تھا۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ اس کی طرف اس لئے متوجہ نہیں ہوتے کہ لوگوں کا بھی یہ فریضہ تھا کہ وہ ہر کس و ناکس کی اطاعت نہ کریں۔ پھر حضرت ہارون کی ذمہ داری آتی ہے کیونکہ وہ بھی ذمہ دار تھے کہ بچھڑے کی وپجا کرنے والوں کی راہ روکتے۔ رہے سامری تو ان کی ذمہ داری سب سے آخر میں آتی ہے کیونکہ اس نے ان کو زبردستی بچھڑے کی عبادت کرنے پر مجبور نہیں کیا تھا۔ نہ اس نے ان کی عقل پر تالالگا دیا تھا۔ اس نے ان کو گمراہ کیا اور یہ گمراہ ہونے کے لئے تیار ہوگئے۔ ان کے بس میں یہ بات تھی کہ وہ اپنے پہلے بنی کی اطاعت کرتے ، پھر ان کا یہ فریضہ تھا کہ دوسرے نبی کی نصیحت پر عمل کرتے۔ لہٰذا اصل ذمہ داری پہلے قوم کی ہے ، پھر ان کے نگراں کی اور اس کے بعد اس شخص کی ہے جس نے یہ فتنہ پیدا کیا۔ چناچہ حضرت موسیٰ سب سے آخر میں اس کی طرف متوجہ ہوئے۔

اِنِّیْ خَشِیْتُ اَنْ تَقُوْلَ فَرَّقْتَ بَیْنَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”کہ تم نے ان کو تقسیم کر کے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِیْ ”حضرت ہارون علیہ السلام سے باز پرس کرنے کے بعد اب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سامری سے جواب طلب کیا۔

آیت 94 - سورہ طٰہٰ: (قال يا ابن أم لا تأخذ بلحيتي ولا برأسي ۖ إني خشيت أن تقول فرقت بين بني إسرائيل ولم ترقب...) - اردو