سورہ طٰہٰ (20): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Taa-Haa کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ طه کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ طٰہٰ کے بارے میں معلومات

Surah Taa-Haa
سُورَةُ طه
صفحہ 321 (آیات 126 سے 135 تک)

قَالَ كَذَٰلِكَ أَتَتْكَ ءَايَٰتُنَا فَنَسِيتَهَا ۖ وَكَذَٰلِكَ ٱلْيَوْمَ تُنسَىٰ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى مَنْ أَسْرَفَ وَلَمْ يُؤْمِنۢ بِـَٔايَٰتِ رَبِّهِۦ ۚ وَلَعَذَابُ ٱلْءَاخِرَةِ أَشَدُّ وَأَبْقَىٰٓ أَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ يَمْشُونَ فِى مَسَٰكِنِهِمْ ۗ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَٰتٍ لِّأُو۟لِى ٱلنُّهَىٰ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَأَجَلٌ مُّسَمًّى فَٱصْبِرْ عَلَىٰ مَا يَقُولُونَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ ٱلشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا ۖ وَمِنْ ءَانَآئِ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ ٱلنَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَىٰ وَلَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلَىٰ مَا مَتَّعْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَرِزْقُ رَبِّكَ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِٱلصَّلَوٰةِ وَٱصْطَبِرْ عَلَيْهَا ۖ لَا نَسْـَٔلُكَ رِزْقًا ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكَ ۗ وَٱلْعَٰقِبَةُ لِلتَّقْوَىٰ وَقَالُوا۟ لَوْلَا يَأْتِينَا بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّهِۦٓ ۚ أَوَلَمْ تَأْتِهِم بَيِّنَةُ مَا فِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ وَلَوْ أَنَّآ أَهْلَكْنَٰهُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِۦ لَقَالُوا۟ رَبَّنَا لَوْلَآ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ ءَايَٰتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوا۟ ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ أَصْحَٰبُ ٱلصِّرَٰطِ ٱلسَّوِىِّ وَمَنِ ٱهْتَدَىٰ
321

سورہ طٰہٰ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ طٰہٰ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اللہ تعالیٰ فرمائے گا "ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں، تُو نے بھُلا دیا تھا اُسی طرح آج تو بھلایا جا رہا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala kathalika atatka ayatuna fanaseetaha wakathalika alyawma tunsa

ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو جبکہ وہ تمہارے پاس آئی تھیں تو نے بھلا دیا تھا اسی طرح تو آج بھلایا جا رہا ہے۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو دنیا میں بدلہ دیتے ہیں اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔ “ جو شخص اللہ کی آیات سے منہ موڑتا ہے وہ اسراف کرتا ہے کیونکہ ہدایت اس کے قبضے میں ہوتی ہے اور وہ قیمتی دولت ہے اور یہ اسے پرے پھینک دیتا ہے۔ نیز وہ اپنی نظر کو غلط کاموں میں صرف کرتا ہے اور اس سے ان آیات کو نہیں دیکھتا جو اللہ تعالیٰ نے بھیجی ہیں ، لہٰذا اس کی معیشت بھی تنگ ہوگی اور قیامت میں وہ اندھا بھی ہوگا۔

یہاں تعبیر اور تصویر کشی میں مکمل ہم آہنگی ہے۔ جنت سے اترنا اور بدبختی اور گمراہی میں پڑنا اس کے مقابلے میں جنت کی طرف واپسی اور گمراہی اور مصیبت سے نجات۔ دنیا میں کشیادگی رزق اور اس کے مقابلے میں تنگ معیشت ، ہدایت کے مقابلے میں اندھا وہنا اور راہ نہ پانا۔ یہ تمام باہم مفہم قصہ آدم و قصہ بشریت کے ضمن میں ہیں جو پوری بشریت کی کہانی ہے۔ چناچہ اس منظر کا آغاز بھی مثبت ہے اور اختتام بھی جنت میں ہوتا ہے اور یہی انداز تعبیر سورة اعراف میں بھی ہے۔ مگر تعبیرات میں تصویر کشی کا انداز ، موقعہ و محل کے اعتبار سے دونوں سورتوں میں مختلف ہے۔

یہ تو تھا جنت کا ایک منظر اب اس دنیا میں زمانہ مضای قریب کی ہلاک شدہ اقوام کے واقعات کی طرف اشارہ۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کو آنکھیں دیکھ سکتی ہیں اور جن کے آثار اب تک موجود ہیں ، جبکہ جنت کے مناظر نظروں سے اوجھل عالم غیب میں تھے۔ نظریں ان کے آثار کو نہیں دیکھ سکتیں۔

اردو ترجمہ

اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے رب کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں) بدلہ دیتے ہیں، اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیر پا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika najzee man asrafa walam yumin biayati rabbihi walaAAathabu alakhirati ashaddu waabqa

اردو ترجمہ

پھر کیا اِن لوگوں کو (تاریخ کے اس سبق سے) کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی (برباد شدہ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ در حقیقت اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afalam yahdi lahum kam ahlakna qablahum mina alqurooni yamshoona fee masakinihim inna fee thalika laayatin liolee alnnuha

جب انسان اپنے دل و دماغ کو زمانہ ماضی کی ہلکا شدہ اقوام کی تاریخ پر مرکوز کرتا ہے اور ان کے کھنڈرات کو ، وادیوں اور پہاڑیوں میں دیکھتا ہے تو اگرچہ یہ لوگ کب کے ہلکا ہوگئے ہیں لیکن ان کی بڑی بڑی شخصیات ، ان کی بھاگتی ہوئی شکلیں ، ان کی حرکات و سکنات ، ان کی امنگیں اور آرزوئیں ، ان کی پریشانیاں اور ان کے منصوبے انسان کے ذہن کو بھر دیتے ہیں او انسان جب تک آنکھیں بند کر کے محض تصور ہی کرے تو یہ پوری دنیا ہمارے ذہن کی اسکرین پر بھی نظر آتی ہے اور جب انسان اچانک آنکھ کھولے تو نظر آتا ہے کہ ماضی کی عقوبت نے ان سب بستیوں کو ہڑپ کرلیا ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ دست قدرت نے کس طرح ان لوگوں کو اور ان تہذیبوں کو نیست و نابود کردیا ہے۔ اس طرح زمانہ حال کے ان غافلوں کو بھی دست قدرت نابود کرسکتا ہے۔ یوں اس طرز تصور سے اس آیت کا مفہوم اور قرآن کا انداز بیان اور عبرت آموزی اچھی طرح انسان کے ذہن میں آجاتی ہے۔ تعجب ہے کہ لوگ کیوں عبرت حاصل نہیں کرتے حالانکہ ان کھنڈرات میں تو عبرت کے بہت بڑے سامان ہیں بشرطیکہ عقل سلیم ہو۔

اگر اللہ نے پہلے سے فیصلہ نہ کردیا ہوتا اور یہ بات اللہ کی خاص حکمت کے تحت طے نہ ہوگئی ہوتی تو اللہ اہل قریش کو بھی بعینہ اسی طرح نیست و نابود کردیتا اور یہ بھی نمونہ عبرت بن جاتے لیکن ان کو ایک مقررہ وقت تک مہلت مل چکی ہے۔

اردو ترجمہ

اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرّر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walawla kalimatun sabaqat min rabbika lakana lizaman waajalun musamman

ولولا کلمۃ سبقت من ربک لکان لزاماً واجل مسمی (02 : 921) ” اگر تیرے رب کی طرف سے پہلے ایک بطے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور ان کا بھی فیصلہ چکا دیا گیا ہوتا۔ “ اگرچہ یہ لوگ ایک وقت مقررہ تک مہلت پا چکے ہیں لیکن ان کو یونہی نہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کو جو شان و شوکت اور جو زیب وزینت دی گئی ہے آپ اس کے ذمہ دار نہیں۔ یہ ان کے لئے سخت آزمائش ہے اور یہ ان کے لئے بہت بڑا فتنہ ہے۔ اللہ نے جو کچھ تجھے بطور انعام دیا ہے۔ وہ ان کے اس فتنے کے طور پر دیئے ہونے سے بہتر ہے۔

اردو ترجمہ

پس اے محمدؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، شاید کہ تم راضی ہو جاؤ

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faisbir AAala ma yaqooloona wasabbih bihamdi rabbika qabla tulooAAi alshshamsi waqabla ghuroobiha wamin anai allayli fasabbih waatrafa alnnahari laAAallaka tarda

یہ لوگ کفر اور مذاق اور سرکشی اور اعراض کرتے ہوئے جو کچھ بھی کہتے ہیں اس پر آب پریشان نہ ہوں اور نہ اپنی جان ان کے لئے کھپائیں ، پس اب ان پر حجت تمام ہے کہ آپ صبح و شام رب کی عبادت کریں۔ صبح کے پرسکون وقت میں خدا کی یاد اور غروب آفتاب کے وقت کے سکون میں خدا کی یاد جس وقت ، یہ پوری کائنات آنکھیں بند کرتی ہے اور رات اور دن کے دو پرسکون اطراف میں خدا کی یاد ، دلوں کو بہت سکون فراہم کرتی ہے اور اللہ کی رضامندی کا باعث ہوتی ہے۔

اللہ کی تسبیح وثنا سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے اور اللہ کے قریب سے حاصل ہوتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو نہایت ہی اطمینان بشخ اور فرحت بخش ذات کی رفاقت میں محسوس کرتا ہے اور اس کے دامن رحمت میں مامون ہوتا ہے۔ تسبیح و عبادت کا پھل تو رضائے الٰہی ہے لیکن اس سے قبل مومن میں اندر سے سکون و اطمینان اگتا ہے اور طمانیت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ یہ اس فعل کا نوری انعام ہے۔ اے محمد ﷺ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی طرف متوجہ ہو جائو اور ولاتمدن عیینک الی مامتعنا بہ ازوجاً منھم (02 : 131) ” اور نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھو ، دنیوی زندگی کی اس شان و شوکت کو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ “ دنیا کا ساز و سامان ، سامان آرائش و زیبائش ، مال و متاع ، جاہ و متاع۔ جاہ و مرتبہ ، زھرۃ الحیوۃ الدنیا (02 : 131) ” حیات دنیا کا پھول “ یہ زندگی اس طرح نمودار ہوتی ہے جس طرح کسی پودے پر نرم و نازک پھول ، چمکدار ار دلکش ، لیکن پھول سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش ، ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال شام تک مرجھا جانے والا ، اگرچہ بہت ہی دلکش۔ ہم ان کو زندگی کا یہ سریع الزوال پھول دے کر آزماتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اس پھول کے ساتھ یہ لوگ کیا سلوک کرتے ہیں۔

اردو ترجمہ

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے وہ تو ہم نے انہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال ہی بہتر اور پائندہ تر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tamuddanna AAaynayka ila ma mattaAAna bihi azwajan minhum zahrata alhayati alddunya linaftinahum feehi warizqu rabbika khayrun waabqa

ورزق ربک خیر و ابقی (02 : 131) ” اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق ہی اچھا اور پائندہ ہے۔ “ اللہ کا دیا ہوا رزق ایک نعمت ہوتی ہے ، آزمائش نہیں۔ رزق حلال اچھا ہوتا ہے اور باقی رہتا ہے وہ دھوکہ بھی نہیں دیتا اور فتنہ بھی پیدا نہیں کرتا۔

یہ حیات دنیا کو چھوڑ دینے کی دعوت نہیں ہے لیکن اس میں یہ پیغام ضرور ہے کہ حقیقی اور پائیدار اقدار کو اہمیت دو ، اور یہ پائیدار اقدار تعلق باللہ اور اللہ کی رضامندی میں ہیں۔ لوگوں کو دنیا کے ساز و سامان کے آگے گر نہیں جانا چاہئے۔ ہم کہیں اعلیٰ اقدار پر فخر کرنے کی صفت کو گم ہی نہ کردیں۔ دنیا کا وہ ساز و سامان جو نظروں کو چکا چوند کردیتا ہے۔ یہ کہیں تمہاری نظر بلند کو پست نہ کر دے۔ اس کے مقابلے میں سربلند رہنا۔

اردو ترجمہ

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو اور خود بھی اس کے پابند رہو ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamur ahlaka bialssalati waistabir AAalayha la nasaluka rizqan nahnu narzuquka waalAAaqibatu lilttaqwa

وامر اھلک بالصلوۃ (02 : 231) ” اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو۔ “ ایک مسلمان کا پہلا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے گھر کو ایک مسلمان کا گھر بنائے۔ اپنے اہل و عیال کو وہ فریضہ ادا کرنے پر ابھارے جو اسے اللہ سے مربوط کرتا ہے تاکہ اس کے گھر میں یکجہتی پیدا ہو اور کیا ہی خوش نصیب ہوگا وہ گھر جس کے اندر پوری یکجہتی ہو۔

و اصطبرعلیھا (02 : 231) ” اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ “ نماز کو پ وری طرح قائم کرو۔ اس کے آثار اپنے اندر پیدا کرو ، بیشک نماز فحاشی اور منکرات سے بچاتی ہے۔ یہ ہیں نماز کے صحیح آثار۔ جب کوئی گھرانا نماز پر جم جاتا ہے تو اس سے پھر یہ آثار پیدا ہوتے ہیں ، اس کے شعور میں اور اس کے ہر طرز عمل میں۔ اگر نماز کے آثار پیدا نہیں ہوتے تو قائم شدہ نماز نہیں ہے۔ یہ محض حرکات و کلمات ہیں۔

یہ نماز ، یہ عبادت ، یہ اللہ سے رابطہ اور یہ فرائض اللہ کے لئے مفید نہیں ، اللہ تو ان سے غنی ہے ، ان کا اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔

لانسئلک رزقا نحن نرزقک (02 : 231) ” ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے ، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔ تمہیں دے رہے ہیں۔ “ یہ عبادات تو اس لئے ہیں کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف پیدا ہو۔

والعاقبۃ للتقویٰ (02 : 231) ” اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لئے ہے۔ “ انسان ان عبادات سے دنیا میں بھی مفاد اٹھاتا ہے اور آخرت میں بھی۔ وہ عبادت کرتا ہے تو خود بھی خوش ہوتا ہے۔ مطمئن ہوتا ہے سکون حاصل کرتا ہے اور آخرت میں ان عبادات کا اجر بھی اسے ہی ملتا ہے۔

اب آخر میں ان اہل ثروت اور با اثر لوگوں پر ایک تبصرہ آتا ہے جو حضرت نبی ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے تھے کہ آپ کوئی خارق عادت معجزہ پیش کریں۔ ان سے کہا جاتا ہے کہ کیا یہ قرآن تمہارے لئے کافی نہیں۔

اردو ترجمہ

وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں آ گیا؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo lawla yateena biayatin min rabbihi awalam tatihim bayyinatu ma fee alssuhufi aloola

یہ تو ہٹ دھرمی اور مکابرہ ہے۔ محض سوال کرنے کی خاطر یہ سوال کیا گیا ، ورنہ قرآن کا معجزہ کیا کافی معجزہ نہیں ہے۔ قرآن موجودہ رسالت کا جوڑ زمانہ ماقبل کی رسالتوں سے لگاتا ہے۔ وہی تعلیمات پیش کرتا ہے ، جو پہلے رسولوں نے پیش کی ہیں بلکہ جن باتوں کا وہاں اجمال تھا یہاں ان کی تفصیل دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی آخر الزمان کو تو بطور اتمام حجت بھیجا ہے۔

اردو ترجمہ

اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تو نے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw anna ahlaknahum biAAathabin min qablihi laqaloo rabbana lawla arsalta ilayna rasoolan fanattabiAAa ayatika min qabli an nathilla wanakhza

یہ لوگ اس وقت ذلیل اور رسوا نہیں ہوئے تھے جب ان پر قرآن کی یہ آیات پڑھی جا رہی تھیں بلکہ یہ تو ان کے فیصلہ شدہ انجام کی ایک تصویر کشی ہے جس میں وہ لازماً رہیں گے۔ یہ آیات ان پر بطور اتمام حجت آگئیں تاکہ وہ قیامت کے دن ایسا نہ کہہ سکیں اور ان کے لئے کوئی عذر و معذرت باقی نہ رہے کہ ہمارے لئے کوئی پیغام نہیں آیا۔

جب بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ان کا حتمی انجام یہ ہے کہ یہ ذلیل اور رسوا ہونے والے ہیں تو قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ، ان کا فیصلہ تو ہوچکا ہے۔

حف القلم بما ھو کائن پریشان نہ ہوں کہ یہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔ اعلان کردیں کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی انتظار کرتا ہوں۔

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، ان سے کہو، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں ہے، پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul kullun mutarabbisun fatarabbasoo fasataAAlamoona man ashabu alssirati alssawiyyi wamani ihtada

یوں اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس فقرے سے ہوا تھا کہ اے نبی آپ پر یہ قرآن اس لئے نازل نہیں کیا گیا کہ آپ کسی مصیبت میں گھر جائیں بلکہ یہ ان لوگوں کے لئے نصیحت ہے جن کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ چناچہ سورة کا یہ خاتمہ بھی آغاز سے ہم آہنگ ہے کہ یہ ادنی تذکرہ ہے۔ اس شخص کے لئے جسے کوئی تذکرہ فائدہ دیتا ہو۔ جب یہ تذکرہ تم تک پہنچ گیا تو اب انتظار نتیجہ کے سوا کیا بات رہ جاتی ہے اور نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

321