وما انزلنا علی۔۔۔۔۔ فاذا ھم خمدون (28 – 29) ان سرکشوں کا کیا انجام ہوا ، یہاں اللہ تعالیٰ ان کو حقیر سمجھتے ہوئے قلم زد فرما دیتا ہے۔ ان حقیر لوگوں کے خلاف کسی لشکر کشی کی ضرورت نہ تھی۔ بس اچانک ایک دھماکہ ہوا ، ایک سخت چیخ اٹھی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔ یہاں اب ان لوگوں کے اس حسرتناک ، ذلت آمیز اور توہین آمیز انجام پر پردہ گرتا ہے۔ اور یہ منظر یہاں لپیٹ لیا جاتا ہے
آیت 28 { وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ } ”اور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم لشکر نازل کرنے والے تھے۔“ اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔