سورہ یٰسین (36): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yaseen کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یٰسین کے بارے میں معلومات

Surah Yaseen
سُورَةُ يسٓ
صفحہ 442 (آیات 28 سے 40 تک)

۞ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ قَوْمِهِۦ مِنۢ بَعْدِهِۦ مِن جُندٍ مِّنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا كُنَّا مُنزِلِينَ إِن كَانَتْ إِلَّا صَيْحَةً وَٰحِدَةً فَإِذَا هُمْ خَٰمِدُونَ يَٰحَسْرَةً عَلَى ٱلْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ أَلَمْ يَرَوْا۟ كَمْ أَهْلَكْنَا قَبْلَهُم مِّنَ ٱلْقُرُونِ أَنَّهُمْ إِلَيْهِمْ لَا يَرْجِعُونَ وَإِن كُلٌّ لَّمَّا جَمِيعٌ لَّدَيْنَا مُحْضَرُونَ وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلْأَرْضُ ٱلْمَيْتَةُ أَحْيَيْنَٰهَا وَأَخْرَجْنَا مِنْهَا حَبًّا فَمِنْهُ يَأْكُلُونَ وَجَعَلْنَا فِيهَا جَنَّٰتٍ مِّن نَّخِيلٍ وَأَعْنَٰبٍ وَفَجَّرْنَا فِيهَا مِنَ ٱلْعُيُونِ لِيَأْكُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦ وَمَا عَمِلَتْهُ أَيْدِيهِمْ ۖ أَفَلَا يَشْكُرُونَ سُبْحَٰنَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلْأَزْوَٰجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنۢبِتُ ٱلْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ وَءَايَةٌ لَّهُمُ ٱلَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ ٱلنَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ وَٱلشَّمْسُ تَجْرِى لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ ٱلْعَزِيزِ ٱلْعَلِيمِ وَٱلْقَمَرَ قَدَّرْنَٰهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَٱلْعُرْجُونِ ٱلْقَدِيمِ لَا ٱلشَّمْسُ يَنۢبَغِى لَهَآ أَن تُدْرِكَ ٱلْقَمَرَ وَلَا ٱلَّيْلُ سَابِقُ ٱلنَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِى فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
442

سورہ یٰسین کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یٰسین کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

اس کے بعد اُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama anzalna AAala qawmihi min baAAdihi min jundin mina alssamai wama kunna munzileena

آیت 28 { وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْم بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ } ”اور اس کے بعد ہم نے اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم لشکر نازل کرنے والے تھے۔“ اپنے منکروں اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کو آسمانوں سے کوئی فوج اتارنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اردو ترجمہ

بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

In kanat illa sayhatan wahidatan faitha hum khamidoona

آیت 29 { اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ہُمْ خٰمِدُوْنَ } ”وہ تو بس ایک زور دار چنگھاڑ تھی ‘ جبھی وہ سب بجھ کر رہ گئے۔“ اس یکبارگی خوفناک چنگھاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ پوری آبادی چشم ِزدن میں گویا راکھ کا ڈھیر بن کر رہ گئی۔

اردو ترجمہ

افسوس بندوں کے حال پر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya hasratan AAala alAAibadi ma yateehim min rasoolin illa kanoo bihi yastahzioona

آیت 30 { یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِج مَا یَاْتِیْہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِئُ وْنَ } ”افسوس ہے بندوں کے حال پر ! نہیں آتا ان کے پاس کوئی پیغمبر مگر وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے ہیں۔“

اردو ترجمہ

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alam yaraw kam ahlakna qablahum mina alqurooni annahum ilayhim la yarjiAAoona

آیت 31 { اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَہْلَکْنَا قَبْلَہُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّہُمْ اِلَیْہِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ } ”کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی نسلوں کو ہلاک کردیا کہ وہ ان کی طرف لوٹ کر نہیں آتے !“ ایک دفعہ دنیا سے چلے جانے کے بعد کسی کو بھی دوبارہ یہاں آنے کا موقع نہیں ملتا۔ چناچہ ان اقوام کے لوگ نیست و نابود ہو کر ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔

اردو ترجمہ

ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wain kullun lamma jameeAAun ladayna muhdaroona

آیت 32 { وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ سب کے سب ہمارے ہی سامنے حاضر کیے جائیں گے۔“ اگرچہ دنیا میں واپس آنے کی تو انہیں اجازت نہیں مگر وہ معدوم نہیں ہوئے۔ عالم برزخ میں وہ سب کے سب اب بھی موجود ہیں اور وقت آنے پر ان میں سے ایک ایک کو پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کردیا جائے گا۔

اردو ترجمہ

اِن لوگوں کے لئے بے جان زمین ایک نشانی ہے ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waayatun lahumu alardu almaytatu ahyaynaha waakhrajna minha habban faminhu yakuloona

آیت 33 { وَاٰیَۃٌ لَّـہُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی ُ مردہ زمین ہے“ { اَحْیَیْنٰہَا وَاَخْرَجْنَا مِنْہَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ } ”ہم نے اسے زندہ کیا اور اس سے اناج نکالا ‘ تو اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔“ بارش برستے ہی بظاہر مردہ اور بنجر زمین میں زندگی کے آثار نمودار ہوجاتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے طرح طرح کا سبزہ ‘ فصلیں اور پودے اگ آتے ہیں جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اردو ترجمہ

ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر چشمے پھوڑ نکالے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WajaAAalna feeha jannatin min nakheelin waaAAnabin wafajjarna feeha mina alAAuyooni

آیت 34 { وَجَعَلْنَا فِیْہَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ } ”اور ہم نے بنا دیے ہیں اس میں باغات کھجور اور انگور کے“ { وَّفَجَّرْنَا فِیْہَا مِنَ الْعُیُوْنِ } ”اور جاری کردیے ہیں ہم نے اس میں چشمے۔“

اردو ترجمہ

تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Liyakuloo min thamarihi wama AAamilathu aydeehim afala yashkuroona

آیت 35 { لِیَاْکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْط اَفَلَا یَشْکُرُوْنَ } ”تاکہ یہ ان کے پھلوں میں سے کھائیں ‘ اور یہ سب ان کے ہاتھوں نے تو نہیں بنایا ‘ تو کیا تم لوگ شکر نہیں کرتے ؟“ یہ کھجوریں ‘ انگور اور طرح طرح کے دوسرے پھل جو یہ لوگ کھاتے ہیں ‘ یہ ان کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے تو نہیں ہیں۔ یہ مضمون سورة الواقعہ کے دوسرے رکوع میں زیادہ زور دار اور موثر انداز میں بیان ہوا ہے۔ وہاں تکرار کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مختلف تخلیقات کا ذکر کر کے ہر بار یہ سوال کیا گیا ہے کہ ذرا بتائو ! یہ چیز تم نے بنائی ہے یا اس کو بنانے والے ہم ہیں ؟ علامہ اقبالؔ نے اس مضمون کی ترجمانی یوں کی ہے : ؎پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون ؟کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب ؟کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار ؟خاک یہ کس کی ہے ؟ کس کا ہے یہ نور آفتاب ؟

اردو ترجمہ

پاک ہے وہ ذات جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوع انسانی) میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Subhana allathee khalaqa alazwaja kullaha mimma tunbitu alardu wamin anfusihim wamimma la yaAAlamoona

آیت 36 { سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّہَا } ”پاک ہے وہ ذات جس نے پیدا کیا ہے تمام جوڑوں کو“ م { مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُوْنَ } ”اس میں سے بھی جو زمین اگاتی ہے ‘ اور خود ان کی اپنی جانوں سے بھی اور اس میں سے بھی جن کے بارے میں یہ نہیں جانتے۔“ زمین سے اگنے والے سب نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں ‘ انسانوں کی تخلیق بھی جوڑوں کی صورت میں ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بہت سی دوسری مخلوقات بھی جوڑوں کی شکل میں ہیں جن کے بارے میں انسان ابھی جانتا بھی نہیں ہے۔

اردو ترجمہ

اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waayatun lahumu allaylu naslakhu minhu alnnahara faitha hum muthlimoona

آیت 37 { وَاٰیَۃٌ لَّہُمُ الَّیْلُج نَسْلَخُ مِنْہُ النَّہَارَ فَاِذَا ہُمْ مُّظْلِمُوْنَ } ”اور ان کے لیے ایک نشانی رات بھی ہے ‘ ہم کھینچ لیتے ہیں اس سے دن کو ‘ تو اس وقت یہ اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔“ یہ ایسے ہے جیسے ایک سیاہ چادر بچھی ہو ‘ جسے ایک چمکدار چادر نے ڈھانپ رکھا ہو۔ پھر اوپر والی سفید اور چمکدار چادر کھینچ لی جائے اور نیچے سے سیاہ چادر نمودار ہوجائے۔

اردو ترجمہ

اور سورج، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalshshamsu tajree limustaqarrin laha thalika taqdeeru alAAazeezi alAAaleemi

آیت 38 { وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّہَا } ”اور سورج چلتا رہتا ہے اپنے مقررہ راستے پر۔“ یعنی اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے۔ { ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ } ”یہ اندازہ مقرر کیا ہوا ہے اس کا جو بہت زبردست ‘ بہت علم والا ہے۔“

اردو ترجمہ

اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waalqamara qaddarnahu manazila hatta AAada kaalAAurjooni alqadeemi

آیت 39 { وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ } ”اور چاند کی ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں ‘ یہاں تک کہ وہ پھر کھجور کی پرانی سوکھی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔“ ستائیسویں شب کی صبح کو دیکھیں تو چاند واقعی ایک سوکھی ہوئی ٹہنی کی طرح دکھائی دیتا ہے۔

اردو ترجمہ

نہ سورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

La alshshamsu yanbaghee laha an tudrika alqamara wala allaylu sabiqu alnnahari wakullun fee falakin yasbahoona

آیت 40 { لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَہَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا الَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ } ”نہ تو سورج کے لیے ممکن ہے کہ وہ چاند کو پکڑ لے اور نہ ہی رات دن سے آگے نکل سکتی ہے۔“ جب تک یہ دنیا قائم ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے ہی چلتے رہیں گے۔ { وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ } ”‘ اور یہ سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں۔“ یہ تمام اجرامِ سماویہ بہت منظم انداز میں اپنے اپنے مدار کے اندر محو ِگردش ہیں۔

442