سورہ یٰسین: آیت 81 - أوليس الذي خلق السماوات والأرض... - اردو

آیت 81 کی تفسیر, سورہ یٰسین

أَوَلَيْسَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ بِقَٰدِرٍ عَلَىٰٓ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم ۚ بَلَىٰ وَهُوَ ٱلْخَلَّٰقُ ٱلْعَلِيمُ

اردو ترجمہ

کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلاق ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalaysa allathee khalaqa alssamawati waalarda biqadirin AAala an yakhluqa mithlahum bala wahuwa alkhallaqu alAAaleemu

آیت 81 کی تفسیر

اولیس الذی۔۔۔۔۔ الخلق العلیم (36: 81) ” کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کردیا اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے کیوں نہیں ! جبکہ وہ ماہر خلاق ہے “۔

آسمان اور زمین اور یہ وسیع کائنات تو ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ زمین جس پر ہم رہتے ہیں اور اس میں لاکھوں ملین اجناس و اصناف مخلوقات موجود ہیں ، بعض اس قدر باریک کہ ہم ان کے حجم ہی کو نہیں پکڑ سکتے۔ نہ ہم ان کی حقیقت کو پاسکتے ہیں ۔ اور ان کے بارے میں آج تک ہم بہت کم جانتے ہیں۔ یہ زمین اس سورج کے کہکشاں میں سے ایک چھوٹا سا تابع سیارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ اس میں ہم سورج کی روشنی اور حرارت سے رہتے ہیں اور ہمارا یہ سورج جس کہکشاں کے تابع ہے ، اس کے اندر ایک کروڑ ستاروں میں سے سورج ایک ہے جس سے ہماری قریب کی یہ دنیا بنتی ہے۔ یہ بات نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اس جہاں میں کئی اور کہکشاں ہیں۔ اور کئی ایسی دنیا ئیں ہیں جس طرح ہماری قریب کی دنیا ہے۔ ماہرین فلکیات ابھی تک ایک کروڑ کہکشاؤں تک شمار کرسکتے ہیں اور یہ شمار انہوں نے اپنی محدود طاقت والی دوربینوں سے کیا ہے ۔ اور وہ اس انتظار میں ہیں کہ کئی اور کہکشاں دریافت ہوں گے جب طاقتور رصدگاہیں اور بہت ہی دور تک دکھانے والی دوربینیں بنا دی جائیں گی۔ ہماری اس کہکشاں اور اس سے قریب ترین کہکشاں کے درمیان فاصلہ کتنا ہے ؟ سات لاکھ پچاس ہزار نوری سال کا فاصلہ ہے۔ اور ایک نوری سال کا فاصلہ کیا ہوتا ہے یعنی 26 ملین میل۔ کہتے ہیں کہ طبعی مواد کا ایک عظیم ڈھیر یا گور تھا اور اس کے بکھرنے سے یہ سورج بنے ہیں۔ یہ ہے اللہ کی وسیع کائنات اور اس کی وسیع کرسی اور اس کے بارے میں ہمارے حقیر اور محدود معلومات۔

یہ سورج جن کو گنا نہیں جاسکتا ان میں سے ہر ایک کا ایک مدار یا آسمان اور فلک ہے جس کے اندر یہ سورج چلتا ہے اور ان سورجوں میں سے ہر سورج کے اپنے تابع اجرام ہیں جن کے اپنے اپنے مدار ہیں۔ وہ ان مداروں میں اپنے اپنے سورجوں کے گرد گھومتے ہیں۔ جس طرح ہماری زمین ہمارے سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ تمام گھومنے والے اربوں سورج اور چاند اور ستارے نہایت ہی دقیق اور متعین رفتار کے ساتھ چلتے ہیں اور کبھی اپنی رفتار اور مدار کو نہیں بدلتے۔ ایک لمحہ کے لیے نہیں رکتے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کائنات کے تمام مجموعے جو اس وقت ان فضاؤں میں تیر رہے ہیں ، سب باہم متصادم ہوجائیں اور یہ تمام نظام درہم برہم ہوجائے۔

یہ فضا جس میں اربوں اجرام فلکی چکر لگا رہے ہیں اور جن کی تعداد بھی ابھی تک معلوم نہیں ، یوں ہیں جس طرح چھوٹے چھوٹے ذرے ہیں۔ نہ ان کی تصویر کشی ہو سکتی ہے اور نہ یہ دائرہ تصور میں آسکتے ہیں۔ یہ اس قدر وسیع و عریض کائنات کے حصے ہیں جس کے تصور ہی سے سر چکرا جاتا ہے۔ اولیس الذی۔۔۔۔ یخلق مثلھم (36: 81) ” وہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اس پر قادر نہیں کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے “۔ لوگوں کی تخلیق تو ایک معمولی بات ہے جبکہ یہ کائنات بہت ہی وسیع اور عظیم ہے۔

بلی وھو الخلق العلیم (36: 81) ” ہاں وہ ماہر خلاق ہے “۔ اللہ نے یہ سب چیزیں پیدا کیں وہ ان کے علاوہ اور چیزوں کو بھی پیدا کرسکتا ہے اور بغیر کسی تکلیف اور محنت کے۔ اللہ کے لیے چھوٹی یا بڑی چیز کی تخلیق میں کوئی فرق نہیں ہے۔

آیت 81 { اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَہُمْ } ”تو کیا جس نے پیدا کیا آسمانوں کو اور زمین کو ‘ وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسی مخلوق دوبارہ پیدا کر دے !“ یہاں پر یَخْلُقَ مِثْلَہُمْکے الفاظ میں ایک اہم مضمون بیان ہوا ہے جو اس آیت کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد بار آیا ہے۔ مطلب یہ کہ جب ہمیں دوبارہ پیدا کیا جائے گا تو ہم میں سے ہر ایک کو بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں دیا جائے گا بلکہ ”اس جیسا“ جسم دیا جائے گا۔ اس کی عقلی توجیہہ یہ ہے کہ انسان کا جسم تو اس کی زندگی میں بھی مسلسل تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس میں مسلسل تغیرات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ کھال سمیت جسم کے تمام اعضاء کے خلیات اور خون کے سرخ وسفید خلیات مسلسل ختم ہوتے رہتے ہیں اور ان کی جگہ نئے نئے خلیات بنتے رہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میرا جو جسم دس سال پہلے تھا وہ آج ختم ہوچکا ہے اور اس کی جگہ بالکل ایک نیا جسم بن چکا ہے۔ اسی طرح آج میرا جو جسم ہے چند سال بعد اس کی یہ ہیئت تبدیل ہوجائے گی۔ گویا بچپن میں جسم کی جو کیفیت ہوتی ہے ‘ جوانی تک پہنچتے پہنچتے وہ کیفیت بالکل بدل جاتی ہے ‘ جبکہ بڑھاپے کی عمر میں جوانی والے جسم کی ہیئت بھی مکمل طور پر تبدیل ہوجاتی ہے۔ بہر حال ہر انسان کو دوبارہ اٹھنے پر جو جسم دیا جائے گا وہ بعینہٖ دنیا والا جسم نہیں ہوگا ‘ بلکہ ”اس جیسا“ جسم ہوگا اور اس کی شکل کی سی شکل ہوگی۔ دنیا کی زندگی میں جس جسم سے اس نے نیک یا برے اعمال کمائے ہوں گے ‘ اسی طرح کے جسم کے ساتھ اسے ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ کا ایک فرمان بھی اس کے لیے دلیل فراہم کرتا ہے جو بالعموم آپ ﷺ کی خوش طبعی کی مثال کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کے پاس ایک دفعہ ایک بوڑھی خاتون حاضر ہوئی اور اپنے لیے جنت کی دعا کی درخواست کی۔ آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا : ”اے اُمّ فلاں ! جنت میں بوڑھی عورتیں تو داخل نہیں ہوں گی“۔ اس پر وہ سادہ لوح خاتون رنجیدہ ہو کر رونے لگی۔ آپ ﷺ نے یہ دیکھا تو اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا : اَنَّ الْعَجُوْزَ لَنْ تَدْخُلَ الْجَنَّۃَ عَجُوْزًا بَلْ یُنْشِئُھَا اللّٰہُ خَلْقًا آخَرَ ، فَتَدْخُلُھَا شَابَّـۃً بِکْرًا ”بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں ہرگز جنت میں داخل نہیں ہوں گی بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں ایک اور ہی اٹھان پر اٹھائے گا ‘ پس تم نوجوان کنواری بن کر جنت میں داخل ہوگی“۔ اور پھر آپ ﷺ نے اس خاتون کو یہ آیات پڑھ کر سنائیں : { اِنَّــآ اَنْشَاْنٰـھُنَّ اِنْشَآئً فَجَعَلْنٰـھُنَّ اَبْکَارًا عُرُبًا اَتْرَابًا۔ } الواقعۃ ”ان کو ہم ایک خاص اٹھان پر اٹھائیں گے ‘ اور ان کو باکرہ بنائیں گے ‘ محبت کرنے والی ‘ ہم عمر۔“ 1 { بَلٰیق وَہُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ } ”کیوں نہیں ! جبکہ وہ تو بہت تخلیق فرمانے والا ‘ سب کچھ جاننے والا ہے۔“

اللہ ہر چیز پر قادر۔ اللہ تعالیٰ اپنی زبردست قدرت بیان فرما رہا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور ان کی سب چیزوں کو پیدا کیا۔ زمین کو اس کے اندر کی سب چیزوں کو بھی اسی نے بنایا۔ پھر اتنی بڑی قدرتوں والا انسانوں جیسی چھوٹی مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے یہ تو عقل کے بھی خلاف ہے، جیسے فرمایا (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی اور اہم ہے، یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ جس نے آسمان و زمین کو پیدا کردیا وہ کیا انسانوں جیسی کمزور مخلوق کو پیدا کرنے سے عاجز آجائے گا ؟ اور جب وہ قادر ہے تو یقینا انہیں مار ڈالنے کے بعد پھر وہ انہیں جلا دے گا۔ جس نے ابتدا پیدا کیا ہے اس پر اعادہ بہت آسان ہے جیسے اور آیت میں ہے (اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى ۭ بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 33؀) 46۔ الأحقاف :33) ، کیا وہ نہیں دیکھتے کہ جس اللہ نے زمین و آسمان کو بنادیا اور ان کی پیدائش سے عاجز نہ آیا نہ تھکا کیا وہ مردوں کے زندہ کرنے پر قادر نہیں ؟ بیشک قادر ہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہی پیدا کرنے والا اور بنانے والا، ایجاد کرنے والا اور خالق ہے۔ ساتھ ہی دانا، بینا اور رتی رتی سے واقف ہے۔ وہ تو جو کرنا چاہتا ہے اس کا صرف حکم دے دینا کافی ہوتا ہے۔ مسند کی حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو، تم سب فقیر ہو مگر جسے میں غنی کردوں۔ میں جواد ہوں، میں ماجد ہوں، میں واجد ہوں۔ جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔ میرا انعام بھی ایک کلام ہے اور میرا عذاب بھی کلام ہے۔ میں جس چیز کو کرنا چاہتا ہوں کہہ دیتا ہوں کہ ہو جاوہ ہوجاتی ہے۔ ہر برائی سے اس حی وقیوم اللہ کی ذات پاک ہے جو زمین و آسمان کا بادشاہ ہے، جس کے ہاتھ میں آسمانوں اور زمینوں کی کنجیاں ہیں۔ وہ سب کا خالق ہے، وہی اصلی حاکم ہے، اسی کی طرف قیامت کے دن سب لوٹائے جائیں گے وہی عادل و منعم اللہ انہیں سزا دے گا۔ اور جگہ فرمان ہے پاک ہے وہ اللہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے۔ اور آیت میں ہے کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے ؟ اور فرمان ہے (تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِهِ الْمُلْكُ ۡ وَهُوَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ ۙ) 67۔ الملک :1) پس ملک و ملکوت دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے رحمت و رحموت اور رہبت و رہبوت اور جبرو جبروت۔ بعض نے کہا ہے کہ ملک سے مراد جسموں کا عالم اور ملکوت سے مراد روحوں کا عالم ہے۔ لیکن صحیح بات پہلی ہی ہے اور یہی قول جمہور مفسرین کا ہے۔ حضرت حذیفہ بن یمان ؓ فرماتے ہیں ایک رات میں تہجد کی نماز میں اللہ کے رسول ﷺ کی اقتدا میں کھڑا ہوگیا آپ نے سات لمبی سورتیں (یعنی پونے دس پارے) سات رکعت میں پڑھیں سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر رکوع سے سر اٹھا کر آپ یہ پڑھتے تھے (الحمدللہ ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر آپ کا رکوع ایام کے مناسب ہی لمبا تھا اور سجدہ بھی مثل رکوع کے تھا میری تو یہ حالت ہوگئی تھی کہ ٹانگیں ٹوٹنے لگیں (ابوداؤد وغیرہ) انہی حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کو آپ نے رات کی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا آپ نے یہ دعا پڑھ کر پھر قرأت شروع کی (اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر ذی ذی الملکوت والجبروت والکبریاء والعظمتہ) پھر پوری سورة بقرہ پڑھ کر رکوع کیا اور رکوع میں بھی قریب قریب اتنی ہی دیر ٹھہرے رہے اور سبحان ربی العظیم پڑھتے رہے پھر اپنا سر رکوع سے اٹھایا اور تقریباً اتنی ہی دیر کھڑے رہے اور لربی الحمد پڑھتے رہے۔ پھر سجدے میں گئے وہ بھی تقریباً قیام کے برابر تھا اور سجدے میں حضور ﷺ سبحان ربی الاعلی پڑھتے رہے۔ پھر سجدے سے سر اٹھایا آپ کی عادت مبارک تھی کہ دونوں سجدوں کے درمیان بھی اتنی دیر بیٹھے رہتے تھے جتنی دیر سجدوں میں لگاتے تھے اور رب اغفرلی رب اغفرلی پڑھتے رہے۔ چار رکعت آپ نے ادا کیں سورة بقرہ سورة آل عمران سورة نساء اور سورة مائدہ کی تلاوت کی۔ حضرت شعبہ کو شک ہے کہ سورة مائدہ کہا یا سورة انعام ؟ نسائی وغیرہ میں ہے حضرت عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت ہے کہ ایک رات میں نے حضرت ﷺ کے ساتھ تہجد کی نماز پڑھی آپ نے سورة بقرہ کی تلاوت فرمائی، ہر اس آیت پر جس میں رحمت کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے رحمت طلب کرتے اور ہر اس آیت پر جس میں عذاب کا ذکر ہوتا آپ ٹھہرتے اور اللہ تعالیٰ سے پناہ طلب کرتے پھر آپ نے رکوع کیا وہ بھی قیام سے کچھ کم نہ تھا اور رکوع میں یہ فرماتے تھے (سبحان ذی الجبروت والملکوت و الکبریاء والعظمتہ) پھر آپ نے سجدہ کیا وہ بھی قیام کے قریب قریب تھا۔ اور سجدے میں بھی یہی پڑھتے پھر دوسری رکعت میں سورة آل عمران پڑھی۔ پھر اسی طرح ایک ایک سورت ایک ایک رکعت میں پڑھتے رہے۔

آیت 81 - سورہ یٰسین: (أوليس الذي خلق السماوات والأرض بقادر على أن يخلق مثلهم ۚ بلى وهو الخلاق العليم...) - اردو